Instagram

Tuesday, 7 August 2018

Syed Muhammad Ka Novel Numbar Daae Ka Nela

سیّد محمد اشرف کا ناولنمبر دار کا نیلا
پروفیسر صاحب علی، صدر شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی، ممبئی

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اردو میں یکے بعد دیگرے کئی ناول لکھے گئے۔ ان میں کچھ مقبول ہوئے توکچھ کو قبولیت کا شرف حاصل نہ ہوسکا۔کچھ ناولوں پر دیر تک گفتگو ہوئی مثلاً جوگندرپال کا ناول ”خوب رو“ ، مظہر الزماں خاں کا ناول ”آخری داستان گو“ ، حسین الحق کا ناول ”فُرات“، غضنفر کا ناول ”پانی“ ، علی امام نقوی کا ناول” تین بتّی کے راما“ اور سیّد محمد اشرف کا ناول ”نمبر دار کا نیلا“ وغیرہ ۔یوں تو مذکورہ بالا تمام ناول اہمیت کے حامل ہیں تاہم اشرف کا ناول ”نمبردار کا نیلا“اپنے موضوع ، ٹریٹمنٹ اور کردار نگاری اور زبان و بیان کے حوالے سے ، خصوصاً جانور کو بطور کردار پیش کرنے کے لحاظ سے زیادہ توجہ اور گفتگو کا تقاضا کرتا ہے۔
سیّد محمد اشرف اپنے ننھیال سیتاپور میں ۷۵۹۱ءمیں پیدا ہوئے۔ اتر پردیش کے ضلع ایٹہ کا قصبہ مارہرہ شریف ان کا آبائی وطن ہے۔ سیّد محمد اشرف ان دنوں انکم ٹیکس کے شعبے میں کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ اب تک ان کے دوافسانوی مجموعے ”ڈار سے بچھڑے“ اور ”بادِصبا کا انتظار“ شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کا ایک ناول ”نمبردار کا نیلا“ ۷۹۹۱ءمیں شائع ہوا تھا۔

فکشن میںسیّد محمد اشرف کی شروعاتی پہچان جانوروں کے پیرائے اظہار سے قائم ہوئی لیکن ان کا طرز نگارش محض جانوروں تک محدود نہیں ہے۔ ان کے یہاں ایسے کئی کامیاب افسانے ہیں جن میں جانور نہیں ہیں۔ مثلاً کعبے کا ہرن، دوسرا کنارہ اور چمک وغیرہ۔ اشرف کوکچھ ان کے خاندانی پس منظر اور کچھ ان کے فکشن میںموجود مخصوص تہذیب و معاشرہ کی وجہ سے مذہبی تمدن کا فکشن نگار بھی قرار دینے کی کوشش کی گئی لیکن اس طرح کی کوششوںکے خلاف ’لکڑ بگھا ہنسا‘ اور ’نمبر دار کا نیلا‘ جیسی تخلیقات دیوار بن گئیں۔پھر یہ کہا گیا کہ اُن کی فن کاری کا محور علامتی تکنیک ہے، تو یہاں بھی اشرف کا افسانہ ’قربانی کا جانور‘ ایک رکاوٹ بن کر کھڑا ہوگیا۔ آخر سیّد محمد اشرف کے فن کا بنیادی رویہ کیا ہے؟ ان کے دونوں مجموعوں ”ڈار سے بچھڑے“ ، ”بادِ صبا کا انتظار“ اور ناول ”نمبر دار کا نیلا“ کے مطالعہ کے بعد ان کے فن کے تعلق سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ بنیادی طور پر وہ اپنے عہد کے فرد اور معاشرے کی زوال پذیری کے نباض اور ناقد ہیں۔ اشرف کے فن کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ جس موضوع کا انتخاب کرتے ہیں اسی کی مناسبت سے کردار ، زبان اور ماحول بھی خلق کرتے ہیں۔انھوں نے فکشن میں عصری سچائیوں کے لیے علامت اور استعاروں کے درمیان سے راہ نکالی ہے۔ان کے فکشن میں معاشرہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے منفرد تکنیکی و اسلوبیاتی انداز کی وجہ سے وہ اپنے دیگر معاصرین سے ممتاز نظر آتے ہیں۔
جیساکہ اوپر مذکور ہوا ہے کہ اشرف کے طرز نگارش کو کچھ کچھ جانوروں سے بھی شغف ہے اور اشرف کا کمال یہ ہے وہ جانوروں کی خصلتوں میں انسانی کردار کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اس لیے شاید کچھ لوگوں کوگمان گزرتا ہے کہ اشرف جانوروں کو آدمی کی طرح ٹریٹ کررہے ہیں۔لیکن اشرف نے کوئی نئی پنچ تنتر نہیں مرتب کی ہے بلکہ وہ فکشن کے ذریعے انسانوں میں بسی ہوئی جانوروں کی جبلتوں کا پردہ فاش کرتے ہیں۔ناول ”نمبر دار کا نیلا“ ایک ایسا ہی ناول ہے جس میں انسان یعنی ٹھاکر اودل سنگھ اور جانور یعنی نیلا کی جبلتیں ایک دوسرے میں مدغم ہوگئی ہیں۔ ناول کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے۔

گاﺅں کے لوگ لاٹھی اور ڈنڈے کے ساتھ ارہر کے کھیت کے گرد نیلا کو پکڑنے کے لیے جمع ہیں۔ لیکن نیلا تمام لوگوں کو جُل دے کر آبادی کی طرف بھاگ جاتا ہے۔نیلا دراصل نیل گائے کا نر بچہ ہے جسے گاﺅں کے نمبر دار ٹھاکر اودل سنگھ نے پالا ہے۔ نیلا کو پالنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک دفعہ ٹھاکر کے مکان میں چوری ہوجاتی ہے اورٹھاکر کے دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ مکان کی حفاظت کے لیے کچھ ایسا انتظام کیا جائے کہ جس کی دہشت سے لوگ ٹھاکر کے مکان کی طرف بُری نگاہ ڈالنے کی ہمت نہ کرسکیں۔ ٹھاکر نیلے کو بڑی دلجمعی سے پالتا ہے۔ اس کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھتا ہے ۔ اسے چارہ اور سانی کے علاوہ تیل ، بادام اور کھوے کے لڈّو کھلاتا ہے۔اِس کھان پان سے نیلے کی صحت بہت اچھی ہوجاتی ہے ساتھ ہی اس کی روایتی جبلتوں میںکئی تبدیلیاں پیدا ہوجاتی ہےں۔ فطری طور پر جانور انسان سے خوف کھاتا ہے لیکن نیلے کے دل میں ٹھاکر اور اس کے اہلِ خانہ ، جن سے وہ مانوس ہے، کے علاوہ انسانوں کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔ یہ گاﺅں کے لوگوں کو پریشان کرنا شروع کردیتاہے۔ ابتدا میں لوگ ٹھاکر کے پاس نیلا کی شکایتیں لے کر آئے لیکن ٹھاکر اپنی مکاری اور عیاری سے نیلا کو بے قصور اور گاﺅں والوں کو ہی قصور وار ثابت کردیتا ۔ٹھاکر نے نیلے کو گائے کی نسل کا جاندار بتا کر نیلے کے تئیں لوگوں کے دل میں عقیدت بھی پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن گاﺅں والے نیلا سے بیزار تھے وہ نیلا کی عقیدت سے نہیںبلکہ ٹھاکر کی عیاری و مکاری اور رعب و دبدبے کی وجہ سے خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔

اس درمیان کہانی میں ایک اہم موڑ آتا ہے۔ ٹھاکر کا چھوٹا بیٹا اونکارپڑوس میں رہنے والی کمہار کی یتیم لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے۔ حالانکہ اونکار نے سازش تو بہت گہری تیار کی تھی تاہم کچھ عرصے بعد کمہار کی لڑکی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا ٹھاکر کا چھوٹا بیٹا اونکارہے۔وہ اپنے بہنوئی کو سب حقیقت بتاتی ہے اور اس کا بہنوئی ایک منصوبے کے تحت اونکار کو قتل کردیتا ہے۔یہاں سے ٹھاکر کا زوال شروع ہوتا ہے۔دراصل ٹھاکر کا چھوٹا بیٹا مقتول اونکار اس کے بُرے کاموں میں اس کا شریک تھا۔ ٹھاکر کو نیلا میں اونکار کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔نیلا اب پوری طرح جوان ہوچکا ہے اور اس کی شرارتیں اب گاﺅں سے نکل کر قصبے تک پہنچ گئی ہیں۔ نیلے کی اس خونخواری کے پیش نظر انتظامیہ کو فکر ہوتی ہے ۔ ٹھاکر چونکہ بااثر شخصیت کا مالک ہے اور شہر کی میونسپلٹی کا چیئر مین بھی ہے لہٰذا وہ معاملے کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ اُدھر نیلا کی وحشیانہ حرکتیں دراز ہوتی چلی جاتی ہیں۔ آخر کار عوام اور انتظامیہ کے دباﺅ میں آکر ٹھاکر نیلے کو مارنے کے لیے بظاہر تو راضی ہوجاتا ہے لیکن اندر اندر اسے بچانے کی ترکیب بھی کرتا رہتا ہے۔ وہ نیلے کو ارہر کے کھیت میں چھپا دیتا ہے۔ لوگوں کو کسی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ نیلا ارہر کے کھیت میں چھپا ہے۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے کھیت کے گرد گھیرا ڈالتے ہیں۔ نیلا کوخطرے کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ وہاں سے بھاگتا ہے۔ لوگوں کی اس پکڑ دھکڑ میں وہ زخمی ہوجاتا ہے اور زخمی ہوجانے کے بعد مزید خونخوار ہوجاتا ہے۔وہ بھاگ کر سیدھا ٹھاکر کے مکان کی طرف جاتا ہے۔ چونکہ اس کی ایک آنکھ زخمی ہوچکی تھی اور اس پر وحشت بھی سوار تھی لہٰذا اسی وحشت کے عالم میںوہ ٹھاکر کے بڑے لڑکے پرتاب کو ختم کردیتا ہے۔ اس درمیان ٹھاکر اور دوسرے لوگ بھی بھاگتے ہوئے آجاتے ہیں ۔ابھی نیلے کی وحشت اور خونخوای کم نہ ہوئی تھی۔ ٹھاکر جیسے ہی آگے بڑھا نیلے نے اُسے بھی لہولہان کردیا اور اس کی لاش کو کچلتے ہوئے کنّی کاٹ کر ٹوٹی دیوار کے راستے فرار ہوگیا۔
مذکورہ بالا ناول جس کا خلاصہ ابھی پیش کیا گیا ہے اس کی اہمیت و عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ صف اول کے ناقد شمس الرحمن فاروقی نے اس ناول کے تعلق سے کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
”بیشک اتنا عمدہ فکشن اردو تو کیا انگریزی میں بھی میں نے بہت دن سے نہیں دیکھا۔“
(رسالہ ”سوغات“ ۔ شمارہ:۱۱)

ناول ”نمبر دار کا نیلا“ کی پہلی خصوصیت اس کی زبان ہے اور کسی فن پارے کی کیفیت و قدر ناپنے کا پہلا پیمانہ زبان ہی ہوتا ہے۔ شاعری کے حوالے سے زبان کی اہمیت مسلم ہے ۔ اسی طرح فکشن کے جملہ اصناف ناول ، افسانہ یا ڈراما وغیرہ اور ان کے اجزائے ترکیبی مثلاً پلاٹ ، کردار اور بیانیہ وغیرہ یہ سارے کے سارے زبان کے رہینِ منت ہوتے ہیں۔ ناول یا افسانے کو فکشن نگار جس پلاٹ کی مدد سے تیار کرتا ہے ، وہ پلاٹ لفظوں سے تیار ہوتا ہے۔ جو کردار پیش کرتا ہے ان میں زندگی کا رنگ لفظوں کی مدد سے بھرتا ہے اور کہانی کو بیانیہ کے جس ٹریک پر چلاتا ہے وہ ٹریک بھی لفظوں کی مدد سے ہی تیار ہوتا ہے۔ گویا یہ کہ اظہار کے تمام نثری و شعری ذرائع کا وجود زبان کا متقاضی ہوتا ہے لہٰذا ادب کے تخلیقی اظہار میں زبان کی حیثیت کلیدی ہوتی ہے۔ اس ضمن میں مشرق کے قدیم تنقیدی مباحث سے بھی روشنی حاصل کی جاسکتی ہے۔مثال کے طور پر عباسی دور کے معروف ناقد ابو عثمان جاحظ کی یہ رائے ملاحظہ فرمائیں:

”اظہار کا انحصار معنی پر نہیں ہوتا بلکہ لفظ پر ہوتا ہے۔اس لیے کہ معانی تو تمام لوگوں کو معلوم ہوتے ہیں۔ اصل حسن الفاظ کا انتخاب ، ان کی ترتیب اور ان کے قالب میں پوشیدہ ہے۔ “
(اردو تنقید کی روایت اور مشرقی شعریات ۔ ص: ۲۹)
ظاہر ہے آج مابعد جدید تصور نقد میں متن کی Close Readingاور تحریر اساس تنقید کے حوالے سے جاحظ کا مذکورہ بالا لفظ اساس نظریہ معنویت کے نئے دروازے وا کرتا ہے تاہم جاحظ نے آگے چل کر متن اور معنی کی اس بحث میں ایک اور اہم نکتہ پیش کیا ہے۔:

”عمدہ معانی ہمیشہ عمدہ الفاظ کے متقاضی ہوتے ہیں۔“
(اردو تنقید کی روایت اور مشرقی شعریات ۔ ص: ۲۹)

دراصل متن اور مفہوم یا لفظ اور معنی کی اس بحث اہمیت کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ جب کوئی خیال یا تجربہ صفحہ ¿ قرطاس پر منتقل ہوتا ہے تو یہ منتقلی لفظوں کی مدد سے ہی ممکن ہوتی ہے۔لہٰذا خیال یا تجربہ کو اچھا ادب یا کم سے کم ادب بنانے میں مصنف یا شاعر کی زباندانی کا رول بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اور آپ کے لکھے ہوئے خطوط محض خطوط کے زمرے میں آتے ہیں اور غالب کے لکھے ہوئے خطوط ادب بن جاتے ہیں۔سیّد محمد اشرف کی فکشن نگاری کا اختصاص یہ ہے کہ وہ زبان کے خلاقانہ استعمال پر قدرت رکھتے ہیں۔لہٰذاان کے ناول ”نمبر دار کا نیلا“ کا مطالعہ کریں تو زبان و بیان کی کئی خوبیاں ہمیں متوجہ کرتی ہیں۔مثلاً:

” پَو پھٹنے والی تھی ۔ بیر کے درختوں میں تیتر بولا۔ نیک شگون لے کر ٹھاکر نے جھمن کی سوکھی کلائیوں میں قدرے اطمینان سے دوڑتے ہوئے خون کی رفتار کو محسوس کیااور ہاتھ کے آزاد ہونے کا جو واحد فائدہ جھمن کی سمجھ میں آیا وہ یہ کہ اب اطمینان سے جھک کر دونوں ہاتھ جوڑ سکتا تھا، اس نے یہی کیا۔“
(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۲۲)

مندرجہ بالا پیراگراف میں منظر کو پینٹ کرنے میں زبان کو خلاقی سے استعمال کیا گیا ہے۔ بیر کے درختوں میں تیتر کے بولنے کی رعایت کودو سطحوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ مرغ کی بانگ صبح کے اعلان نامہ تسلیم کی جاتی ہے لیکن عمومی طور پر صبحیں پرندوں کی چہچہاہٹ سے معمور ہوتی ہیں ۔یہاں دو رعایتیں ایک ساتھ جمع ہوگئی ہیں۔ اوّل پو پھٹنے اور تیتر کے بولنے رعیایت اور دوم صبح صادق کے وقت تیتر کی آواز سنائی دینے سے نیک شگونی کی رعایت۔ اس طرح کی رعایت لفظی و معنوی کا بہ یک وقت استعمال نثر میں خال خال ہی نظر آتا ہے۔ ایک دوسرا پیرا گراف ملاحظہ ہو۔

”لالٹین بجھ گئی تھی۔ چاندنی جالی دار کھڑکی سے چھن چھن کر آرہی تھی۔ بھابھی نے دیکھا کہ اسے بے قابو کرنے والا ابھی تک کھڑا اسے غور سے دیکھ رہا ہے اور ہولے ہولے ہانپ رہا ہے۔ وہ پیش آنے والے واقعے سے بے چین ہوکر بندھے بندھے تڑپنے لگی۔ اس کی ساڑی گھٹنوں تک اوپر سرک آئی تھی اور مدھم چاندنی میں اس کی پنڈلیاں دیوالی کی موٹی موٹی موم بتیوں کی طرح چمک رہی تھیں۔ “
(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۹۳)

صدیوں پہلے معروف فارسی مفکر اور عالم رشید الدین وطواط نے تشبیہہ کے تعلق سے شعرا کو مشورہ دیا تھا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ مشبہ کو کسی ایسی چیز سے تشبیہہ دی جائے جس کا وہم و گمان میں بھی وجود نہ ہو۔ حالانکہ تشبیہہ کی خوبی و خامی کو پرکھنے کے لیے اب وطواط کے طریقے پر ذرا کم توجہ دی جاتی ہے لیکن یہ سچ ہے کہ اس کے پیمانے سے کھرے اور کھوٹے کی پرکھ خاصی آسان ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر مذکورہ بالا اقتباس میں غیر شعوری طور پر اشرف نے پنڈلیوںکے لیے دیوالی کی موٹی موٹی موم بتیوںکی تشبیہہ استعمال کرکے وطواط کے خیالات کی تقلید کی ہے۔ واقعے کی منظر کشی میں لالٹین اور چاندنی کی موجودگی تشبیہہ کی ترسیل میں معاونت کرتی ہیں۔ پھر کردار کا ہندو مذہب سے متعلق ہونا تشبیہہ کو اور روشن کردیتا ہے۔

”وہ اگہن کا آسمان تھا اور اگہن کا آسمان نیلا ہوتا ہے۔ وہ ایسا موسم تھا کہ جاڑا تیز ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے اس موسم میں جاڑا تیز ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ سب بڑے برگد کے نیچے بیٹھے تھے کیونکہ اتنی بڑی پنچایت کے لیے گھر چھوٹا پڑتا تھا۔ برگد پر بہت سارے پرندے بیٹھے تھے اور بہت شور مچا رہے تھے کیوں کہ پرندے برگد پر بہت شور مچاتے ہیں۔ٹھاکر خاموش تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ کبھی کبھی خاموش رہنا بولنے سے زیادہ چیختا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ سرجھکائے ہوئے بیٹھے تھے کیونکہ اس پوز کے بھی کچھ خاص فائدے ہیں۔ اس وقت اچانک پنچوں نے بولنا بند کردیا سارے میں سنّاٹا چھا گیا“
(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۶۵)

ابھی جو اقتباس آپ نے ملاحظہ فرمایا وہ زبان اور بیان کی کئی خوبیوں سے معمور ہے۔ پورے پیراگراف میں اشرف نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ پہلے وہ ایک بیان دیتے ہیں اور پھر اُس کا جواز پیش کرتے ہیں۔ اس طرح کی زبان لکھنے میں مشکل ضرور پیش آتی ہے لیکن اگر لکھنے کا سلیقہ و قرینہ ہوتو ایسی زبان بلاغت کا اعجاز بن جاتی ہے۔ کیونکہ اس سے زبان میں سلاست و روانی پیدا ہوتی ہے اور رعایت کا لطف بھی۔ اس کے علاوہ اس پیراگراف میں زبان کے حسن کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں اشرف نے شور (یعنی ہرندوں کا شور)اور سنّاٹے (یعنی ٹھاکر اور پنچوں کی خاموشی) کا Contrasبھی پیش کیا ہے۔
مذکورہ بالا پیراگرافس زبان کے خلاقانہ استعمال پر دال ہیںاور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اشرف کے یہاں زبان و بیان کا سچا اور صحیح شعور ہے۔ ناول” نمبر دار کا نیلا“ تقریباً 130صفحات کا مختصر ناول ہے۔ اس ناول میں اقتدار کی ہوس اور اس کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے انسان کی خود غرضی اور سفاکی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کہانی تو بظاہر سیدھی سادی ہے کہ گاﺅں کا نمبردار ٹھاکر اودل سنگھ اپنی حویلی میں چوری کے بعد اپنی املاک کی حفاظت کی غرض سے نیل گائے کے بچہ پالتاہے:
” انھوں نے فیصلہ کیا جو بچہ بچ گیا ہے، اسے وہ پالیں گے کیونکہ اول تو یہ گو ¿ ماتا ہوتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ بڑا ہوکر اپنے سینگوں سے لہو لہان کرکے انھیں اپنے کھروں سے کچل سکتا ہے۔تیسرے یہ کہ اسے کھلانے پلانے کا کوئی خاص خرچہ نہیں ہوگا۔ کبھی کبھی اپنے کھیتوں کا چارا بھی کھالیا کرے گا۔“
(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۷۱)

نیل گائے جیسے جنگلی جانور کو سدھانا یا پالتو بنانا آسان نہیں ہوتا۔ خصوصاً ناول میں اس طرح کی سیچویشین Situation پیدا کرنے کے بعد اسے نبھانا پانا بہت مشکل امر ہوتا ہے تاہم اشرف یہ مشکل مرحلہ بہ آسانی سر کرلیتے ہیں کیونکہ جانور ان کے فکشن کا اختصاصی موضوع ہے اور وہ جانوروں کی حرکات و سکنات اور ان کی نفسیات سے کماحقہ‘ آگاہی رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ٹھاکر اودل سنگھ کا جو کردار انھوں نے خلق کیا ہے، اس کی نفسیات اور نیلا کی نفسیات میں خوبصورت تا ل میل بھی پیدا کیا ہے۔لہٰذا نیلا کو سدھانے کے طریقے کا بیان کس عمدگی سے ہوا ہے ملاحظہ فرمائیں:
”شروع شروع میں بہت دقتیں پیش آئیں۔ اول تو یہ کہ وہ وحشی تھا۔ کسی طرح بندھنے پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ پہلے اسے بھوکا رکھا گیا۔ بھوک نے اس کی وحشت کو کم کیا۔ پھر اسے خوب پیٹ بھر کر ضرورت سے زیادہ غذا دی گئی تب خوش خوری نے اس کی وحشت کو بظاہر ختم کردیا۔“(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۷۱)
یہ ناول دیہی پس منظر میں قلمبند کیا گیا علامتی ناول ہے ۔ تمام کردار زبان اور ٹیکنیک کے لحاظ سے عمدہ تاثر پیش کرتے ہیں۔ ناول میں سب سے بھرپور کردار ٹھاکر اودل سنگھ اور نیلا کا ہے۔ ناول میں کردار نگاری کے تعلق سے عموماً اس کلیہ پر عمل کیا جاتا ہے کہ کردار ہماری جانی پہچانی دنیا کے ہوں اور ان کے پاﺅں اپنی دھرتی پر مضبوطی سے جمے ہوئے اور وہ اسی دنیا کی فضا میں سانس لیتے ہوں۔ ای ۔ایم فوسٹر نے ناول میں دو طرح کے کرداروں کا ذکر کیا ہے۔ ایک Flatاور دوسرا Round۔ اس نے Flatکیریکٹر کی پہچان یہ بتائی ہے کہ ایسے کردار وں کی خصوصیات جانی پہچانی ہوتی ہیں اور یہ جب بھی ناول میں سامنے آتے ہیں تو اپنی انھی چند جانی پہچانی خصوصیات کے ساتھ آتے ہیں اور آسانی سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی و ترقی نہیں ہوتی ۔ یہ ایک طرح سے جامد صفت ہوتے ہیں۔ اگر کبھی ان کی متعینہ خصوصیات بدل جائیں تو ان کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے اور ان کی شخصیت فنا ہوجاتی ہے۔ان میں پیچیدگی اور گہرائی کم ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف Round کیریکٹر میں پیچیدگی اور گہرائی کے ساتھ بدلنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔یہ ناول نگار کے اشارے پر چلنے والی کٹھ پتلیاں نہیں ہوتے بلکہ یہ خودکار طریقے سے بڑھتے اور ترقی کرتے نظر آتے ہیں۔ فوسٹر کے ان خیالات کی روشنی میں ”نمبر دار کا نیلا“ کے دونوں مرکزی کردار ٹھاکر اودل سنگھ اور نیلا کا مطالعہ کریں تو ٹھاکر اودل سنگھ کی شخصیت میں Flatکردار کی صورت ظاہر ہوتی ہے جبکہ نیلا Roundکیریکٹر کی صورت میںہمارے سامنے آتا ہے۔

ناول میں جب جب اور جہاں جہاں ٹھاکر اودل سنگھ نظر آتا ہے وہ اپنے ، اقتدار کی ہوس ، خود غرضی اور سفاکی کے جذبے کی تصویر بن کر نظر آتا ہے۔ وہ ایسی شخصیت کا مالک ہے کہ جو اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے کسی حد تک بھی جاسکتا ہے۔ ناول میں کہیں بھی اس کی نگاہ اپنے مقاصد سے ہٹتی نظر نہیں آتی۔ نیلا کے پالنے سے لے کر اس کے خونخوار ہوجانے تک ٹھاکر اودل سنگھ کے پیش نظر صرف اس کے مقاصد ہی ہوتے ہیں۔ اشرف نے ٹھاکر کی شخصیت کو ابتدا سے لے کر آخر تک ایک سی رکھا ہے۔ ناول کی بُنت میں ٹھاکر کا کردار کچھ اس طرح فٹ (Fit) کیا گیا ہے کہ اس کے Growthیا نمو کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وہ شروع سے آخر تک Flatکردار کی نمائندگی کرتا نظر آتا ہے۔ مثلاً :
” انھوں نے فیصلہ کیا جو بچہ بچ گیا ہے، اسے وہ پالیں گے کیونکہ اول تو یہ گو ¿ ماتا ہوتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ بڑا ہوکر اپنے سینگوں سے لہو لہان کرکے انھیں اپنے کھروں سے کچل سکتا ہے۔(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۷۱)

”ٹھاکر صاحب نے زور سے آواز دے کر اپنے چھوٹے بیٹے اونکار کو بلایا۔ اس کی آنکھوں میں رات کی شراب کا خمار تھا، نیلے کو آزاد دیکھ کر اس کا خمار ٹوٹا ۔ اس نے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا۔ باپ نے چہرے پر کسی غیر ضروری جذبے کو لائے بغیر مضبوط آواز میں دھیمے دھیمے کہا: ”ایسے ہی جھمن کو رام کیا تھا بیتے سال“(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۳۲)

”ٹھاکر صاحب مسکراتے رہے۔ اس درمیان اپنے بیٹوں اور ان کے ساتھیوں کی مدد سے وہ مجمع میں یہ شوشہ چھوڑ چکے تھے کہ نیلے کو دھتورا کھلا کر وقتی طور پر پاگل کرنے والا کوئی اور نہیں ان کے قریبی مخالف محمود صاحب کا بیٹا ہے جو اپنے جرم کا اقرار انچارچ تھانہ کے سامنے کرچکا ہے۔“(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۱۷)

”تم مورکھ ہو پرتاپ! اس کا مطلب تم اس وچار کے آدمی ہوکہ گڑھی میں یا حویلی میں پہلے چور کو آنے کی چھوٹ دے دو۔ جب وہ آجائے تو چونک کر اسے پکڑ لو۔ ارے مورکھ! کوشش یہ ہونا چاہیے اور یہی کوشش میں نے کی تھی کہ ایسا نقشہ بن جائے کہ کوئی گڑھی اور حویلی میں گھسنے کا خیال بھی من میں نہ لائے“(نمبر دار کا نیلا۔ ص:۹۰۱)

ناول کے مذکورہ بالا اقتباسات کسی خاص مقصد کے تحت تلاش کرکے جمع نہیں کیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی اقتباسات کی مدد سے ٹھاکر اودل سنگھ کی شخصیت کا جو خاکہ ابھر کر سامنے آتا ہے اس میں اس کی ہوس طمع ، خود غرضی، سفاکی اور مکاری کے جذبات واضح ہیں۔ پورے ناول میں ٹھاکر کا کردار ان جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ گویا یہ کہ سیّد محمد اشرف نے ناول میں ٹھاکر کو بطور Flatکردار برتا ہے۔ اگر ٹھاکر کی شخصیت سے عیاری ، سفاکی ، خود غرضی اور ہوس کے جذبات منہا کردیئے جائیں تو ناول میں اس کی شخصیت صفر ہوکر رہ جائے گی بلکہ خطرہ تو یہ ہے کہ ناول ہی ناکام اور بے ڈول ہوجائے گا۔
اس برعکس ناول کا دوسرا مرکزی کردار نیلا پیچیدگی کا حامل ہے اور ناول میں شروع سے آخر تک ہر جگہ موجودگی درج کراتا ہے۔ دراصل غور کریں تو اس ناول میں مرکزی کردار نیلا ہی ہے اور باقی سارے کردار اس کے اِرد گرد اپنا عمل اور ردِّعمل کرتے نظر آتے ہیں۔ البتہ ٹھاکر اودل سنگھ کا کردار بقیہ دیگر کرداروں کے مقابل قدرے واضح اور ابھرا بھرا سا ہے۔ جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا ہے کہ Roundکردار کی پیچیدگی اور گہرائی کے ساتھ بدلنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ناول میں نیلاکا کردار اس پر صادق آتا ہے۔ حالانکہ نیلا کے کردار میں یہ پیچیدگی اور بدلاﺅ ناول میں آخر میں بہت شدت کے ساتھ محسوس کیا جاسکتا ہے لیکن غور کریں تو اس ترقی اور بدلاﺅ کے امکانات نیلا کے کردار میں پہلے سے موجود تھے۔خصوصاً اس کی جبلیاتی تبدیلیوں سے اس کا احساس کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً:
”اب تو کبھی کبھی ایسا بھی ہونے نگا کہ چور تو چور جو لوگ حویلی یا گڑھی میں اپنا حق لینے آتے جیسے گیہوں کاٹنے والے اپنی مزدوری کا گٹھا یا چھت پر مٹی ڈالنے والے مزدور اپنے حصے کا اناج تو ان پر بھی نیلا دوڑ پڑتا۔“ (ص:۵۲)

”ٹھاکر اودل سنگھ کسی سوچ میں پڑگئے۔ نیلے کو شہر کا راستہ تو بتایا ہی نہیں گیا تھا۔ یہ اپنے آپ کیسے آگیا؟پھر بھی انھیں دل ہی دل میں بہت خوشی محسوس ہوئی جیسے نیلے کا یہ کارنامہ ان کی ذاتی کارکردگی ہو‘(ص: ۳۵)

”اچانک وہ اپنی جگہ سے اچھلا اور تیزی سے بھاگتا ہوا جیپ سے بھی آگے نکل گیا اور راستے میں ملنے والے ہر خوانچے کو کھدیڑتا ، ہر آدمی کو ریلتا، ہر دوکان کو سینگوں سے ڈھکیلتا حویلی کی طرف بھاگا۔ راستے میں اس نے اڈّے کی مسجد سے نکلتے ہوئے بڈھے ملاجی پر کاری وار کیا۔ وہ جاکر سامنے پکّی دوکان کے چبوترے سے ٹکرائے اور سر کی چوٹ کھا کر وہیں تڑپ تڑپ کر ٹھنڈے ہوگئے۔“(ص۷۶)

مذکورہ بالا تمام پیراگراف نیلے کی پل پل بدلتی فطرت کے عکاس ہیں۔ پہلے نیلا ٹھاکر کی حویلی میں اجنبی لوگوں کو دیکھ کر ان پر دوڑ پڑتا تھا ۔ پھر کچھ عرصہ بعد نیلا اتنا ہوشیار ہوجاتا ہے کہ بغیر راستے کی پہچان کرائے آپے آپ سے ٹھاکر کے شہر والے مکان تک پہنچ جاتا ہے اور تیسرے پیراگراف میں نیلا خونخوار ہوچکا ہے۔ دراصل یہ تینوں پیراگراف نیلا کے اس Round کیریکٹر کی نشاندہی کرتے ہیں جو ناول کے اختتام میں اپنی شدت کو پہنچتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
” نیلا اُس وقت گڑھی میں تھا، حالانکہ در حقیقت وہ اس وقت قصبے میں تھا۔ وہ آموں اور امرودوں اور بیروں اور جامنوں کے ہر باغ میں تھا۔ قصبے کا ہرفرد سمجھ رہا تھا کہ نیلا کہیں اور نہیں خود اس کے دروازے سے لگا کھڑا ہے۔ بس دروازہ کھلا اور “(ص ۶۰۱)
”اس رات ایک ساتھ۲۱ وارداتیں ہوئیں۔ قصبے کے کونے والے محلے کے ایک ہی خاندان کے تین گھروں کے دروازے ٹوٹے ہوئے پائے گئے۔ بزریا کی پانچ دوکانوں کے شٹر ٹیڑھے ہوگئے تھے اور اندر کی جنس دوکانوں میں چاروں طرف بکھری ہوئی ملی تھی۔ تین پولیس والوں پر پیچھے سے کسی جانور نے اندھیرے میں حملہ کیا جو بڑے نالے کی پلیا پر بیٹھے اونگھ رہے تھے۔ میونسپل بورڈ میٹنگ کا ہال کا دروازہ توڑ کر پندرہ کرسیوں کو سینٹے کے قلم کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا تھا۔ جو وارداتیں کچی زمین پر ہوئی تھیں وہاں جانوروں کے کھروں کے نشان پائے گئے تھے“(ص: ۵۲۱)

اور آخر میں تو نیلا بالکل ہی انوکھے روپ میںسامنے آتا ہے:
”میں کچھ کہوں گا تو کہا جائے گا کہ میں نیلے کی حمایت میں بول رہا ہوں۔ آپ یقین کیجئے میں نے رات کو چیخ پکار کے بعد اپنی کھڑکی سے تین نیلے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ “ ٹھاکر نے رات کا منظر یاد کیا اور جھر جھری لے کر بولے۔“(ص:۱۳۱)

ناول کے آخری صفحات سے ماخوذ ان اقتباسات کا مطالعہ کرنے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ نیلے کا کردار خود بخود Grow کر رہا ہے ۔ناول نگار نے اس کردار کو جس راستے پر ڈالا تھا اُس پر یہ آپے آپ چلنے لگا ہے۔ ای۔ ایم۔ فوسٹر کے بیان کردہ Roundکیریکٹر کی بھی یہی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ خودکار طریقے سے بدلنے اور ترقی کرنے صلاحیت رکھتاہے۔ نیلے کی گڑھی کے ساتھ دیگر جگہوں پر موجودگی ، بہ یک وقت۲۱ دکانوں پر حملہ ٹھاکر کا ایک ساتھ تین نیلے دیکھنا اس پر دلالت کرتا ہے نیلے کا کردار اپنی ابتدا سے کتنا الگ اور کتنا بدل گیا ہے۔ ناول کے دونوں مرکزی کرداروںکی دو متضاد صفت یعنی Flatاور Round کے ساتھ موجودگی سیّد محمد اشرف کی فن کا ری و مشاقی کا نمونہ ہے۔

غرض کہ ”نمبر دار کا نیلا“ علامتی پیرایہ ¿ اظہا ر میں فرد اور سماج کے زوال کا نوحہ پیش کرتا ہے۔ ناول میں علامتی انداز کے باعث اس کی تفہیم ایک سے زیادہ سطحوں پر کی جاسکتی ہے۔دو سطحیں تو بالکل سامنے کی ہیںیعنی یہ ناول آج کے عہد کی سیاست میں وحشت و بربریت کی مثال بھی ہے اور انسان کے اندر موجود ازلی ہوس و خود غرضی اور مکاری و سفاکی پر تازیانہ بھی۔ اس کے علاوہ ناول کی تفہیم باطنی و خارجی دونوں سطحوں پر ممکن اور مکمل ہے۔