Instagram

Tuesday, 30 October 2012

ڈاکٹر شرف النہار کی قلمی نگارشات کا مجموعہ ’’قلم گوید کہ من شاہِ جہانم



ڈاکٹر شرف النہار کی قلمی نگارشات کا مجموعہ
’’قلم گوید کہ من شاہِ جہانم ‘‘
٭ ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی ، مالیگاؤں

دنیاے اردو ادب میں خواہ و ہ نثر ہو یا نظم ، مردوں کے شانہ بہ شانہ مستورات نے بھی اپنی فکر و نظر کی جولانیاں بکھیری ہیں۔ ان میں رشید جہاں، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، خدیجہ مستور، جیلانی بانو، پروین شاکر، ترنم ریاض اورکشور ناہید وغیرہ کے نام نمایاں طور پر لیے جاتے ہیں ۔ عصرِ رواں میں شاعری، افسانہ ، ناول اور فکشن سے دو قدم آگے تنقید و تحقیق جیسے دقت طلب میدان میں اپنی کام یابی و کام رانی کے پرچم بلند کرنے والی مستورات میں محترمہ ڈاکٹر شرف النہار صاحبہ کا شمار یقینا کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر شرف النہاربڑی خلیق منکسرالمزاج اور حُسنِ گفتار و کردار کی حامل، خلوص و محبت کی پیکر خاتون ہیں۔ میں نے موصوفہ کی نگرانی میں شہزادۂ امام احمدرضا مفتیِ اعظم علامہ مصطفی رضا نوریؔ بریلوی کی نعتیہ شاعری کے حوالے سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی تکمیل کی ہے۔ میرے مقالۂ تحقیق کی رہِ نُمائی کا فریضہ آپ نے ’’نہ ستایش کی تمنا نہ صلہ کی پروا‘‘ کے مصداق ایک عبادت سمجھ کر انجام دیا ہے ۔ آپ کے مشفقانہ و مخلصانہ رویوں اور کرم نوازیوں کو مَیں لفظوں کا جامہ پہنا کر بیان کرنے سے قاصر ہوں۔
آپ کی ولادت بریلی شریف کے ایک سادات گھرانے میں ہوئی ۔ وہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔بعدازاں روہیل کھنڈ یونی ورسٹی سے بی۔اور ایم۔ اے کیا ۔ کان پور یونی ورسٹی سے بی۔ ایڈ کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ایم۔ فل میں نمایاں کام یابی حاصل کی۔ اور اسی یونی ورسٹی سے پروفیسر خورشید احمد کی نگرانی میں ’’اردو میں مراٹھی ادب کے تراجم‘‘ عنوان کے تحت پی۔ ایچ۔ ڈی ۔ کا مقالہ قلم بند کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازی گئیں۔ جاننا چاہیے کہ شمالی ہندوستان کی غیر مراٹھی علاقے سے تعلق رکھنے والی اس محققہ کو اپنے پیـ ایچ ۔ڈی کے مقالے کی تکمیل کے لیے کن دشواریوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا اس کو وہی بہ خوبی جان سکتی ہیں۔ مہاراشٹر اردو اکیڈمی کو چاہیے کہ موصوفہ کے مقالے کی اشاعت ہی کا کوئی سامان پیداکردیں تاکہ اردو میں مراٹھی ادب کے تراجم کے حوالے سے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں ہوئے اس گراں قدر تحقیقی کام سے اہلِ مہاراشٹر ہی نہیں بل کہ دنیاے ادب بھی کما حقہٗ مستفیض ہوسکے۔
ڈاکٹر شرف النہارصاحبہ کو فکشن ، تحقیق و تنقید اور شاعری سے گہرا لگاؤ ہے۔ ان میں بالخصوص تحقیق و جستجو سے آپ کی دل چسپی قابلِ تحسین ہے۔ ۱۹۹۷ء میں قیامِ علی گڑھ کے دوران آپ کااشہبِ قلم فکشن اور شاعری کے ساتھ ساتھ تحقیق و تنقید کے میدان میں بڑی تیز رفتاری سے دوڑتا رہا ۔ چناں چہ ایک مرتبہ موصوفہ کے استاذ مشہور ادبی شخصیت پروفیسر ابولکلام قاسمی نے آپ سے کہا تھا کہ :’’ کیا بات ہے آپ تو آج کل ہر رسالے میں زندہ ہیں۔‘‘
ڈاکٹر شرف النہارنے دیانند ڈگری کالج ، کان پور سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا، ۱۹۹۴ء سے۱۹۹۷ء تک علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو سے منسلک رہیں۔ آج کل ڈاکٹر رفیق زکریا کالج فورویمن ، نوکھنڈا ،اورنگ آباد کے شعبۂ اردو کی صدارت پر متمکن ہیں۔ علاوہ ازیں مہاراشٹر ہسٹوریکل ریسرچ سوسائٹی، اورنگ آباد کی جوائنٹ سکریٹری اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونی کے بورڈ آف اسٹڈیز کی رکن کے ساتھ ساتھ مذکورہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو کی ریسرچ گائیڈ بھی ہیں۔
ڈاکٹر شرف النہارصاحبہ ملازمت کے ساتھ اپنا تصنیفی و تالیفی سفر بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔’’ پنڈت سدرشن کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ ‘‘اور’’پنڈت سدرشن کے منتخب افسانے ‘‘ کے بعد طویل سکوت کو توڑتے ہوئے ۔ دنیاے ادب میں اپنی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں کے اظہاریہ کے طور پر اپنے مقالات کا اولین مجموعہ’’ قلم گوید کہ من شاہِ جہانم ‘‘ لے کر حاضر ہوئی ہیں۔ ۱۸۰؍ صفحات پرمبنی ۱۰؍ گراں قدر تحقیقی و تنقیدی مقالات کا یہ مجموعہ ۲۰۰۹ء میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی سے شائع ہوا ہے۔ اس وقت میری مشفق معلمہ ڈاکٹر شرف النہار صاحبہ کا یہی مجموعۂ مقالات میری تبصراتی کاوش کا عنوان ہے۔
’’قلم گوید کہ من شاہِ جہانم‘‘ کا دریچۂ تحقیق و تنقید اورنگ آباد کے مشہور شعرا ولیؔ اور سراجؔ کے حوالے سے وا ہوتا ہے۔ ولیؔ جنوبی ہندوستان کی پُرفضا بستی اورنگ آباد سے اٹھنے والے وہ عظیم شاعر گذرے ہیں جن کی شعری عظمت و رفعت کے ترانے شمالی ہند کے لوگوں نے بھی بڑی فراخ دلی سے گائے ہیں۔ ڈاکٹر شرف النہارنے اس مقالے میں ولیؔاور سراجؔ کے شعری مزاج ، طرزِ خاص کی انفرادیت ، ولیؔ کے اجتہادی فکر کے جلومیںسراجؔ کے تہذیبی رویوں کو واضح کرنے کی کام یاب کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی دونوں کے افکار میں پیوست تصوفانہ رجحانات کی یکسانیت کو مثالوں اور حوالوں سے آراستہ و مزین کرتے ہوئے دونوں کے کلام کا لسانی اور اسلوبیاتی سطح پر جائزہ بھی لیا ہے ۔ڈاکٹر شرف النہار نے یہ مقالہ دکن مسلم ایجوکیشن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، پونے میں منعقدہ سیمی نار ۲۰۰۴ ء پیش کیا تھا۔
دوسرا مقالہ ’’حالیؔ کا ذہنی سفر… مناجاتِ بیوہ کے پس منظر میں‘‘ ہے ۔ جسے موصوفہ نے فروری ۲۰۰۴ء میں اودگیر ، مہاراشٹر کے ایک قومی سیمی نار میں سنایا تھا۔ اردو شاعری کے جدید رنگ و آہنگ کو عام کرنے میں خواجہ حالیؔ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں ۔ انھوں نے تفریحی اور عاشقانہ شاعری کی بہ نسبت مصلحانہ شاعری کا نعرہ بلند کیا اور ایسی شاعری کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جس کے ذریعہ معاشرے کی اصلاح کا کام لیاجاسکے۔ ڈاکٹر شرف النہارنے ’’مناجاتِ بیوہ‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے حالی کے اسی نظریے کی وضاحت و صراحت کی ہے ۔ موصوفہ کے بہ قول :’’ مناجاتِ بیوہ حالیؔ کے بیدار ذہن کی ایسی صداے دل دوز ہے جس نے بیواوں کے تئیں ہندوستانی اذہان میں حرکت پیدا کرنے کاکام انجام دیاہے۔‘‘
شعبۂ اردوڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکرمراٹھواڑہ یونی ورسٹی ، اورنگ آباد کی طرف سے ۲۸؍ جنوری ۲۰۰۸ء کو ’’اردو نظم روایت و ارتقا ‘‘پر ایک قومی سیمی نار کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکٹر شرف النہار صاحبہ کو قاضی سلیم کی شاعری پر اظہارِ خیال کا موقع دیا گیا۔ ’’قلم گوید کہ من شاہِ جہانم‘‘ کا تیسرا مقالہ’’ قاضی سلیم کی شاعری … انسانی حسّیت کی ترجمان‘‘ اسی سیمی نار کی یادگار ہے۔ اس مقالہ میں ڈاکٹر موصوفہ نے آزاد نظم نگار شعرا میں قاضی سلیم کی اہمیت اور انفرادیت کو اجاگر کیا ہے اور ان کی نظموں کے حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ قاضی سلیم کی شاعری عصری حسیت سے ہم آہنگ انسانی درد و کرب کو اپنے اندر سمیٹتے ہوئے ان کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ قاضی سلیم کی شاعری کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے موصوفہ راقم ہیں کہ:’’ اس میں زندگی کی تلخ حقیقتوں کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ خالقِ کائنات کی کرشمہ سازیوں کی جانب غور و فکر کرنے کے اشارے بھی ملتے ہیں۔‘‘
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ڈاکٹر شرف النہارکا مادرِ علمی بھی ہے اور آپ نے یہاں کے شعبۂ اردو میں کئی سال بسر کیے ہیں اس لیے وہ سر سید کی تعلیمی و اصلاحی خدمات سے متاثر ہیں۔ پیشِ نظر مجموعہ کا چوتھا مقالہ ’’ سرسید بہ حیثیت مصلح‘‘ ہے جس میں سرسید کے اصلاحی کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے موصوفہ نے واضح کیا ہے کہ سر سید کی شخصیت دوتہذیبوں کے تصادم اور اس ٹکراؤ سے ابھرنے والے ہر قسم کے حالات کی چشم دید گواہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مقالے میں سرسید کے فکر وخیال اور جہد دعمل کے چند اہم گوشوں کو اجاگر کیاگیا ہے۔ اس مقالے کے بعض مندرجات سے اختلاف کیاجاسکتا ہے ۔ یہ مقالہ ڈاکٹر موصوفہ نے جولائی ۲۰۰۸ء کو سرسید کالج اورنگ آباد میں منعقد سیمی نار میں پڑھا تھا۔
پانچواں مقالہ ’’ امراو جان ادا… سماجی تنقید کا آئینہ دار‘‘ ہے ۔ یہ مقالہ نیشنل اردو کانفرنس ، پربھنی کے لیے ۲۰۰۴ء میں منصۂ شہود پر آیا۔ مرزاہادی رسواؔکاناول  ’’امراوجان ادا ‘‘ جسے حقیقت نگاری کی ترجمانی میں اردو ادب کا سب سے پہلا کام یاب ناول تسلیم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شرف النہار نے اس مقالے میں مرزا رسوا ؔکے فکر و فن کا احاطہ کرتے ہوئے انسانی مزاج کے نفسیاتی پہلووں کو تجزیاتی فن کے ساتھ دل چسپ انداز میں اجاگر کیا ہے۔ موصوفہ کے مطابق مرزا رسواکایہ :’’ ایک ایسا ناول (ہے )جو سماجی تنقید کی آئینہ داری کرتے ہوئے انسانی زندگی کے کرب کو پوری طرح ظاہر کرتا ہے۔‘‘
منشی پریم چند کا شمار ان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے ہندوستان کی دیہی زندگی کے درد و کرب کو حقیقت کے پس منظر میں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر شرف النہارکے موے قلم سے نکلا ہوا مقالہ ’’ پریم چند کے افسانوں میں ہندوستانی دیہی زندگی کا عکس‘‘ اس مجموعے کا چھٹا مقالہ ہے۔ اس میں ڈاکٹر موصوفہ نے پریم چند کے نقطۂ نظر اور ان کے افسانوں کی اس خصوصیت پر روشنی ڈالی ہے کہ پریم چند حقیقت پسند نقطۂ نظر رکھتے تھے اور انھوں نے ہندوستان کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے درد و کرب اور مسائل کو اپنے افسانوں میں جگہ دیتے ہوئے اپنے فکر و قلم کے ذریعہ ایک قومی خدمت انجام دی ہے۔
ڈاکٹر شرف النہارکے تحقیقی و تنقیدی مضامین پر مشتمل اس مجموعے میں شامل مقالات ’’دبستانِ پریم چند کے افسانوں میں تحریکِ آزادی کے عناصر‘‘ -   ’’(اوپندرناتھ) اشک کی افسانوی زندگی کی کہانی … کچھ ان کی کچھ میرے قلم کی زبانی‘‘ اور’’ احمد ندیم قاسمی کے افسانوں میں سہ رنگی عناصر‘‘ بھی اپنے موضوع کا مکمل احاطہ کرتے ہیں ۔ ان مقالات میں بھی ڈاکٹر شرف النہارصاحبہ نے اپنی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوںکو بروے کار لاکر موضوع کا حق ادا کرنے میں کام یابی حاصل کی ہے۔ خصوصاً مقالہ’’(اوپندرناتھ) اشک کی افسانوی زندگی کی کہانی … کچھ ان کی کچھ میرے قلم کی زبانی‘‘ تو بڑا دل چسپ ہے جسے موصوفہ نے ان کے فن سے متاثر ہوکر افسانوی رنگ و آہنگ میں قلم بند کیا ہے ۔ جس کے بارے میں وہ راقم ہیں کہ :’’ یہ مضمون میری ذاتی پسند کا وہ حصہ ہے جسے افسانوی رنگ دے کر لکھا گیا ہے۔ ‘‘
اس مجموعہ میں شامل آخری مقالہ ’’ قلم گوید کہ من شاہِ جہانم‘‘ ایک شاہ کار قرار دیا جاسکتا ہے جو کہ مشہور ادیبہ قرۃ العین حیدر پر لکھا گیا ہے۔ اس بسیار نگار حاذق ادیبہ کو ڈاکٹر شرف النہار نے بہت گہرائی سے پڑھا اور پرکھا ہے ۔ اس مقالے میں آپ نے قرۃ العین حیدر سے اپنی ملاقات ، بات چیت اور عینی صاحبہ کی شخصیت اور فکر وفن کے مختلف گوشوں کو افسانوی انداز میں خراجِ محبت کے طورپیش کیا ہے۔ ڈاکٹر موصوفہ اس مشہور ادیبہ کے ادبی کارناموں سے کافی متاثر ہیں شاید اسی لیے آپ نے اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالات کے اس اولین مجموعہ کا نام قرۃ العین حیدر پر لکھے ہوئے اپنے مقالے کے عنوان ’’ قلم گوید کہ من شاہِ جہانم‘‘پر ہی تجویز کیا ہے۔
ڈاکٹر شرف النہار کا یہ مجموعۂ مضامین و مقالات زبان و بیان ، طرزِ نگارش اور اسلوبیاتی لحاظ سے بھی بڑا دل کش اور پُر تاثیر ہے۔ زبان نہایت رواں دواں ، شگفتگی اور سلاست کی آئینہ دار ہے۔ موصوفہ کی تجزیہ نگاری اور تنقیدی شعور مستعار نہیں بل کہ خود تخییلی ہے۔ چوں کہ آپ شاعرہ اور فکشن رائٹر بھی ہیں اس لیے آپ کے مقالات میں افسانوی رنگ و آہنگ کی گہری پرچھائیاں ابھرتی ہیں جس کی وجہ سے مضمون کے اختتام تک قاری کی دل چسپی برقرار رہتی ہے۔ ’’قلم گوید کہ من شاہِ جہانم‘‘ اور آپ کے دیگر مضامین و مقالات کے مطالعہ کے بعد مجھے آپ کو ایک صاحبِ طرز ادیبہ اور معتبر ناقدہ کہنے میں باک نہیں۔ غرض یہ کہ آپ نے اپنی دل نشین مقالہ نگاری سے یہ ثابت کردیا ہے کہ تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی دل چسپ اور دل پذیر اسلوب میں لکھے جاسکتے ہیں ۔ آپ نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ہے ان سے متعلق ضروری باتوں کا مکمل احاطہ کرنے میں کام یابی حاصل کی ہے۔ کسی بھی مقالے میں غیر ضروری ابحاث کو جگہ نہیں دی ہے اور نہ ہی حوالوں کی جابہ جا کثرت سے آپ نے اپنی تحریر کو بوجھل ہونے دیا ہے ۔ المختصر یہ کہ ڈاکٹر شرف النہار صاحبہ کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کایہ مجموعہ ’’قلم گوید کہ من شاہِ جہانم‘‘ ادب کے طلبہ واساتذہ کے لیے معلومات افزا، بے حدمفید اورنہایت کارآمدہے۔ اس کے مطالعہ سے ادب کے طالب علم اپنے ادبی ذوق کی تسکین کا بھرپور سامان مہیا کرسکتے ہیں۔     
       ۱۴؍ اکتوبر ۲۱۱ء بروز جمعہ

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg