Instagram

Tuesday, 30 October 2012

ڈاکٹرمُشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری اصحابِ نقد و نظراور مبصرین کے سوچ کینوس پر



ڈاکٹرمُشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری اصحابِ نقد و نظراور مبصرین کے سوچ کینوس پر

       ٭’’لمعاتِ بخشش‘‘محمد حسین مُشاہدؔ رضوی(مالیگاؤں،ناسک ،مہاراشٹرا) کے خوشبو بھرے کلام کا مجموعہ ہے۔اچھے نعتیہ کلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مطالعہ کرتے ہوئے کلام کی خوشبو وجود کے اندر سرایت کرنے لگتی ہے۔یہ دیوانِ نعت ہے،چوں کہ یہ دیوان دنیا کی عظیم ترین شخصیت کے آہنگ سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اس میں کچھ ایسی سحر انگیز کیفیتیں پیدا ہوگئی ہیں جو متاثر کرتی ہیں۔
       محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کے نعتیہ کلام میں فکر و نظر کی جو پرچھائیاں اُبھرتی ہیں وہ شاعر کے سوز و گداز اور کیف و سرمستی کی دین ہیں۔مجھے یقین ہے کہ محمد حُسین مُشاہد رضوی کا یہ دیوانِ نعت خوب مقبول ہوگا۔
                                  پروفیسرڈاکٹرشکیل الرحمن باباسائیں(ممتاز محقق،ناقد و دانشور)،ہریانہ۲۸؍ جولائی  ۰ ۲۰۱ ؁ء بروز سنیچر
       ٭’’ جناب محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کا نعتیہ دیوان’’لمعاتِ بخشش‘‘ ملا ، کتاب بہت خوب ہے۔ میں نے اسے جگہ جگہ دیکھا ۔ بہت متاثر ہوا۔ ایسے پُرخلوص کلام کے لیے میری طرف سے مبارک باد قبول کریں ۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب توشۂ آخرت میں اضافہ کی باعث ہوگی۔ آپ نے کتاب کا نام ایسا رکھا ہے کہ امام احمد رضا خان صاحب علیہ الرحمہ کے مجموعے ’’حدائق بخشش‘‘ کا خیال آتا ہے گویا آپ نے ان کے کلام سے فیض اٹھایا ہے، جو بہترین بات ہے۔‘‘
ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی(الٰہ آباد)،۱۳؍مئی۲۰۱۱ء
       ٭’’محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کا بہت قیمتی تحفہ’’لمعاتِ بخشش ‘‘موصول ہوا۔آپ کا نعتیہ کلام پڑھ کر ایمان تازہ ہوگیا۔بلاشبہ مُشاہدؔرضوی کے کلام میں ایک سچے عاشقِ رسول(ﷺ) کے جذبات و احساسات نمایاں ہیں۔نعت لکھنا کتنا مشکل ہے وہ سب جانتے ہیں،لیکن جب عقیدت ہو،عشقِ رسول(ﷺ) کا جذبہ ہو، تو ایسے ہی خوب صورت اشعار نکلتے ہیں جیسے کہ’’لمعاتِ بخشش‘‘ میں ہیں ۔ خدا کرے کہ آپ اسی طرح اور بھی کئی مجموعہ پیش کرسکیں کہ دل میں نبی(ﷺ) کا پیار ہوتو خدا غیب سے صلاحیتیں عطا کردیتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر سیفی سرونجی(مدیرِ اعلاسہ ماہی انتساب،سرونج،مدھیہ پردیش)
       ٭’’لمعاتِ بخشش‘‘ کی عنایت کے لیے ممنون ہوں۔خلوص و عقیدت سے معمور آپ کی حمدیہ و نعتیہ شاعری کو بارگاہِ ایزدی و حضورِ رسالت مآب(ﷺ) میں شرفِ قبولیت حاصل ہو۔
       آپ نے حمد و نعت گوئی کی روایتوں کی پاس داری کا خاصا اہتمام کیا ہے۔کہیں کہیں زبان و بیان کی خامیاں رہ گئی ہیں ،مگر کہیں کہیں بڑی خوبی و پختگی کا بھی احساس ہوتا ہے ۔‘‘
عبدالاحد سازؔ(ممبئی)،۲۴؍ اگست ۲۰۱۰ء
       ٭’’جن دنوں میں ناسک کے تبلیغی دورے پر تھا، تبھی میری ملاقات مُشاہدؔ سے ہوئی۔ صورت سے مولوی نظر آنے والے مُشاہدؔ سیرت سے بھی مولوی ہیں۔پیشہ سے استاد ہیں اس لیے سماج کی تعلیم و تربیت ان کی عادت بنی ہوئی ہے۔ ایک اسلامی تحریک سے وابستہ ہونے کے سبب نیکیاں بانٹنے کا جذبہ ان میں بدرجۂ اتم پایا جاتا ہے۔ پڑھے لکھے آدمی ہیں ۔اچھے لوگوں کی صحبت اٹھائی ہے ۔اس پر طرّہ یہ کہ نعتیہ شاعری کا بھی شوق ہے۔شعر کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں ۔ اس وقت میرے سامنے مُشاہدؔ رضوی کی نعتوں کا ایک مسودہ ہے اور ان کا اصرار ہے کہ میں ان کی شاعری کے بارے میں اپنی راے کا اظہار کروں۔
       شاعری ایک وجدانی کیفیت کا نام ہے۔یہ ایک فرد کا خالصتاً ذاتی معاملہ ہے۔ یہ اور بات کہ وہ اپنے وارداتِ قلبی کو دوسروں پر کھول دے اور اپنے نفسیاتی تجربوں میں اوروں کو بھی حصہ دار بنائے۔مُشاہدؔ رضوی اردو ادب میں ایم ۔ اے۔ کے بعدپی۔ ایچ۔ ڈی۔ کر رہے ہیں جو اُن کے علمی و ادبی سفر کا یقیناً ایک اہم پڑاؤ ہے۔یہاں مجھے علامہ کوکب نورانی کے یہ الفاظ یاد آتے ہیں  :  ’’ہر عالم شاعر نہیں ، اور ہر شاعر عالم نہیں ہوتا۔‘‘ میں خود ایسے کئی اردو داں حضرات کو جانتا ہوں جو اردو میں پی ۔ ایچ ۔ ڈی۔ ہیں مگر ایک مصرع موزوں کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اسی لَیے میں نے کہا ہے کہ شاعری ایک وجدانی کیفیت کا نام ہے۔مُشاہدؔ رضوی ان مستثنیات سے ہیں جہاں ایک شخص عالم بھی ہوتا ہے اور شاعر بھی۔ شاید اسی کو علم اور فضل کا امتزاج کہا جاتا ہے۔‘‘
سید آلِ رسول حسنین میاں نظمی مارہروی ، ممبئی ، ۸؍ رمضان المبارک ۱۴۲۸ھ
       ٭’’مجھے دلی خوشی ہوئی کہ ۲۱؍برس کا نوجوان اتنی اچھی اردو اتنی صحیح نثر اور ایسی پیاری نعتیہ شاعری لکھنے پر قادر ہے  :
اللہ! کرے زورِ قلم اور زیادہ(آمین بجاہ الحبیب الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)
       فنِ نعت کسبی نہیں وہبی ہے ،یہ صرف عطائے الٰہی سے حاصل ہوتا ہے ۔البتہ تکنیکی نوک پلک درست کرنے کے لیے مشق اور مطالعہ ضروری ہوتا ہے ۔قرآنِ عظیم اور احادیثِ کریمہ کے علاوہ مدارج النبوۃ (شیخ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ والرضوان)اور حدائقِ بخشش کا مطالعہ رکھیں،یہ بہت کافی ہوگا ۔ زندگی میں اگر دس نعتیں بھی ایسی ہو گئیں جو منھ سے نکلیں اور دلوں پر بسیرا کرلیں تو سمجھیے آپ اس میدان میں کامران ہیں۔‘‘
سید محمد اشرف قادری برکاتی،( انکم ٹیکس کمشنر ،دہلی و ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ یافتہ ممتاز فکشن رائٹر ،ستمبر ۲۰۰۰ء
       ٭’’آپ کا نعتیہ دیوان’’لمعاتِ بخشش‘‘ موصول ہوا۔موبائل کے ذریعہ رابطے کی کوشش ناکام رہی۔آپ نے حدائقِ بخشش،سامانِ بخشش،قبا لۂ بخشش،ابرِ بخشش،سفینۂ بخشش کی طرح ’’لمعاتِ بخشش‘‘کے حوالے سے ’’بخشش‘‘ کے جس نورانی و عرفانی قافلہ میں شامکل ہونے کی سعی کی ہے وہ لایقِ تحسین و آفرین ہے۔اتنی کم عمری میں ایسی عمدہ لفظیات،پختہ اسلوب،اعلیٰ فکر اور پاکیزہ تخیل اہلِ ذوق کو یقینا متاثر کرے گا۔عقیدت کے ساتھ شعریت پر مزید توجہ دیں۔’’لمعاتِ بخشش‘‘ جیسے خوب صوت نعتیہ دیوان کی اشاعت پر میری طرف سے ہدیۂ تہنیت قبول فرمائیں۔
       آپ نے میرے شیخِ طریقت مفتیِ اعظم قدس سرہٗ کی نعتیہ شاعری پر ڈاکٹریٹ کے لیے مقالۂ تحقیق کی تکمیل کر لی ہے،اس خبر نے شاد کام کیا۔اللہ عزوجل آپ کے جملہ نیک عزائم کو مکمل فرمائے(آمین)۔میری معلومات کے مطابق حضرت مفتیِ اعظم کی نعت گوئی پر یہ پہلی ڈاکٹریٹ ہوگی۔ان شآء المولیٰ تعالیٰ آپ کا یہ تحقیقی کام ایک نئے باب کو وا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔‘‘
(علامہ) یٰٓس اختر مصباحی (دارالقلم دہلی)۱۰؍ جولائی  ۰ ۲۰۱ ؁ء بروز سنیچر
       ٭’ ’لمعاتِ بخشش‘‘صوری لحاظ سے خوب صورت تو ہے ہی،معنوی لحاظ سے بھی عمدہ ہے۔عشقِ رسول(ﷺ) کی وارفتگی،تخیل کی پاکیزگی،دل کش لفظیات کے استعمال میں تازگی و طرفگی جیسے عناصر مُشاہدؔ رضوی کے کلام کے توصیفی پہلو ہیں۔آرزوؔ صاحب حیات ہوتے تو ضرور کچھ نہ کچھ لکھتے،اب وہ نہیں رہے۔اللہ اُن کی مغفرت فرمائے(آمین)۔‘‘
فخرعالم(لٹرری اسسٹنٹ ڈاکٹر مختارالدین احمد آرزوؔ،علی گڑھ)۶؍ جولائی ۲۰۱۰ء
       ٭’’آپ کی نعتوں منقبتوں کامجموعہ’’ لمعاتِ بخشش‘‘باصرہ نواز ہوا۔پڑھ کر ایمان تازہ کیا،شروع سے اخیر تک پڑھتا رہا،اتنی کم عمری میں یہ شعری مقدس ذخیرہ ماشآء اللہ خوب سے خوب تر ہے۔
       میاں مُشاہدؔ ! ابھی آپ کو بہت کچھ لکھنا ہے،قبلہ اشرف میاں نے صحیح کہاہے،کہ ’نعت گوئی کسبیؔ نہیں وہبیؔ ہے۔‘یہ سچ ہے کہ آپ نے اعلیٰ حضرت اور مفتیِ اعظم علیہم الرحمۃ کے کلام کا دل سے مطالعہ کیا ہے،آپ پر قبلہ نظمی میاں دامت برکاتہم القدسیہ کا سایۂ التفات ہے۔کسی عظیم کے قدموں میں رہ کر سر اوٗنچا کیا جاسکتا ہے۔محترم ازہری میاں دامت برکاتہم القدسیہ آپ کے پیرِ طریقت ہیں ، آپ قسمت والے ہیں ،اُن کی خدمت میں جائیے تو یہ دونوں مصرعے تمناے قدم بوسی کے بعد نذر کردیں   ؎
عقیدت کا لہکتا ہی رہے گا گلستاں اپنا
ہے جس کا عزم مستحکم وہی ہے باغباں اپنا
دعائیں ہیں کہ آپ صحت و سلامتی سے ہوں ،دین و ملّت کی خدمت میں، سنّیت کا پرچم لہراتے رہیں،سرزمینِ مالیگاؤں ہمیشہ سے دین و ادب،شریعت و طریقت،نظریاتِ اعلیٰ حضرت ،سچی سنیت کا گہوارہ رہا ہے ان شآء اللہ تاحشر رہے گا، ابھی کچھ کمیاں ہیں بزرگوں کے فیضان سے سب ٹھیک ہوگا۔‘‘                                             فقیر بیکل اُتساہی غفرلہٗ ،۲۵؍ستمبر ۲۰۱۰ء بلرامپور
       ٭’’ لمعاتِ بخشش‘‘کی شاعری سے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ارادتِ مُرشد کا اظہار شاعرانہ لطافتوں کے جِلو میں عالمانہ رفعتوں کا حامل بھی نظر آتا ہے۔ شاعر کی دینی اور مسلکی فکر اس کے ایک ایک شعر سے مترشح ہے جس کے پُرخلوص ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ نعت و منقبت کی شاعری جس تقدیس وتکریم کی متقاضی ہے، شاعر اس کے عُلو سے کما حقہٗ واقف ہے اور کسی اظہاری سطح پر اس سے انحراف شاعر کو گوارہ نہیں۔
       محمد حسین مُشاہدؔ رضوی اپنے شعری اور فکری اظہار میں نظریاتی مسلکی پابندیوں سے پوری طرح وابستہ اور پیوستہ ہیں جس کا برملا اظہار ’’لمعاتِ بخشش‘‘ کی شاعری میں کیا گیا ملتا ہے۔ نظریاتی وابستگی ، وہ دینی ہو کہ لادینی، اچھے سے اچھے شاعر کو اپنی حدود سے باہر جانے نہیں دیتی جس کے نتیجے میں شعری اور لسانی اظہار مخصوص لفظیات اور اسلوب کا بھی لامحالہ پابند ہوجاتاہے، مُشاہدؔ بھی اس سے مبرّا نہیں ۔ انھیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کریں۔ ‘‘
سلیم شہزاد(ممتاز ناقد ومحقق)۱؍ نومبر ۲۰۱۰ئ، مالیگاؤں
       ٭’’عنوان کے ذیل کا شعر   ؎          
چمک جائے مرا ظاہر مرا باطن مرے آقا
منور قلب ہوجائے مرا لمعاتِ بخشش سے
       ایک عجیب طرح کی کشش رکھتا ہے اور متاثر کرتا ہے ، پڑھنے کے بعد بے ساختہ آمین کہی،  اس عمر میں ایسی بلند و پاکیزہ شاعری کم لوگوں کو میسر ہوئی ہے آپ خوش بخت ہیں۔ دعا کرتا ہوں کہ خدا کرے جو کچھ آپ کی زبان کہتی ہے اسی انداز سے آپ کے اعمال بولنے لگیں تو آپ کا کلام ہی نہیں آپ کی پوری ذات ، آپ کی تمام حرکات و سکنات ایک دنیا کے لیے نمونۂ عمل بن جائیں ۔‘‘
ناوکؔ حمزہ پوری(بہار)۲۲؍ ستمبر۲۰۱۰ء
       ٭’’لمعاتِ بخشش‘‘ عصرِ حاضر کے نعتیہ ادب کی تاریخ میں ایک نادر اور عمدہ اضافہ ہے، جس میں شاعرِ موصوف نے اپنی عقیدت و محبت کو ایک مخصوص اندازِ فکر ، طرزِ اسلوب اور لامحدود ذوقِ ادب کو سہل زبان میں پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ مُشاہد ؔ رضوی کے کلام میں عظمتِ رسول ، شخصیتِ رسول، عنایتِ رسول، فضائلِ رسول، شمائلِ رسول ، خصائلِ رسول اور وقارِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ پروردگارِ عالم جل جلالہٗ کی رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر لا محدود عنایات کی بارش اور عطاشدہ لامحدود رفعت و منزلت کا شاعرانہ اور فن کارانہ طور پر علاماتی اظہار ملتا ہے ۔ مُشاہدؔ کو فنِ نعت گوئی اور اسلامی و روحانی اور اخلاقی و اقداری شاعری کا عرفان اور اظہارِ بیان کا تجربہ حاصل ہے۔ مُشاہدؔ نے پابند نعتیہ شاعری کے ساتھ ساتھ آزاد نعتیہ منظومات بھی نہایت خوب صورت انداز میں فکر انگیز، سلیس و رواں اور مختصر الفاظ کو مختلف دل کش عنوان کے تحت اپنے دیوان میں پیش کیا ہے ۔ ‘‘
منظوردایک، کشمیر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، سری نگر۔
       ٭’’ مشاہد رضوی نثر و نظم دونوں ہی میدان کے شہ سوار ہیں شاعری کسبی نہیں وہبی ہے ،مشاہد نے میدان شاعری میں صنف نعت کا انتخاب کیا ہے جو انتہائی مشکل ترین اور سنگلاخ صنف ہے،علم و فضل اور عشق کے بغیر نعت لکھنا ناممکن ہے اور مشاہد کا مطالعہ انتہائی وسیع ہے علم و فضل کے ساتھ ساتھ عشق رسول ﷺ بھی ان کے دل میں موجزن ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی نعتیں بے جا خیالات سے پاک ہیں ،عشق کی وارفتگی، جذبے کی صداقت، الفاظ کی بندش ،شوکت لفظی ، طرز ادا کا بانکپن ، معنی آفرینی، صنائع بدائع، ترکیب سازی جیسے محاسن مُشاہد رضوی کی نعتوں میں موجود ہیں ۔‘‘
عتیق الرحمان محمد اسرائیل (ایم اے ، بی ایڈ، یوجی سی -نیٹ) مالیگاؤں ،(روزنامہ ’’شامنامہ ‘‘مالیگاوں ،اشاعت ۱۴؍اگست)۲۰۰۸ء بروز جمعرات)
       ٭’’ مُشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری بھی دیگر عاشقانِ رسول(ﷺ)کی طرح عقیدے اور عقیدت کی شاعری ہے،لیکن عقیدت کی سرشاری و سر مستی کے باوجود حزم و احتیاط کا دامن کہیں بھی مُشاہدؔنے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا ہے۔مکمل دیوان میں مبالغہ و غلو اور افراط و تفریط کا شائبہ بھی نہیں ملتا ۔
       چوں کہ مُشاہدؔ نے حضرت امام احمد رضا بریلوی سے خوب اکتسابِ فیض کیا ہے ۔اس سبب سے آپ کی لفظیات،موضوعات اور خیالات میں ’’حدائقِ بخشش‘‘ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔الغرض محمد حُسین مُشاہدؔ رضوی مالیگانوی کے اندر ایک اچھے نعت گو شاعر کی تمام خوبیاں اور محاسن موجود ہیں۔چندفنّی اسقام سے قطعِ نظر اردو ادب کے لیے مُشاہدؔ رضوی نے ایک گنج ہاے گراں مایہ کا اضافہ کیا ہے ۔آپ کے نعتیہ دیوان’’لمعاتِ بخشش‘‘کے مطالعہ کی پُرزور سفارش کی جاتی ہے۔‘‘
محمد اکرم نقش بندی بالا پوری، اورنگ آباد(روزنامہ ’’اردو ٹائمز‘‘۲۴؍اپریل۲۰۱۰ئ،جمادی الاول ۱۴۳۱ھ،بروز سنیچر
       ٭’’مُشاہدؔ رضوی نے قرآن و تفسیر اور سیرت ِ طیبہ کی روشنی میں نعتیں لکھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اُسوۂ حسنہ کے وہ جواہرِ عالیہ اشعار میں نظم کیے ہیںجو عہدِ جدید میں لمحہ بہ لمحہ انحطاط پذیر اعلیٰ اخلاقی قدروں کو نکھارنے اور سنوارنے کا سامان فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔مُشاہدؔ رضوی نے سائنس و ٹکنالوجی کی تصنع زدگی اور سیاسی شعبدہ بازوں کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے انسانوں کی زبوں حالی پر گریہ و زاری کی ہے ،نیز اسلامی نظم و ضبط،مساوات و عدل، صدق و صفا،اخوت و مروت اور اخلاق و کردار کی بلندی و رفعت کو بیان کیا ہے۔جو رحمۃ للعالمین  ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے حوالے سے عصرِ جدید حاصل کرکے آفاقی سطح پر پھیلے ہوئے انتشار و افتراق کو ختم کر سکتا ہے، مشاہدؔ کے ان اشعار سے ان کا وسیع مطالعہ مترشح ہوتا ہے۔
       علاوہ ازیں مُشاہدؔ رضوی نے اپنے نعتیہ کلام کے ذریعہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ عصرِ موجودہ میں جب کہ ہر طرف اخلاقی پستی اور اقدار کی پامالی عروج پر ہے،وہی شخص سر بلند ہوسکتا ہے جو اُسوۂ حسنہ اور حیاتِ طیبہ پر صدقِ دل سے عامل و پابند ہو۔اور بارگاہِ رسالت مآب  ﷺ سے زندگی بسر کرنے کا سلیقہ و شعور حاصل کرے  ؎
اسوۂ سرکار کا ہو جو کہ پیرو روز وشب
اُس کی تو پھر حاملِ ادراک ہوجاے حیات
جس کو ہوا حضور سے ادراکِ نظم و ضبط
ایوانِ خسروی میں وہ مسند نشیٖں ملا
منزلیں خود ہی قدم بوسی کریں گی آکر
اپنی ہستی کا فقط اُن کو ہی عنواں کرلیں
       کہتے ہیں:’’ سچا شاعر وہی ہوتا ہے جس کے کلام میں عصری حسیت موجود ہو اور جو اپنے گرد و پیش اور عہد سے باخبر ہو‘‘۔مُشاہدؔ کے کلام میں یہ خوبیاں بدرجۂ اتم موجود ہیں ۔ ان کی لفظیات میں تنوع ہے اور کلام میں عصرِ حاضر کے سلگتے ہوئے مسائل اور ان کے حل کے طریقِ کار بھی ان کے اشعار کی زیریں لہروں میں پنہاں ہیں۔طنز و نشتریت بھی کلام کے اجز ا میں شامل ہیں اس سے کلام کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے۔اور کیف و ملاحت پیدا ہوتی ہے۔فی زمانہ مغرب زدہ افراد رحمۃ للعالمین  ﷺ کی ذاتِ بابرکات اور اسلامی اُصولوں کو مسخ کرکے پیش کررہے ہیں اور اسلام جیسے امن و امان کے داعی مذہب پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اس قسم کی بے بنیاد الزام تراشی کرنے والوں پر مُشاہدؔ رضوی کا طنزیہ انداز قابلِ دیدنی ہے جو اُن کے سچے اور باخبر نعت گو شاعر ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔‘‘
شاہد ندیم ، ریسرچ اسٹوڈنٹ ، بھاگل پور یونی ورسٹی ، بھاگل پور ،بہار
       ٭’’ڈاکٹر محمد حُسین مُشاہدؔ رضوی مالیگاوں کی علمی و ادبی مٹی کا ایک ایسا پودا ہے جو اپنی دل کشی اور نکہت و ندرت میں ممتاز و یگانہ دکھا ئی دیتا ہے،سید محمد اشرف برکاتی کے الفاظ میں: ’’مجھے خوشی ہوئی کہ ۲۱؍ برس کا نوجوان اتنی اچھر اُردو ،اتنی صحیح نثراور ایسی پیاری نعتیہ شاعری لکھنے پر قادر ہے۔اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ…آمیٖن!!‘‘ یہ تاثر ایک دہائی کا قبل کا ہے۔
       ڈاکٹر محمد حُسین مُشاہدؔ رضوی اردو میں ایم اے کے بعد ’’مصطفی رضا نوریؔ بریلوی کی نعتیہ شاعری کا تحقیقی مطالعہ ‘‘کے موضوع پر پی۔ایچ۔ڈی، کررہے ہیں،شعر و ادب سے اچھا لگاو ہے،ان کی نثری و شعری نگارشات بارہا مطالعہ میں آئیں اور ایک اچھا اور دور رس تاثر چھوڑا،لکھتے ہیں اورخوب لکھتے اور چھَپتے ہیں ۔
       موصوف کا اولین نعتیہ دیوان ’’لمعاتِ بخشش‘‘کے نام سے مطالعہ کی میز پر ہے،مُشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری پر سید نظمی میاں،سید محمد اشرف میاں،ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی اور مولانا محمد رضا عبدالرشید مالیگانوی نے بھر پور اظہارِ خیال کیا ہے اور ان کی شعری کائنات میں درخشندہ ستاروں کی چمک دمک کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔بڑی اچھی شاعری ہے،یقینی طور پر بڑی نادر زمینیں ہیں ،نیا اسلوب ہے اور بلندیِ فکر بھی جھلکتی ہے ان کا ماننا ہے کہ یہ سب کچھ امام احمد رضا کا فیضان و کرم ہے ،ورنہ کہاں میں اور کہاں حضور ﷺکی مدحت سرائی؟
رضاؔ کا حُسنِ تخیل ہے رہِ نما میرا
کہ نعت گو نہیں کوئی مرے رضاؔ کی طرح
ہیں یوں تو اور بھی اصنافِ شاعری لیکن
کسی کا رُتبہ نہیں نعتِ مصطفا کی طرح
       ’’لمعاتِ بخشش‘‘ یقیناایک دیوانِ نعت ہے ،درد و سوز میں ڈوبی ہوئی مدحتیں ہیں ،ضرور مطالعہ کریں ،موصوف کی نعتیہ شاعری پرایک تفصیلی تحریر سپردِ قرطاس کرنے کا ارادہ ہے ،یہاں پر یہی بس…خدا حافظ!!
محمد توفیق احسنؔ برکاتی مصباحی(سہ ماہی ’’سنی دعوتِ اسلامی‘‘ ممبئی،جلد نمبر ۶؍شمارہ۲۲؍اپریل تاجون۲۰۱۰ئ،ص۶۹)
       ٭’’مالیگاوںکی سرزمین نہ صرف سیاسی اور سماجی لحاظ سے اہم ترین ہے بل کہ مذہبی اور ادبی سرگرمیوں کے لیے بھی محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ یہاں کئی نامور عالمِ دین و ادیب،مورّخ اور شاعر پیدا ہوئے اور ہیں؛جن کی شہرت کا چرچا مالیگاوں ہی نہیں اردو دنیا میں دیکھا اور سُنا جاتا ہے۔ اسی سر زمین سے ایک ایسے فن کار نے آنکھ کھولی ہے جسے ہم اور آپ محمد حُسین مُشاہدؔ رضوی کے نام سے جانتے ہیں۔ جس نے میدانِ شعر و سخن میں اپنی تمام تر صلاحیتیں اپنے نعتیہ دیوان’’لمعاتِ بخشش‘‘ میں صرف کردی ہیں۔ اس نعتیہ دیوان میں حمد و مناجات و دعا،نعتیہ نغمات،سلام،مناقب و قصاید،قطعات اور آزاد منظومات شامل ہیں۔
       نعت بہ اعتبارِ مجموعی ادب کی جملہ اصنافِ سخن میں سب سے مکرم و محترم صنفِ سخن کا درجہ رکھتی ہے۔کیوں کہ نعت کاواحد مستقل موضوع نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ کریم ہے۔اس لیے نعت گوئی میں بھی ایسے ہی موضوعات،جذبات و احساسات و خیالات کو بیان کرنے کی ضرورت ہوا کرتی ہے جو عقیدت و شریعت کے اصولوں کا حق ادا کرسکے۔ اور اس نعتیہ دیوان کا مطالعہ کرنے کے بعد یہی اظہار کیا جائے گا کہ مُشاہدؔ رضوی نے اپنی علمی شخصیت کا گہرا نقش چھو ڑا ہے۔ ’’لمعاتِ بخشش‘‘کے اشعار میںبھی بہ قول غلام جابر شمس مصباحی
       ’’سچائی ہے… صداقت ہے… شیرینی ہے… حلاوت ہے… صفائی ہے…نظافت ہے… پاکیزگی ہے… طہارت ہے … ادب ہے … احترام ہے… تعظیم ہے… توقیر ہے… وارفتگی ہے… شیفتگی ہے… شگفتگی ہے… شادابگی ہے… عشق کی چمک ہے… محبت کی دمک ہے… خلوص کی مہک ہے… شعروں میں زندگی ہے… شاعری میں بندگی ہے… کیف آگیں پیکریت ہے… استعارہ سازی ہے…صنائع کے نجوم درخشاں ہیں… بدائع کے مہر و ماہ روشن ہیں… محاورات کا ادیبانہ استعمال ہے … ہندی بھاشاکی آمیزش ہے …فارسیت کا رچاو ہے…‘‘
       اردو شعر و ادب سے وابستہ نئی نسل کی اٹھان کا جائزہ لیں تو عمومی سطح پر یہی دکھائی پڑتا ہے کہ مشقِ سخن کا آغاز غزل سے ہوتا ہے۔ لیکن مُشاہدؔ رضوی کے سلسلے میں جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو مُشاہدؔ رضوی کی ایک الگ شناخت دکھائی دیتی ہے ۔ جیساکہ موصوف نے ’’سرنوشت‘‘ میں کہا ہے کہ :
       ’’راقم کی پرورش حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ذکرِ جمیل کے نور و نکہت سے معمور پاکیزہ ماحول میں ہوئی ہے۔ علاوہ جن تنظیموں کے زیرِ اہتمام نعت خوانی کی پاکیزہ محفل آراستہ ہوا کرتی تھی،اور مقامی و بیرونی شعرا کی نعت کا مطالعہ کرنے اور سننے سے ایک عجیب طرح کا لطف و سرور حاصل ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ جب گھریلو ماحول کی وجہ سے مذہبی کتب و رسائل کے مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا ہوا،اور یہیں سے میرے اندر بھی نعت خوانی کا جذبہ بیدار ہوا ، اور جب مزید شعور حاصل ہوا تو نعت گوئی کا شوق پروان چڑھنا شروع ہوا۔اور اسی ذوق و شوق کا نتیجہ رہا کہ پہلی نعت قلم بند کی جس کا مطلع یوں ہے   ؎
ہے بہتر وظیفہ ثنائے محمد ﷺ
خدا خود ہے مدحت سرائے محمد ﷺ‘‘
(سر نوشت :لمعاتِ بخشش ص ۹/۱۰/۱۱تلخیص)
       اور یہیں سے قلم میں اور ا س اظہار میں کوئی تردد نہیں کہ نعت کے اس دیوان میں رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے عقیدت و محبت کا اظہار ٹوٹ کر کیا گیا ہے۔ اور حد درجہ احتیاط کے ساتھ اور کہیں بھی غلو کا شائبہ نہیں ہے۔ مزید چیدہ چیدہ اشعار ملاحظہ کیجیے    ؎
زمیں پر ہی نہیں چرچا تو ان کا آسماں تک ہے
اسی عالم پہ کیا موقوف ہے ہر اک جہاں تک ہے
الگ یہ بات چشمِ دوستاں میں ہم کھٹکتے ہیں
مگر مدح و ثنا آقا کی بزمِ دشمناں تک ہے
خدایا! رحم فرما کب تک اس کی دید کو ترسوں
یہ دوری ختم کر طیبہ سے جو ہندوستاں تک ہے
طوفانِ حوادث کے تھپیڑوں میں ہے اُمّت
اندوہ سے نڈھال ہے سرکارِ مدینہ
مطلب کے لیے دین کی خدمت کا تماشا
اخلاص کا زوال ہے سرکارِ مدینہ
       غرض ’’لمعاتِ بخشش‘‘ کی نعتوں میں مضمون آفرینی،الفاظ کا رکھ رکھاو،شاعرانہ حُسن،سوزو گداز،ادب و احترام کامکمل طور پر اہتما م دکھائی دیتا ہے۔مُشاہدؔ رضوی نے بہر حال کم عمری میں نعت گوئی جیسی صنف پر جتنی توجہ و محنت صرف کی ہے قابلِ تحسین ہے۔اور ہمیں یقین ہے مزید تو جہ و محنت و مطالعہ کا سلسلہ جاری رہا تو نعت گو شعرا میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوں گے۔‘‘
لطیف جعفری ، نمایندہ ڈیلی شامنہ ، مالیگاؤں(ماخوذ: ڈیلی شامنامہ،مالیگاوں، ۷؍ اکتوبر۲۰۱۰ء /۲۸؍ شوال المکرم۱۴۳۱ھ ،بروز جمعرات)

       ’’محترم ڈاکٹرمحمد حسین مُشاہدؔ رضوی مالیگانوی نسلِ نو سے تعلق رکھنے والے تازہ کار شاعر ہیں۔ جن کی تقدیسی شاعری بھی محض کلاسیکی نہیں کہی جاسکتی؛بل کہ نُدرتِ فکر کے ساتھ اظہارِ خیال اور ترسیلِ معانی کا جو اچھوتا پن ان کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے وہ مُشاہدؔ رضوی کے شعری امتیاز کو مستحکم کرتا نظر آتا ہے۔مُشاہدؔ رضوی ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اظہار وفروغ جس کا وطیرہ رہا ہے۔اس لیے مذہبیات کے شبنمی قطرے ان کی شعری کائنات پر چھائے ہوئے ہیں ۔انھوں نے اپنی شاعری خالص اسلامی طرز وادا کے ساتھ شروع کی اور اب تک شاعری کا تقدس پامال نہیں ہونے دیا۔
       مُشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری کے مطالعہ سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے عشقِ رسول  ﷺ، فنِ نعت سے والہانہ وابستگی اور سچے نعت گو شعرا سے ے پناہ وارفتگی کی وجہ سے انھیں نعت گو شاعر بنادیا ہے اور انھوں نے عطاے الٰہی کا سہارا لے کر اپنا قلم خالص نعتیہ شاعری کے لیے وقف کررکھا ہے۔ ‘‘
توفیق احسن مصباحی ( چیف ایڈیٹر ، ماہ نامہ سنی دعوتِ اسلامی ، ممبئی)
برادرم مشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری پر خامہ فرسائی
       انٹر نیٹ پر جن محترم ادبا و شعرا سے تعارف حاصل ہوا ، ان میں بعض نعت گو بھی ہیں ۔ محمدحسین عبدالرشید المتخلص بہ مُشاہدؔ رضوی بھی ایسے ہی ایک ہمہ تن، ہمہ وقت مصروفِ عمل اور محوِ خدمت نعت گو ہیں، جنہیں بارگاہِ ایزدی سے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دولت عطا ہوئی ہے۔ ان کے مجموعۂ نعت ’’لمعاتِ بخشش‘ کا طائرانہ جائزہ یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اردو کے جدید شعرا میںبہت سے شوقیہ طبع آزمائی کرنے والے حضرات سے یقینا ممتاز اور جدا ہیں ۔ ان کی نعت میںوہ احتیاط بھی بہ طریقِ احسن نظر آتی ہے ،کہ کہیں غلوے عقیدت میں ، شانِ خداوندی میں کوئی گستاخی سرزد نہ ہوجائے ۔ انھوں نے غزل کی محبوب و مروج ہیئت کے علاوہ ، نظمِ آزاد میں بھی طبع آزمائی فرمائیں۔راقم انھیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کریں۔ مُشاہدؔ رضوی کے اشہبِ قلم نے مسلم معاشرے کی ہمہ جہت اصلاح کے لیے بھی کئی جواہر بکھیرے ہیں۔ ان کی کتب اور مضامین کے عنوانات سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک صالح معاشرے کے قیام کے لیے کس قدر خلوص سے کوشاں ہیں۔ خاکسار نے ان کی ، امہات المؤمنین کے حوالے سے نگارشات بھی دیکھیں ، بہت عمدہ کاوش ہے ۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر ان جیسے چند اور جواں سال ، جواں فکر ، مسلم ہندوستانی معاشرے کی اصلاح و تربیت کے لیے اسی طرح فعال ہوجائیں تو وہ دن دور نہیں جب لادینی عنا صر کے زیرِ اثر وقوع پذیر ہونے والی خرابیاں اور برائیاں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عمل ، تیز تر ہواور ہم بہت سے عاشقانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرسکیں جو دین و دنیا میں ہر لحاظ سے سرخرو ہوں۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
سہیل احمد صدیقی
بانی مدیر و ناشر ہائیکو انٹر نیشنل
تلمیذِ خاص مفتی محمد اطہر نعیمی صاحب، سابق صدر نشین مرکزی رویت ہلال کمیٹی کراچی، پاکستان
۷؍ اگست ۲۰۱۲ء بروز منگل صبح 9:22