Instagram

Saturday, 1 December 2012

رسائل حسن پر تبصرہ



رسائل حسن پر تبصرہ
مبصر: حضرت مولانامحمدذوالفقارخان نعیمی ککرالوی
پیش کردہ : محمد حسین مشاہد رضوی

الحمدللّٰہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
تاج بن کرتیرے سرپرجوسداچمکاکیے
تونے اے دنیاوہ سورج چاندتارے کیاکیے
        امام شعروسخن، شہنشاہِ فکروفن، ذوالمجدوالمنن، استاد زمن حضرت علامہ حسن رضاخان حسنؔ بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات گرامی وقارکسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ استادزمن کی عظمتوں رفعتوںمیں بھلاکیاشبہہ ہوسکتاہے۔ انجمن شعروسخن ہویامیدان علم وفن ہرجگہ آپ کی ذات بابرکات نمایاںحیثیت کی حامل نظرآتی ہے۔ زیرنظرمجموعۂ رسائل آپ ہی کے قلم کاشاہکارہیں جس کی تعریف میں کچھ کہناچھوٹامنھ بڑی بات کے مترادف ہے۔ عربی کامشہورمقولہ ہے:  قدرالمؤلَّف بقدرالمؤلِّف۔یعنی کتاب کی قدروقیمت مصنف کتاب کی عظمتوںپرمنحصرہے۔ اگرمصنف کتاب عظیم وباوقارہو تویقیناکتاب بھی لائق صدافتخارہواکرتی ہے ۔
       حضرت موصوف نے بہت ساراعلمی سرمایاقوم کوعطافرمایا؛لیکن اپنوںکی بے توجہی کہی جائے یاماحول کی ستم ظریفی کہ اب تک عوام توعوام خواص بھی حضرت کے اس علمی سرمائے سے من کل الوجوہ مستفیدہونے سے قاصرہیں۔
       مزیدبرآں اکابرکاعلمی سرمایاصرف لائبریریوںمیں سجانے یا تہ خانوںمیں دیمک کی خوراک بنانے کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ عوام وخواص سب کے استفادہ کے لیے ہے آج ضرورت ہے کہ اکابرکاگراںمایہ علمی سرمایامنظرعام پرلایاجائے اورعوام وخواص کواستفادہ کاموقع دیاجائے۔
       رسائل حسن‘ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو محترم جناب ثاقب رضا قادری صاحب، اورپیکرخلوص حضرت علامہ محمدافروزقادری چریاکوٹی بارک اللہ فیہماکی اجتماعی کوششوں اورکاوشوں سے عنقریب منصہ شہودپرجلوہ فگن ہونے والی ہے۔ ان دونوںمحترم شخصیات نے ان قدیم ونایاب رسائل کی بازیابی سے اشاعت تک کاجوطویل سفرطے کیااس میں انہیں کیاکیادشواریاں اور پریشانیاںپیش آئی ہوں گی اس کااندازہ وہی لگاسکتے ہیں جواس راہ کے مسافرہیں،جوصرف کتب بینی ہی نہیں قلم رانی کابھی شوق رکھتے ہیں جن کامنشا اپنے بزرگوں کے اثاثہ کوبہراستفادہ واستفاضہ ہرقاری تک پہنچاناہے۔
       آمدم برسرمطلب: جناب محب گرامی وقار محترم ثاقب رضا صاحب نے اپنی اس کاوش کومنظرعام پرلانے سے قبل احقرسے اس کے تعارف کو بطورتبصرہ پیش کرنے کاحکم عطافرمایا۔میںگرچہ اس کااہل نہیں؛ لیکن تعمیل حکم مقصودہے؛ ا س لیے بسبب شرف سعادت چندسطورقلمبند کرنے کی جسارت کررہاہوں۔
       رسائل حسن‘استادزمن حضرت علامہ حسن علیہ الرحمہ کے قیمتی علمی و تحقیقی وتنقیدی مضامین سے مزین ادبی وفنی محاسن سے مملو رسائل کامجموعہ ہے۔کتاب کاسرورق خوبصورت ودل آویزہے، اورکیوںنہ ہوکہ اس میںصاحب رسائل حضرت علامہ حسن کے مزارپرانوارکا عکس جومنقش ہے۔ سرورق میںصاحب رسائل کے اسم گرامی کاجودیدہ زیب نظارہ ہے اس کودیکھ کرقاری ضرورایک باریہ کہنے پرمجبورہوجائے گا کہ اسم حسن کو جس حسن وخوبی سے سجایاگیاہے وہ کسی مردحسن ہی کاکام ہے۔مرتبین میں’محمدثاقب رضاقادری پاکستان،اور محمدافروزقادری چریاکوٹی کے اسماء کااندارج بڑی ہی سادگی کے پیرائے میں رکھاگیاہے۔لمبے چوڑے القاب وخطابات یاسرورق پرعام طورپرہونے والے تعارف نامے سے گریزکیاگیاہے۔ مصنّفین ومرتبین ومؤلفین کے لیے یہ بات لائق تقلیدہے۔
       کتاب کی اشاعت کا سہرا’اکبربک سیلرلاہور‘ کے سربندھا ہے۔ کتاب کھولنے کے بعدپہلے صفحہ پررسائل حسن کاقدرے تعارف ہے۔ دوسرے صفحہ پرکتاب سے متعلق تفصیلات درج ہیں جس میں غرض وغایت کے حوالے سے یہ سطرتحریرہے:’تحفظ وترویج اثاثہ علماے اہلسنّت وجماعت‘نیزاس کابھی خلاصہ کردیاگیاہے کہ یہ کتاب ۶۲۴صفحات پرمشتمل ہے۔
       صفحہ ۳پرعرض ناشرکے عنوان سے محترم جناب محمداکبر عطاری صاحب سلمہ کامضمون ہے جس میں انہوں نے علامہ حسن اوررسائل حسن نیزمرتبین کاذکرجمیل کیاہے۔
       صفحہ ۴پرمرتبین کی جانب سے اس کتاب کاانتساب دوعظیم بارگاہوںکی طرف کیاگیاہے: سلطان العارفین سیدنوری میاںقدس سرہ اورمجدددین وملت اعلیٰ حضرت قدس سرہ ۔انتساب میں ان دونوں حضرات کاانتخاب بلاشبہ حسن انتخاب ہے۔
       صفحہ۵پرخضرراہ کے عنوان سے رسائل حسن کے صفحات کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ قاری حسب منشارسالہ کامطالعہ کرسکے ۔
       صفحہ۶سے ۱۷تک مرتبین کی جانب سے حرف آغازکے عنوان سے ایک طویل مضمون ہے جس میں دیگرباتوں سے قطع نظررسائل حسن کااجمالی تعارف بھی درج ہے۔ اس کے بعدصفحہ ۳۸تک ذکرحسن کے عنوان سے استادزمن علامہ حسن کی سوانح کاقدرے تفصیلی خاکہ پیش کیاگیا ہے، جویقیناقابل مطالعہ ہے۔
       صفحہ ۳۹سے رسائل حسن کاسلسلہ شروع ہے اس سلسلہ کی پہلی کڑی رسالہ دین حسن ہے ۔
       دین حسن :
 یہ رسالہ ۳۹سے ۸۴تک ۴۵صفحات پرمنتشرہے۔ اس رسالہ کی پہلی اشاعت سے متعلق احقرکوعلم نہیں۔احقرکے پاس یہ رسالہ کتابی شکل میں موجودنہیں ہے البتہ خانوادئہ رضویہ کایادگاررسالہ الرضاکے جمادی الاخری ۱۳۳۹؁ھ کے شمارے میں اس رسالہ کوشامل کیاگیاتھاوہ احقرکے پاس موجودہے۔ احقرنے اسے سرسری نظرسے پڑھااوراسے اپنے موضوع کی ایک بے مثال کتاب پایا۔ رسالہ الرضامیں اس کتاب کا تعارف درج ذیل الفاظ میں کیاگیاہے  :
       یہ نادرونایاب کتاب ہے جس میں مصنف اعلام نے اپنے زورقلم سے اسلام کی حقانیت اوردین مبین کی صداقت کاثبوت دیاہے۔ ابتدائی صفحات میں صحابہ کرام کے بعض اہم واقعات ذکرکیے ہیں جن میں کاہرایک واقعہ تاریخی واقعہ ہونے کے علاوہ بطورخودایک مستقل دلیل ہے۔ اس کے بعددنیاکے ان مشہورفلاسفروں اورسرزمین ہندکے ان نام آورپنڈتوں کی تحریریں نقل کی ہیں جن سے اِس مقدس دین کی سچائی نے اپنی تعریف کے خطبے پڑھوالیے ۔تویہ کتاب اسلام کی مختصرتاریخ اورہنودونصاری کی ان عقلی دلائل ومدائح کامجموعہ ہے جوانہوں نے اپنے ادراک واحساس کے موافق اپنے الفاظ میں لکھے ہیں پھران سب پرسلیس عبارت اورنفیس زبان نے لطف بیان اوربھی دوبالاکردیاہے، اورکیوں نہ ہوجب کہ ہندوستان کے مشہور اُردونگارحضرت مولانامولوی محمدحسن رضاخاں صاحب علیہ الرحمہ کی اعلیٰ تصنیف ہے‘۔
نگارستانِ لطافت  :
              صفحہ۸۵سے دوسرارسالہ مسمی بہ نگارستان لطافت شروع ہوتاہے۔ یہ رسالہ ۶۹صفحات کومحیط ہے۔ اس رسالہ کاموضوع میلادرسول ہے۔ علامہ نے اس میں نظم ونثردونوں اندازمیں خامہ فرسائی کی ہے ۔اس رسالہ کے مطالعہ سے ایک طرف ادبی وشعری گل ریزی سے قاری کا ذہن ودماغ معطرہو گا تودوسری طرف نثری اسلوب بیان کی چاشنی سے قاری کی زبان لطف اندوز ہوگی۔
       اس رسالہ کی پہلی طباعت۱۳۰۲ھ میں ہوئی جیساکہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا درج ذیل تاریخی قطعہ اس کاصاف پتہ دے رہاہے   ؎
یافت حسنؔ حُسنِ تحسیں
از حسان در ذکرِ حسیں
گفت رضاؔ تاریخ چنیں
)نعت اشرف قبلۂ دیں‘[۱۳۰۲ھ
       تزک مرتضوی :
  صفحہ۱۵۵سے رسالہ ’الرائحۃ العنبریہ من المجمرۃ الحیدریۃ‘ معروف بہ ’تُزک مرتضوی‘ کاآغاز ہوتاہے۔ یہ رسالہ صفحہ ۱۹۱تک ہے؛ یعنی یہ رسالہ ۳۶صفحات پرمشتمل ہے۔اس رسالہ میں مصنف موصوف نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اورسیدنا ابوبکروعمررضی اللہ عنہما کی فضیلت وعظمت ورفعت پرتفصیلی کلام فرمایاہے، نیزاہل سنت کے حوالے سے فرقۂ تفضیلیہ کی طرف سے شیخین پرکیے جانے والے اعتراضات والزامات کے دندان شکن جوابات بھی قلمبندفرمائے ہیں۔یہ رسالہ اپنی نظیرآپ ہے۔
       اس رسالہ کی پہلی طباعت مطبع جماعت تجارت میرٹھ سے ۱۳۰۰؁ھ مطابق ۱۸۸۳؁ء میںہوئی۔’الرائحۃ العنبریہ من المجمرۃ الحیدریۃ‘ سن ہجری[۱۳۰۰ھ ]اور’ ’ تُزک مرتضوی ‘‘سے سن عیسوی ۱۸۸۳؁ء برآمدہوتی ہے۔ مزیدبرآںمدت ِمدید کے بعدگزشتہ برس یہ کتاب محترم افروزقادری صاحب چریاکوٹی کے تحشیہ وتخریج وترتیب جدیدسے مزین ہوکر محترم ثاقب صاحب کی مددسے منظرعام پرآچکی ہے۔
        تعجب کی بات یہ ہے کہ اب تک اس کتاب کوتصانیف اعلیٰ حضرت کے خانہ میں رکھاجاتاتھامگراس مجموعہ کے مرتب جناب محترم ثاقب صاحب نے اس حقیقت کاانکشاف جام نورمیں اپنے ایک مضمون میں کیا وہ لکھتے ہیں  :
       ردِ تفضیل پر مولانا حسن رضا کی ایک نادِر و نایاب تالیف ہے۔۔۔۔۔سرورق پر یہ عبارت تحریر ہے  :
       الحمدللہ کہ در فضائل علیہ جناب مولیٰ علی رضی اللہ عنہ مع بعض دلائل مختصر و عام فہم مسئلہ تفضیل حضرات شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایں رسالۂ سیف قاطع و برق لامع مسمّٰی بنام تاریخی ’الرائحۃ العنبریۃ من المجمرۃ الحیدریۃ ‘ [۱۳۰۰ھ] ملقب بلقب مشعر سال عیسوی اعنی ’تزک مرتضوی‘[۱۸۸۳ئ] ۔ ا ز تالیف لطیف: جناب مولوی حسن رضاخان صاحب حسنؔ قادری برکاتی ابوالحسینی بریلوی بفرمائش جناب مولوی غلام شبر صاحب قادری برکاتی ابوالحسینی بدایونی‘۔
       حیات اعلیٰ حضرت جلد دوم صفحہ ۴۴ پر اس کتاب کو اعلیٰ حضرت کی تصنیف شمار کیا ہے۔ تصانیف ا علیٰ حضرت میں اس کا نمبر شمار ۳۰۵ درج ہے۔ مزید صفحہ نمبر ۱۴۸ پر رد نواصب کے عنوان کے تحت اعلیٰ حضرت کی تصنیف کے طور پر بیان کیا ہے۔ مزید صفحہ نمبر ۲۰۶ پر ’رد تفضیلیہ‘کے عنوان سے سات تصانیف کے نام لکھے ، جن میں سے ایک ’الرائحۃ العنبریۃ من المجمرۃ الحیدریۃ المعروف بہ تزک مرتضوی‘ہے۔
       آئینۂ قیامت  :
 اس کے بعدصفحہ ۲۹۳سے رسالہ آئینۂ قیامت کاآغازہوتاہے۔ یہ رسالہ خاص طورپرکربلاکے معرکۃالآراواقعہ پرمشتمل ہے۔ ابتدامیں حسنین کریمین کی فضیلت پرمشتمل احادیث کریمہ بھی نقل کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ بھی بہت ساراعلمی وتحقیقی مواداس رسالہ میں موجود ہے۔ رسالہ ھٰذا میں روایات صحیحہ کوبیان کرنے کااِلتزام کیاگیاہے۔ واقعہ کربلاسے متعلق اس کتاب کواِستنادکادرجہ حاصل ہے۔ اعلی حضرت نے فرمایاکہ’حسن میاںمرحوم میرے بھائی کی کتاب آئینہ قیامت میں صحیح روایات ہیں اسے سنناچاہیے‘۔یہ رسالہ ۶۵صفحات کومحیط ہے۔
       بے موقع فریاد کے مہذب جواب :
 اس کے بعدرسالہ’بے موقع فریادکے مہذب جواب ‘کی ابتداہوتی ہے۔ یہ رسالہ ۷۵صفحات پرمشتمل ہے۔ اس رسالہ کے نام کے حروف سے عدد۱۳۱۲ھ برآمدہے، جو اس رسالہ کی طباعت کاپتہ دے رہاہے۔ یہ رسالہ دراصل پنڈت بشن نرائن کی کتاب’انگریزوں سے ہندوستانیوںکی فریاد‘-جوگائوکشی کی مذمت پرمبنی ہے جس میں گائے کی حلت سے متعلق اسلامی نظریہ کی تردیدکی گئی ہے- کاجواب لاجواب ہے۔
       سوالات حقائق نما برؤس ندوۃ العلماء :
صفحہ۳۳۵سے رسالہ’’سوالات حقائق نما بر رؤس ندوۃ العلماء [۱۳۱۳ھ] ‘ شروع ہوتاہے۔ یہ ۱۳۱۳ہجری میں نادری پریس ، بریلی سے پہلی بارطبع ہوا۔۲۵صفحات پرمشتمل اس رسالہ میں ندوہ کے مفاسداورخامیوںکی نشاندہی پرمبنی سترسوالات ہیں،جو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے خودندوہ کی درخواست پرتحریرفرمائے تھے، جس کے جواب سے اہل ندوہ آج تک قاصرہیں۔ جس کاذکر خودسیدی اعلیٰ حضرت نے چراغِ انس میں اس طرح فرمایا  :
میرے ستر سوال کا قرضہ
نہ اَدا ہو سکا محب رسول
       فتاوی القدوۃ لکشف دفین الندوہ :
 اس کے بعدرسالہ’فتاوی القدوۃ لکشف دفین الندوہ ‘کی اِبتداہوتی ہے۔رسالہ کایہ تاریخی نام ہے، سن ۱۳۱۳؁ہجری اس سے برآمدہوتی ہے جواس کی طباعت کی تاریخ ہے۔
       اس رسالہ میں اعلیٰ حضرت نے دس فتاوی تحریرفرمائے ہیں، جن میں ندوہ کے اقوالِ قبیحہ اسی کی کتابوں سے درج فرماکر سوالات بھی قائم کیے ہیں،اورجوابات کامطالبہ فرمایاہے۔ اعلیٰ حضرت کے ان فتاوی پرہندوستان کے مشاہیرعلماکی تصدیقات بھی درج ہیں۔علامہ حسن رضاعلیہ الرحمہ نے ان فتاوی کوترتیب دے کرکتابی شکل میں منظرعام پرپیش فرمایا۔ بایں سبب سرورق پرتالیف کے حوالے سے آپ کااسم گرامی مندرج ہے۔ علامہ ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ نے حیات اعلیٰ حضرت اورالمجمل المعددلتالیفات المجدد میں اس رسالے کواعلیٰ حضرت سے منسوب فرمایاہے۔ یہ رسالہ ۳۶۳سے۳۸۹تک صفحات پربکھراہواہے۔
       ندوہ کا تیجہ رُوداد سوم کا نتیجہ :
 صفحہ۳۹۰سے رسالہ’ندوہ کا تیجہ رُودادِ سوم کا نتیجہ‘کاآغازہوتاہے۔یہ اس رسالہ کاتاریخی نام ہے جس کے عدد۱۳۱۴ھ نکلتے ہیں جس سے اس کی سن طباعت کاپتہ چلتاہے۔ یہ رسالہ ندوۃ العلماکی دعوت اتحادواتفاق کے درپردہ مضمرمقصوداصلی کے انکشاف نیزاہل ندوہ کی اوہام پرستی، چیرہ دستی کے سدباب اوراتہامات والزامات واعتراضات کے معقول جوابات پرمبنی ہے۔ یہ رسالہ ۸۰صفحات کی ضخامت پرمشتمل ہے۔
       مرتب رسائل ھٰذانے اس کتاب سے متعلق بھی ایک حقیقت کا اِنکشاف کیاہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں اس کتاب کوعلامہ حسن رضاکی تصنیف شمارکیاہے، حالانکہ حضرت علامہ ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ نے اس کتاب کواعلیٰ حضرت کی تصنیف قراردیاہے۔ محترم موصوف ثاقب قادری صاحب رقم طرازہیں: یہ کتاب مشتملہ ۶۱ صفحات مطبع اہل سنت و جماعت ، بریلی سے ۱۳۱۴ھ میں طبع ہوئی۔ سرورق پر یہ عبارت تحریر ہے  :
       الحمدللہ یہ مبارک رسالہ جس میں بہت روشن و دل پسند و عام فہم و سود مند بیان سے ظاہر کیا ہے کہ ندوہ کا اصل مقصد کیا ہے اور اس دعوت اتحاد و اتفاق کی کس خیال پر بِنا ہے، اس ندوہ اخیر کو ندوہ سابقہ دارالندوہ سے علاقہ کتنا ہے۔ آخر میں ندوہ کی مختصر رُوداد سوم کی نامہذب دشناموں باطل اتہاموں کے معقول جواب مظہر صواب (تحریر ہیں۔)‘
       سرورق پر مولانا حسن رضا کا نام یوں تحریر ہے:’مداحِ مصطفی خادم الاولیا صاحب طبع نقاد و ذہن وقاد جناب مولانامولوی محمد حسن رضا خان صاحب حسنؔ قادری برکاتی ابُوالحسینی سلمہم اللّٰہ عن الافات والمحن‘۔
       حیات اعلیٰ حضرت جلد دوم صفحہ۴۵ اور ص ۲۰۲پر اس کتاب کو اعلیٰ حضرت کی تصنیف شمار کیا ہے ۔ تصانیف ا علیٰ حضرت میں اس کا نمبر شمار۳۱۸ درج ہے۔
       ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری  :
 اس کے بعدرسالہ’ ہدایت نوری بجواب اطلاع ضروری‘شروع ہوتاہے۔ اس کی سن اشاعت۱۳۳۲؁ہجری ہے۔ یہ رسالہ محترم ثاقب رضاقادری صاحب کی تحقیق کے مطابق علامہ حسن رضاعلیہ الرحمہ کی جانب سے جاری کردہ ماہنامہ ’قہر الدیّان علی مرتدٍ بقادیان‘میں قسطوارشائع ہوا؛ البتہ دوسراشمارہ دستیاب نہ ہونے کے سبب پہلی قسط ہی کوشائع کردیاگیاہے۔یہ رسالہ ردقادیانیت پرمشتمل ہے۔ اس میں قادیانی کفریات وخرافات ومغلظات بیان کیے گئے ہیں نیزان کے دندان شکن جوابات بھی دیے گیے ہیں۔یہ رسالہ ۱۱۲صفحات پرمشتمل ہے۔
اظہار رُوداد :
              صفحہ۴۸۳سے ’’اظہار رُوداد‘‘کاآغازہوتاہے۔ یہ اس رودادکاتاریخی نام ہے، جس سے سن ۱۳۲۲ ہجری برآمدہوتی ہے۔ یہ مدرسہ منظرالاسلام کے سال اوّل یعنی۱۳۲۲ھ کی رودادہے۔۴۷صفحات پرمشتمل اس روداد میں مدرسہ کے معاونین وچندہ دہندگان کے اسماے گرامی درج ہیں۔ نیزمدرسہ سے جاری شدہ آٹھ فتاوی بھی اس میںشامل ہیں۔ علامہ حسن رضاعلیہ الرحمہ نے ۱۳۲۲ھ میںاسے ترتیب دے کرشائع فرمایا۔
       کوائف اخراجات  : اس کے بعد’کوائف اخراجات ‘ کی ابتداہوتی ہے۔ یہ رسالہ کاتاریخی نام ہے ۔رسالہ کے نام سے ۱۳۲۳ کاعدد نکلتا ہے، جواس رودادکی سن طباعت کی طرف اشارہ کررہاہے۔ علامہ حسن رضا نے اسے مرتب فرمایا،اور مطبع اہل سنت و جماعت، بریلی سے اس کی طباعت واشاعت ہوئی۔ ۱۲صفحات پرمشتمل یہ رودادمنظراسلام کے سال دوم کی رودادہے۔ اس میں سال بھرکی آمدنی واخراجات کی تفصیل، طلباکی تعداد، داخل نصاب کتب کی فہرست،اور اساتذہ وممتحن حضرات کے اَسماکاذکرکیاگیاہے۔ نیزعلامہ حسن رضاعلیہ الرحمہ کی مدرسہ سے متعلق کارکردگی پر حضرت شاہ سلامت اللہ رامپوری علیہ الرحمہ کادرج ذیل تاثربھی شامل کیاگیاہے۔
       ہمت عالی اور توجہ خاص منتظم دفتر جناب مولانا حسن رضا خان صاحب دام مجدہم سے اُمید کامل ہے کہ اس مدرسہ مبارکہ سے جس کی نظیر اقلیم ہند میں کہیں نہیں ہے،ایسے برکات فائض ہوں جو تمام اطراف و جوانب کی ظلمات اور کدُورات کو مٹائیں اور ترویج عقائد حقہ مُنیفہ اور ملت بیضاء شریفہ حنیفہ کے لئے ایسی مشعلیں روشن ہوں جن سے تمام عالم منور ہو‘۔
       اورآخرمیںصفحہ۵۴۳سے ۶۲۳تک ’باقیات حسن‘ کے نام سے علامہ حسن رضاعلیہ الرحمہ کے گراںمایہ مضامین ومقالات اشتہارات ومکتوبات اوردیگرمتفرق تحریریں شامل کی گئی ہیں۔اشتہارات ومکتوبات عام طورپرندوہ سے متعلق ہیں۔مضامین ومقالات میں غزوئہ تبوک ویرموک وغیرہ عناوین شامل ہیں۔اس کے علاوہ بھی بہت سی علمی تحریریں ہیں جوقاری کے لیے خالی ازفائدہ نہیں۔
       اورآخرمیں بیرونی صفحہ پرعلامہ حسن رضاعلیہ الرحمہ اوررسائل حسن کاذکرجمیل کیاگیاہے، نیزرسائل کی اشاعت سے متعلق قلبی فرحت اورمسرت کااظہارکیاگیاہے۔ اس طرح یہ مجموعہ رسائل بحسن وخوبی کوتکمیل کوپہنچتاہے۔
       علاوہ ازیں رسالہ کی اس خوبصورت اندازمیںترتیب،رسائل میں موجودہ عربی وفارسی عبارات کی عام فہم ترجمانی، آیات کریمہ واحادیث نبویہ کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ تخریج اورپیچیدہ عبارات کی حاشیہ میں وضاحت جیسی خوبیوں سے اس مجموعہ کومزین کیاگیا ہے۔ یہ ساراکمال مرتبین مجموعہ جناب محترم ثاقب رضاقادری اورمحترم علامہ محمدافروزقادری صاحب چریاکوٹی کاہے، جنہوں نے اپنی انتھک محنت وجدوجہدسے اس مجموعہ رسائل حسن کو شکل حسن دینے کی کوشش کی ہے۔ مرتبین کی یہ کاوش یقیناانہیں سربلندکرے گی، اورممتازومنفردافرادکی صف میں انہیں انفرادی وامتیازی شان عطا کرے گی۔
       دعاہے مولیٰ تعالیٰ ان دونوںمحترم حضرات کوبطفیل علامہ حسن ورسائل حسن دینی ودنیاوی ترقیاںوکامیابیاںوکامرانیاں عطافرمائے۔ ان کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے، مزیدعلم وعمل کی توفیق بخشے، دارین کی نعمتوںبرکتوں سے سرفرازفرمائے۔اوران کی اس کاوش کومقبول انام بنائے۔آمین بحق النبی الامین المتین۔

احقرالعباد  محمدذوالفقارخان نعیمی ککرالوی غفرلہ القوی
خادم: مدینہ مسجدمحلہ علی خاںکاشی پور،اترکھنڈ،انڈیا۔
مؤرخہ۱۴؍محرم الحرام۱۳۳۴؁ھ