Instagram

Tuesday, 26 February 2013

علامہ قمرالزماں اعظمی بہ حیثیت مفکر اسلام




علامہ قمرالزماں اعظمی بہ حیثیت مفکر اسلام
(Waseem Ahmad Razvi, India)



ایک متقی و پرہیزگار اور تہجد گزار کسان کے سعادت مند فرزند نے الجامعةالاشرفیہ مبارک پور سے تحصیل علم کیا۔ قطب عالم مفتی اعظم علامہ مصطفی رضا نوری کی بارگاہ سے روحانی تربیت پائی۔ اور دین متین و عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تبلیغ و اشاعت اور غلبہ کے لیے کمر بستہ ہوا۔ خدائے قدیر نے زبان و بیان پر ملکہ عطا کیا۔مواعظ حسنہ کے ذریعے اس نے انسانی دلوں کو فتح کیا۔اپنے اخلاق و کردار سے بنجرزمینوں پر اپنی دعوتی خدمات کے ذریعے وہ کارنامہ انجام دیا جن سے بہت سارے علاقے لالہ زار بن گئے، اور خوشبوئے اسلام سے مہک اٹھے۔ وہ نوجوان آسمان خطابت پر قمر بن کر نمودار ہوا اور اپنی فکر کی کرنوں سے دنیا کو منور کر دیا۔

مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی رضوی عظیم داعی و مبلغ اور خطیب و مفکر و مدبرہیں جن کے خطبات کی گھن گرج نے ایک عالم کو متاثر کیا۔ ان کی دعوتی و تبلیغی خدمات کے نقوش ایشیا و یورپ ، امریکہ و افریقہ سمیت مغرب بعید کے متعدد ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ جن کے کردار و عمل،اخلاص و اخلاق نے بے شمار بے دینوں کو دین دار، غیر مسلموں کو مسلمان اور بد عملوں کو سنت رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا عامل بنایا۔ جن کے تفکر و تدبر نے قوم مسلم کو جہاں گیری و جہاں بانی کا شعور بخشا۔

علامہ قمرالزماں اعظمی کو مفکر اسلام محض اندھی عقیدت یا فرسودہ پروپیگنڈے کے طور پر نہیں کہا جاتا، تقریباً نصف صدی پر محیط ان کی دینی و علمی و ادبی و تبلیغی خدمات اور عالمی سطح پر مسلمانوں کی نمائندگی کے جو فرائض آپ نے انجام دیے اس لیے یہ خطاب آپ ہی کا حق ہے۔ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کی نمائندہ تنظیم ورلڈ اسلامک مشن کے پلیٹ فارم سے آپ نے دنیا کے
۰۷سے زاید ممالک کے تبلیغی دورے کیے، مساجد و مدارس اور اسلامک سنٹرز قائم کیے۔یورپ کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں سب سے پہلی مسجد آپ نے تعمیر کرائی۔ مسلمانوں کو متحد کر کے اسلامی تحریکوں اور اداروں کا قیام عمل میں لایا۔ آپ کئی تعلیمی و سماجی، ادبی و رفاہی اداروں کے بانی و سرپرست ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میںجب بھی کسی مقام سے اسلام پرنظریاتی یا فکری حملہ ہوتا ہے اس کا بروقت اورمدلل و مثبت جواب دیتے ہیں کہ اسلا م کی عظمت و آفاقیت سے لوگ متاثر ہو دامن اسلام میں پناہ لے لیتے ہیں۔ دیار مغرب میں رہنے کے باوجود جلوہ ¿ دانش فرنگ آپ کی نگاہوں کو خیرہ نہ کر سکا۔ فکری بالیدگی اور مدبرانہ مزاج نے آپ کو ہمیشہ اسلام کے غلبہ و وقارِ مسلم کی بحالی کے لیے بے قرار رکھا۔ سنجیدگی و متانت اور معاملہ فہمی کی وجہ سے آپ کو سفیر امن بھی کہا جاتا ہے۔ بڑوں کا ادب چھوٹوں سے شفقت، قول و فعل میں یک رنگی اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی سے متاثر ہو کر اہل یورپ آپ کو ”ابوالاخلاص“کے خطاب سے پکارتے ہیں۔

مفکر اسلام علامہ قمرالزماں اعظمی بیک وقت ایک کامیاب داعی اسلام بھی ہیں، عالم باعمل صوفی بھی ہیں، مفکر بھی ہیں، مدبر بھی ہیں، رہ بر و رہ نما بھی ہیں، مفسر قرآن بھی ہیں، پیر کامل بھی ہیں، اور خطیب بے مثال بھی ہیں، اردو، عربی، فارسی وانگریزی زبان و ادب پر مہارت تامہ رکھتے ہیں، لوگ زبان داں ہوتے ہیں مگر دبستان اردو کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مفکر اسلام سخن داں و سخن ساز و نکتہ سنج ادیب ہیں۔ گل برگہ میں آپ کے خطاب کو سن کر وہاں کے پروفیسرز نے آپ کو ”زبان گو“ کہا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں آپ نے خطاب کیا تو وہاں کے اسکالرز نے کہا کہ آپ کو تو شعبہ اردو کا ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ہونا چاہیے۔ عظیم آباد (پٹنہ)، دہلی،لکھنو، حیدر آباد، بریلی جیسے اردو کے دبستانوں کے زبان داں آپ کی سحر بیانی اور رواں دواں شستہ اردو کو سن کر حیرت و استعجاب کے سمندر میں غوطہ زن ہیں۔

آپ ایک سچے عاشق رسول ہیں، سوز عشق کی تسکین کے لیے آپ نے نعتیں کہیں مجموعہ کلام ”خیابان مدحت“ کی شکل میں شائع ہو چکا ہے، آپ کے چند خطبات ”خطبات مفکر اسلام“ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں موضوعات پر آپ کی تقاریر اردو، انگلش زبانوں میں پائی جاتی ہیں۔ مانچسٹر ، برطانیہ کی مرکزی مسجد جس کے آپ بانی و خطیب و امام ہیں میں آپ درس قرآن دیتے ہیں جو اردو و انگریزی میں ہوتا ہے اس کی بھی سی ڈیز موجود ہیں، آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے جس کی تفصیل کے لیے دفتر درکار ہے۔ جامعہ ازہر مصر میں آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق جاری ہے، حال ہی میں رضا اکیڈمی ممبئی نے ”تجلیات قمر“ نام سے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اور مفتی اعظم گولڈ میڈل ایوارڈ سے نوازا۔ تجلیات قمر سے آپ کی متنوع شخصیت کے مختلف اہم پہلوؤں کا بخوبی اندازا ہوتا ہے۔