Instagram

Thursday, 20 September 2018

Ayat E Moaddat Awr Saadaat Ek Tahqiqi Tahreer

آیت مودت اور سادات کرام ایک تحقیقی تحریر
محمد اکبر علی برکاتی ،باگی کدورہ جالون یوپی

 أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُربی
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
تو پسر لاٸق میراث پدر کیونکر ہو
 بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
عَنْ أَنَسِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا(بخاری شریف)سیدناحضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہےکہ نبی کریم ﷺنے ارشادفرمایاعلامات قیامت میں سے ہےکہ علم اٹھالیاجائےگااور جہالت میں پختگی ہوگی شراب پی جائےگی اور زناکاری عام ہوجائے گی۔موجودہ زمانےمیں ہم دیکھ رہےہیں کہ جوجتنابڑاچرب زبان مقررہے اتناہی بڑا علامہ سمجھاجاتاہے۔میرے علم میں کئی ایسے مقرر ہیں  جنہوں نے درس نظامی رسمی طورپربھی مکمل نہیں پڑھا۔صرف اردوکی کتابیں رٹ کر مقرراعظم بن گئے۔ایک گھنٹہ کی تقریر میں ایک حدیث کا متن بھی نہیں پڑھتے لیکن شیخ الحدیث سے بڑے علامہ کہلاتےہیں ۔ موضوع روایات بیان کرنےمیں بھی کوئی جھجھک  محسوس نہیں کرتے۔ایک مرتبہ ایک بڑے مقرر سے کہا آپنے یہ روایت حدیث کہہ کر بیان کی ہے حوالہ دیجیئے۔جبکہ اعلی حضرت نے اسے مو ضوع لکھاہے توبولے مجھے بھی معلوم ہے کہ اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے موضوع لکھاہے کسی حدیث کی کتاب میں نہیں مگرمیں نے بغرض اصلاح بیان کردی ہے۔ایسے حضرات مجمع کی نبض ٹٹولتےہیں اگردیکھاکہ شفاعت یا بزرگان دین کے فضائل بیان کرنے سے مجمع نعرہ تکبیرلگارہاہے تب پھر من گڑھت واقعات کو حدیث بتانے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے ۔اور معاملہ مناقب اہل بیت عظام کاہو تب تو کسی کو چون وچراکی گنجائش ہی نہیں اگرکسی حق گوعالم نے کہہ دیاکہ یہ روایت موضوع ہے یا اس آیت کا مطلب ومقصد وہ نہیں جو تم بیان کررہےہو  تب تو اس عالم دین کو دشمن اہل بیت اور خارجی نہ جانے کیا کیا القابات سے نوازاجائےگا۔ان کے جاہل معتقدین اس کی جان ومال کے پیچھے پڑ جاتےہیں۔حضرت شاہ نعمت اللہ ولی نے بہت پہلے کہہ دیاتھا کہ ۔عالم جہول گرددجاہل بہ عالمانہ ۔یعنی عالموں کوجاہل اور جاہلوں کو علامہ ماناجائےگا۔کئی ایسے نام نہاد شعراہیں  جو سلیقے سے شعر پڑھ بھی نہیں پڑھ پاتےاردوبھی نہیں لکھ پاتےبلکہ دوسروں کے کلام میں اپنانام شامل کرکےبلکہ ہندی رسم الخط میں نعتیں لکھ کر آواز کی بنیاد پر شاعراسلام بن بیٹھے۔اسی ضمن میں اہل بیت عظام رضوان اللہ تعالی علیہم کی شان میں جس شدو مد سے درج ذیل آیت کریمہ  سے فضائل اہل بیت ثابت کیئے جاتےہیں میری تحقیق کے مطابق اتنی سختی مناسب نہیں اس کے دوسرے پہلو بھی ہیں اور وہی نمایاں ہیں انہیں بھی بیان کرنا چاہیئے۔اہل علم کے لیئے میں نے ایک کوشش کی ہے تاکہ قرآن کی آیت کاصحیح مفہوم مسلمانوں کو معلوم ہوسکے۔کسی آیت وحدیث کا کچھ مفہوم بیان کرنا اور اکثرکو قصدا چھوڑجاناعلمائے حق کی شان نہیں۔اللہ عزوجل ہمیں رافضیوں کے دام ہم رنگ زمین سے محفوظ فرمائے۔ آمین ۔نوٹ۔صرف حق کے متلاشی محقق علماہی پڑھیں ۔
{آیت کریمہ ۔ إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى۔کی تشریح بالاحادیث وتفاسیر}
اس عنوان کے تحت بھلے ہی  تفاسیر کی کچھ  کتابوں کاہی حوالہ ذکر کیا گیا ہے۔مگر یہ۔جلالین،ابن کثیر ، نسفی،قرطبی،حقی،روح البیان ،فتح القدیر،طبری،ابن عباس ،مجاہد،قشیری،محاسن التاویل ،وغیرہ   اکثر تفاسیر کی کتابوں کا خلاصہ ہے۔
(۱)تفسیر ابن کثیرمیں ہے{ قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} أی:قل يا محمد لهؤلاء المشركين من كفار قريش:لا أسألكم على هذا البلاغ والنصح لكم ما لا تعطونيه،وإنما أطلب منكم أن تكفوا شركم عني وتذروني أبلغ رسالات ربي، إن لم تنصروني فلا تؤذوني بما بيني وبينكم من القرابة.
تفسیر ابن کثیر میں حافظ اسمعیل بن عمر بن ضوءبن کثیر القرشی الشافعی زیر  آیت کریمہ { قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى }ہے۔کہ اے محمد ﷺان مشرکین مکہ سےکہہ دیجیئے کہ خدائی احکامات ونصیحتیں  تم تک پہونچانے میں میں تم سےکوئی مالی معاوضہ طلب نہیں کرتا ۔میں تو صرف یہ چاہتاہوں کہ اگر میری مدد نہیں کرتے میرا اتباع نہیں کرتے  ۔تو کم ازکم اسی خاندانی وقرابت اوررشتے کا خیال کرو جو ہمارے تمہارے درمیان ہےاور مجھے تکلیف نہ دو۔
(۲)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ [إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى] فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ(بخاری)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سےپوچھا گیا کہ قرآن مقدس کی اس آیت کا کیا معنی ہے [إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى]تو وہیں پر موجودان کے شاگرد  سعید ابن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ نےکہاکہ ،،قربی ،، سے رسول اللہ کی آل مرادہےتو عبداللہ ابن عباس  رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اے سعید تونے جلدی کی ۔(اسکا مطلب وہ نہیں جوتونے بیان کیا بلکہ )اسکا مطلب یہ ہے کہ قریش میں کوئی  بھی ایسا نہیں تھا جس کی کسی نہ کسی جہت سےنبی کریم ﷺسے قرابت نہ ہو۔تو ان (کفار قریش )سے کہا گیاہے کہ اگر تم خدائی پیغام پہونچانے کااحسان نہیں مانتے تو کم ازکم اسی قرابت کا لحاظ کرو جو ہمارے تمہارے درمیان ہے۔
(۳)ورواه الإمام أحمد، عن يحيى القطان، عن شعبة به. وهكذا روى عامر الشعبي، والضحاك، وعلي بن  أبي طلحة، والعَوْفي، ويوسف بن مِهْران وغير واحد، عن ابن عباس، مثله. وبه قال مجاهد، وعكرمة، وقتادة، والسدي، وأبو مالك، وعبد الرحمن بن زيد بن أسلم، وغيرهم.
اس حدیث کو(۱) امام احمد نے (۲)یحی قطان سے (۳)شعبہ کے ذریعہ روایت کی ہے۔اور ایسی ہی روایت کی ہے  ،(۴)عامر شعبی،(۵) ضحاک (۶) علی ابن ابی طلحہ (۷) عوفی، (۸)یوسف بن مہران  اوران کے علاوہ بھی لوگوں نے(۹)حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسےاور یہی قول ہے ،(۱۰)مجاہد ،(۱۱)عکرمہ(۱۲)،قتادہ(۱۳)(، سدی،(۱۴) ابومالک،(۱۵)اور عبدالرحمن  بن زید بن اسلم  وغیرہم کاہے۔
(۴)حَدَّثَنَا هَاشِمُ بن مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، وَجَعْفَرٌ الْقلانِسِيُّ، قالا: حَدَّثَنَا آدَمُ بن أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بن جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا أَنْ تُؤَدَّوني فِي نَفْسِي لِقَرَابَتِي مِنْكُمْ، وتَحْفَظُوا الْقَرَابَةَ الَّتِي بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ. (المعجم الکبیر للطبرانی)
حافظ ابوالقاسم طبرانی کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کی ہاشم بن یزید طبرانی اور جعفر القلانسی نےیہ دونوں روایت کرتے ہیں آدم بن ابی ایاس سے ،اور وہ حدیث بیان کرتے ہیں شریک سے، وہ خُصیف سے ،وہ سعید بن جُبیر سے ،وہ حضرت عبداللہ ابن عباس سے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے مشرکین مکہ سے فرمایا کہ میں دعوت وتبلیغ پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا،میں تو بس یہ چاہتاہوں کہ تم مجھ سےاس خاندانی و رحمی رشتے کی وجہ سے محبت کرو جو ہمارے تمہارے درمیان ہے ۔
تفسیر جلالین شریف میں حضرت جلال الدین محمد بن احمد محلی شافعی  ولادت ،۷۹۱؁ھ وصال ،۸۶۴،؁ھ۔رضی اللہ تعالی عنہ نے
 فرمایا کہ سورہ ،شوری،کی آیت نمبر ۲۳،۲۴،۲۵،۲۶،مکی نہیں بلکہ  مدنی ہیں  ۔لیکن انہوں نے جب اس آیت کی تفسیر بیان فرمائی تو فرمایا۔
(۵)قُلْ لَا أَسْأَلكُمْ عَلَيْهِ" عَلَى تَبْلِيغ الرِّسَالَة "أَجْرًا إلَّا الْمَوَدَّة فِي الْقُرْبَى" اسْتِثْنَاء مُنْقَطِع أَيْ لَكِنْ أَسْأَلكُمْ أَنْ تَوَدُّوا قَرَابَتِي الَّتِي هِيَ قَرَابَتكُمْ أَيْضًا فَإِنَّ لَهُ فِي كُلّ بَطْن مِنْ قُرَيْش قَرَابَة "(جلالین شریف )
یعنی اے لوگو  احکام الہیہ تم تک پہونچانے میں  ،میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ۔مگریہ کہ قربت کی محبت ۔ صاحب جلالین فرماتے ہیں کہ یہاں عبارت میں   مستثنی      منقطع  ہے ۔لیکن تم سےمیرامطالبہ ہےکہ میرے اور تمہارے درمیان جو رشتے داریاں ہیں  انکا لحاظ کرتے ہوئے مجھ سے محبت کرو۔کہ جو میری قرابت ہے وہی تمہاری بھی ہے ۔اس لیئے کہ رسول اللہ ﷺکی قریش کے تمام قبائل سے کسی نہ کسی جہت سے  رشتے داری تھی ۔
(۶)قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً"أي قل يامحمدلاأسألكم على تبليغ الرسالة جعلا."إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى"قال الزجاج:"إِلَّا الْمَوَدَّةَ"استثناء ليس من الأول،أي إلا أن تودوني لقرابتي فتحفظونی.والخطاب لقريش خاصة، قاله ابن عباس وعكرمة ومجاهد وأبو مالك والشعبي وغيرهم.قال الشعبي:أكثر الناس علينا في هذه الآية فكتبنا إلى ابن عباس نسأله عنها، فكتب أن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كان أوسط الناس في قريش، فليس بطن من بطونهم إلاوقد ولده،فقال الله له:"قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى"إلا أن تودوني في قرابتي منكم،أي تراعواما بيني وبينكم فتصدقوني.ف"الْقُرْبى"ها هنا قرابة الرحم،كأنه قال: اتبعوني للقرابة إن لم تتبعوني للنبوة.قال عكرمة:وكانت قريش تصل أرحامهافلمابعث النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قطعته، فقال: (صلوني كما كنتم تفعلون). فالمعنى على هذا: قل لا أسألكم عليه أجرا لكن أذكركم قرابتي، على أنه استثناء ليس من الأول، ذكره النحاس. وفي البخاري عن طاوس عن ابن عباس أنه سئل عن قوله تعالى:" إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى " فقال سعيد بن جبير: قربى آل محمد، فقال ابن عباس: عجلت! إن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لم يكن بطن من قريش إلا كان له فيهم قرابة، فقال: إلا أن تصلوا ما بينكم من القرابة.فهذا قول. وقيل: القربى قرابة الرسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أي لا أسألكم أجرا إلا أن تودوا قرابتي واهل بيتي، كما أمر بإعظامهم ذوي القربى.وهذا قول علي بن حسين وعمرو بن شعيب والسدي. وفي رواية سعيد بن جبير عن ابن عباس: لما أنزل الله عز وجل:" قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى"قالوا:يا رسول الله،من هؤلاء الذين نودهم؟ قال:(علي وفاطمة وأبناؤهما)(تفسیرقرطبی) ۔
صاحب تفسیر قرطبی ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابوبکربن فرح  الانصاری الخزرجی  شمس الدین   قرطبی ،متوفی ،۶۷۱ھ؁   ،نے   بیان  فرمایا ہے ۔
 یعنی اے لوگو  احکام الہیہ تم تک پہونچانے میں  ،میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ۔مگریہ کہ قرابت کی محبت ۔زجاج نے کہا کہ یہ ایسا مستثنی ہے جس کے افراد کاذ کر پہلے نہیں ہوا۔یعنی ایسا کیوں نہیں کرتے کہ قرابت کی وجہ سے ہی مجھ سے محبت اور میری حفاظت کرو  اور یہ خطاب خاص کر قریش سے ہے ۔یہ قول  عبد اللہ ابن عباس ،عکرمہ ،مجاہد،ابومالک،اور شعبی وغیرہ کا ہے۔شعبی کہتےہیں کہ لوگ ہم سے اس آیت کے بارے میں بہت پوچھنے لگے(یعنی قربی سے کیا مرادہے)توہم نے عبداللہ ابن عباس کے پاس لکھ بھیجا کہ آپ فرمائیں اس سے کون لوگ مرادہیں ۔تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ رسول اللہ ﷺقریش میں اوسط الناس تھے ۔قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کی کسی نہ کسی جہت سےنبی کریم ﷺسے قرابت نہ ہو۔تو ان (کفار قریش )سے کہا گیاہے کہ اگر تم خدائی پیغام پہونچانے کا احسان نہیں مانتے تو کم ازکم اسی قرابت کا لحاظ کرو جو ہمارے تمہارے درمیان ہے۔اور میری تصدیق کرو۔تو یہاں قربی سے قرابت رحم مرادہے۔گویا ان سے کہا جارہاہے کہ اگر تم مجھے نبی ورسول مان کر میرا اتباع نہیں کرتے تو رشتے داری کی بناپر ہی میرااتباع کرو۔
 عکرمہ کہتے ہیں کہ قریش صلہ رحمی کرتے تھے ۔ جب نبی کریم ﷺنے اعلان نبوت فرمایا تو صلہ رحمی منقطع کردی ۔توان سے کہاگیا کہ اے قریشیو تم ویسے ہی صلہ رحمی کرتےرہو جیسی پہلے کرتے تھے ۔تو معنی اس آیت کایہ ہے کہ میں تم کو رشتے داری یاد دلارہاہوں ۔
(۷) بخاری شریف میں ہے ۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سےپوچھا گیا کہ قرآن مقدس کی اس آیت کا کیا معنی ہے [إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى]تو وہیں پر موجودان کے شاگرد  سعید ابن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ نےکہاکہ ،،قربی ،، سے رسول اللہ کی آل مراد ہے۔تو عبداللہ ابن عباس  رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اے سعید تونے جلدی کی ۔(اسکا مطلب وہ نہیں جوتونے بیان کیا بلکہ )اسکا مطلب یہ ہے کہ قریش میں کوئی  بھی ایسا نہیں تھا جس کی کسی نہ کسی جہت سےنبی کریم ﷺسے قرابت نہ ہو۔تو ان (کفار قریش )سے کہا گیاہے کہ اگر تم خدائی پیغام پہونچانے کااحسان نہیں مانتے تو کم ازکم اسی قرابت کا لحاظ کرو جو ہمارے تمہارے درمیان ہے۔
 اور یہ بھی کہاگیاہےکہ قربی سے رسول اللہﷺقرابت دار مرادہیں اور یہ قول امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ ،عمروابن شعیب ،سدی،اور ایک روایت کے اعتبارسے سعید ابن جبیرکابھی ہے۔کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تورسول اللہ ﷺسے عرض کیا گیا یا رسول اللہ قربی سے کون لوگ مرادہیں ۔تب آپ ﷺنے فرمایا کہ اس سے علی وفاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے مرادہیں ۔ سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے شاگرد امام مجاہد رضی اللہ تعالی عنہ اپنی تفسیرمجاہدمیں فرماتےہیں 
(۸)عن سعيد بن جبير ، عن ابن عباس قال : قال لهم رسول الله ، صلى الله عليه وسلم : لا أَسئلكم عليه أَجراً إِلا أَن تودوني في نفسي لقرابتي وتحفظوا لي القرابة التي بيني وبينكم(تفسیر مجاہد)
عبد اللہ ابن عباس کے شاگرد حضرت مجاہد رضی اللہ تعالی عنہم کی تفسیر مجاہد کی اس عبارت کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہےاس کا لحاظ کرتے ہوئے مجھے تکالیف نہ پہونچاؤ۔
ایسرالتفاسیر لکلام العلی الکبیرمیں حضرت ابوبکر جابر الجزائری فرماتےہیں
(۹){قل لاأسالكم عليه أجراً}اي قل يارسولنالقومك لاأسألكم على التبليغ أجراًأي ثواباً(إلاالمودة في القربى} أي لكن أسألكم أن تودوا قرابتي فتمنعوني حتى أبلغ رسالتى (ایسر التفاسیر)
ایسر التفاسیر کی عبارت کا مفہوم بھی یہی ہے کہ ہمارے تمہارے درمیان جو رشتے داری ہے اس کا لحاظ کرتےہوئےمجھے نہ ستاؤ تاکہ میں تبلیغ رسالت کافریضہ بحسن اخوبی انجام دے سکوں ۔
فتح القدیر میں قاضی شوکانی متوفی ۱۲۵۰ ھ نے فرمایا
(۱۰){ قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً } أي : قل يا محمد : لا أطلب منكم على تبليغ الرسالة جعلا ، ولا نفعاً { إِلاَّ المودة فِى القربى } هذا الاستثناء يجوز أن يكون متصلاً ، أي : إلاّ أن تودّوني لقرابتي بينكم ، أو تودّوا أهل قرابتي . ويجوز أن يكون منقطعاً . قال الزجاج : { إلاّ المودّة } استثناء ليس من الأوّل ، أي : إلاّ أن تودّوني لقرابتي ، فتحفظوني ، والخطاب لقريش . وهذا قول عكرمة ، ومجاهد ، وأبي مالك ، والشعبي ، فيكون المعنى على الانقطاع : لا أسألكم أجراً قط ، ولكن أسألكم المودّة في القربى التي بيني وبينكم ، ارقبوني فيها ، ولا تعجلوا إليّ ، ودعوني والناس ، وبه قال قتادة ، ومقاتل ، والسدّي ، والضحاك ، وابن زيد ، وغيرهم ، وهو الثابت عن ابن عباس (فتح القدیرللشوکانی)
قاضی شوکانی کی فتح القدیر کی عبارت کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہےاس کا لحاظ کرتے ہوئے مجھے تکالیف نہ پہونچاؤ۔اور میرے معاملے میں ذرا نتظار کرو،جلدی نہ کرو۔میرامعاملہ میرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان چھوڑدو۔
اور یہی قول ۔عکرمہ،مجاید،ابومالک ،شعبی،قتادہ،مقاتل،السدی،الضحاک،ابن زید،اور عبداللہ ابن عباس  سے بھی یہی ثابت ہے۔
(اسی آیت کی دوسری تفسیر)
(۱۱) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَ،حَدَّثَنَا قَزَعَةُ،يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ،حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ،عَنْ مُجَاهِدٍ،عَنِ ابْنِ عَبَّاس،أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ،قَالَ:لاَ أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ بِهِ مِنَ البَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا إِلاَّ أَنْ تَوَادُّوا اللَّهَ ، وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ.(امام أحمد ابن حنبل)
امام احمد نے روایت کی حسن بن موسی سے،وہ حدیث بیان کرتےہیں قزعہ یعنی ابن سوید  سےوہ  عبداللہ ابن ابی نجیح  سے ،وہ مجاہد سے،و ہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماسے،  کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے  واضح نشانیا ں اور ہدایت لانےپر میں تم کوئی اجر طلب نہیں کرتا ۔بس میرا مطالبہ یہی ہے کہ تم آپس میں لوجہ اللہ ایک دوسرے سے محبت کرو اور اللہ عزوجل کی اطاعت وبندگی بجالاکر اسکا قرب حاصل کرو ۔
نوٹ ۔اس سند میں مذکورقزعہ بن سویدالباہلی کو۔علامہ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ نےالتقریب التہذیب۔ میں ضعیف کہاہےجبکہ حاکم نیساپوری نے المستدرک میں اسےصحیح کہاہے۔
 وهكذاروى قتادة عن الحسن البصري،مثله.اور ایساہی قتادہ نے حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے
اور حبر الامۃ ترجمان القرآن سیدنا حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے اپنی تفسیر میں اسی آیت کے تحت فرمایا۔
خیال رہے  کہ حضرت عبداللہ ابن عباس سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد اہل بیت عظام میں سب سے زیادہ علم والےہیں
(۱۲){ قُل } لهم يا محمد لأصحابك ويقال لأهل مكة { لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ } على التوحيد والقرآن { أَجْراً } جعلاً { إِلاَّ المودة فِي القربى } إلا أن تودوا قرابتي من بعدي ويقال إلاَّ أن تتقربوا إلى الله بالتوحيد في قول الحسن البصري ، وفي قول الفراء تتقربوا إلى الله بالتوبة(تفسیر ابن عباس)
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتےہیں ۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتاہے۔اے محمد (ﷺ)اپنے اصحاب سے کہ دیجیئے ۔اور یہ بھی کہاگیاہے کہ اہل مکہ سے کہ دیجیئے۔ یعنی اے لوگو  احکام الہیہ تم تک پہونچانے میں  ،میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ۔مگریہ کہ میرے بعدمیرے   قرابت کی محبت۔اور حضرت حسن بصری کے قول کے مطابق،  فی القربی ،کامطلب یہ ہے کہ اللہ رب العزت کا قرب ،اس کی وحدانیت کا اقرار کر کےحاصل کرو۔اور امام ،فرا ،کے مطابق اس کا معنی ہے کہ ۔توبہ کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرو۔
(۱۳)وهذا كأنه تفسير بقول ثان، كأنه يقول: { إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى } أي: إلا أن تعملوا بالطاعة التي تقربكم عند الله زلفى۔
صاحب تفسیر ابن کثیر حافظ اسمعیل بن عمر بن ضوءبن کثیر القرشی الشافعی کہتے ہیں ۔گویا یہ اسی آیت کریمہ کی دوسری تفسیر ہے۔یعنی میرا مطالبہ یہی ہے کہ خداکی ایسی  اطاعت بجالاؤ جو تمہیں رحمت الہی کے قریب کردے۔
 (تیسری تفسیر)
 (۱۴)وقول ثالث: وهو ما حكاه البخاري وغيره، رواية عن سعيد بن جبير، ما معناه أنه قال: معنى ذلك أن تودوني في قرابتي، أي: تحسنوا إليهم وتبروهم.
اسی آیت کریمہ میں تیسرا قول وہ ہے جسے سیدنا امام بخاری  کے علاوہ اور بھی لوگوں نےسعید بن جبیر سے روایت  کیا ہے کہ مجھ سےمحبت کرومیرے رشتے دار ہونے   کی وجہ ۔یعنی ان کے ساتھ احسان و بھلائی کا برتاؤ کرو۔
نوٹ ۔اس حدیث کے الگ الگ جملوں  اور پوری کو بھی  میرے لپ ٹاپ میں موجود مکتبہ شاملہ میں  کافی تلاش کیا مگر مجھے بخاری شریف میں نہ ملی۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ حضرت سعید ابن جبیر نے اُس واقعہ سے پہلے اپنا یہ نظریہ بیان فرمایا ہو ۔جس میں  حضرت عبداللہ ابن عباس  رضی اللہ عنہما  نے  ان کی اصلاح فرمائی تھی ۔اور اسے امام بخاری رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی صحیح میں نقل فرمایا ہے۔
 تفسیر نسفی کے مصنف قاضی ابوبکرابن عربی مالکی متوفی ۵۴۳ھ اسی آیت کے تحت فرماتے ہیں۔
(۱۵)ولما قال المشركون : أيبتغي محمد على تبليغ الرسالة أجراً نزل { قُل لاَّ أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ } على التبليغ { أَجْراً إِلاَّ المودة فِى القربى } يجوز أن يكون استثناء متصلاً أي لا أسألكم عليه أجراً إلا هذا وهو أن تودوا أهل قرابتي ، ويجوز أن يكون منقطعاً أي لا أسألكم عليه أجراً قط ولكني أسألكم أن تودوا قرابتي الذين هم قرابتكم ولا تؤذوهم(تفسیر نسفی)
تفسیر نسفی میں ہے کہ ۔جب مشرکین نے کہا کہ،،کیا محمد(ﷺ)احکام الہیہ پہونچانے میں کسی معاوضہ کے خواہاں ہیں ؟تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔یہ بھی جائز ہے کہ اس آیت میں مستثنی متصل ہو۔یعنی میں اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا مگریہ کہ میرے قرابت دار وں سے محبت کرو ۔ اور یہ بھی جائزہے کہ مستثنی     منقطع ہو  ۔یعنی ،میں تم سے کچھ بھی اجر طلب نہیں کرتا لیکن یہ میرے رشتےدار جوکہ تمہارے بھی قرابت دار ہیں ان سے محبت کرو۔اور انہیں نہ ستاؤ۔
صاحب تفسیر طبری حضرت ابو جعفرمحمد   ابن جریر طبری (ولادت ۲۲۴،وصال،۳۱۰،)کہتے ہیں کہ
(۱۶)حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَتِ الأَنْصَارُ : فَعَلْنَا وَفَعَلْنَا ، فَكَأَنَّهُمْ فَخَرُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَوِ الْعَبَّاسُ ، شَكَّ عَبْدُ السَّلاَمِ : لَنَا الْفَضْلُ عَلَيْكُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ تَكُونُوا أَذِلَّةً فَأَعَزَّكُمُ اللَّهُ بِي ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : أَلَمْ تَكُونُوا ضُلاَّلاً فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : أَفَلاَ تُجِيبُونِي ؟ قَالُوا : مَا نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَلاَ تَقُولُونَ : أَلَمْ يُخْرِجْكَ قَوْمُكَ فَآوَيْنَاكَ ، أَوَلَمْ يُكَذِّبُوكَ فَصَدَّقْنَاكَ ، أَوَلَمْ يَخْذُلُوكَ فَنَصَرْنَاكَ ؟ قَالَ : فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى جَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ ، وَقَالُوا : أَمْوَالُنَا وَمَا فِي أَيْدِينَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ قَالَ : فَنَزَلَتْ {قُلْ لاَ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى}(طبری)
ہم سے حدیث بیان کی ابوکریب نے ان سے مالک بن اسمعیل نے ان سےعبد السلام نےان سے یزیدابن زیاد نے ان سےمقسم نے اور ان سے عبداللہ ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ  ۔انصار نےفخریہ انداز میں اپنے کارناموں کو بیان کیا ۔تو عبداللہ ابن عباس یا عباس ہےرضی اللہ تعالی عنہما راوی کو شک ہے۔نے ان سے کہا کہ ہمیں تم پر فضیلت حاصل ہے۔اس گفتگو کی خبر آقا ﷺ کو ہوئی تو آپ ان کی مجلس میں تشریف لائے اور فرمایا. اے انصاریو ۔کیا تم ذلیل نہ تھے ؟پھر میرے ذریعہ اللہ نے تمہیں عزت بخشی۔انہوں نے کہا ہاں ایساہی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا کیا تم گمراہ نہ تھے ؟کہ اللہ عزوجل نے میرے ذریعہ تم کو ہدایت دی ۔انہوں نےکہا کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺایساہی ہے۔آپ ﷺنے فرمایا تم جواب کیوں نہیں دیتے؟۔عرض کی یارسول اللہ ہم کیا جواب دیں ۔آپ ﷺ نے فرمایاتم یہ کیوں نہیں کہتے کہ۔ آپ کو آپ کی قوم نےنکالا تو ہم نے ٹھکانا دیا  ۔آپ کی قوم نے آپکو جھٹلایا اور ہم نے تصدیق۔ آپ کی قوم نےآپ کو  رسواکرنا چاہا۔تو ہم نے آپ کی مددکی۔راوی کہتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہی فرماتے رہےیہانتک کہ انصار گھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر بولے کہ ،ہمارے اموال اور جوکچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کاسب اللہ اور اس کے رسول کے لیئے ہے۔راوی کہتے ہیں کہ پھر یہ { قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى }نازل ہوئی ۔
اس حدیث میں قابل غور چند امورہیں (۱)سیاق کلام اس امر کی شہادت دے رہاہے کہ یہ واقعہ بعد ہجرت مدینہ کاہے مکہ کانہیں۔(۲) اس کے راوی عبدالسلام کو اس بات میں شک ہے کہ  انصار کے اپنے اعمال صالحہ اور اعانت اسلام وبانی اسلام ﷺپر فخر کرنے اور اہل بیت سے برتری ثابت کرنے کاجواب  حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما  نے دیا ۔یا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے ۔ (۳)اگر حضرت عبد اللہ ابن عباس نے رضی اللہ عنہ نے دیا تو عرض ہے ۔کہ  آقا ﷺکےاپنےرفیق اعلی سے ملنے کےوقت  آپ کی عمر تقریبا تیرہ سال سے زیادہ نہ تھی ۔ظاہر سی بات ہے کہ واقعہ اگرہے تو اس سے پہلے کاہے۔ اور اتنی کم عمر میں اتنے اہم معاملے میں انصار کی جماعت سے مباحثہ کرنا ذرامشکل ہے۔(۴)اور اگریہ مانا جائے کہ انصار کے تفاخر بالاعمال کاجواب حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے دیا تھا ۔تو عرض ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نےغزوہ بدر کے بعد ایمان کااعلان کیا۔اور  فتح مکہ بلکہ فتح حنین وطائف کے بعد  مدینہ طیبہ ہجرت فرمائی ۔اس  کا مطلب یہ ہوا کہ آٹھ ہجری کے اواخر یا بعد میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔جبکہ صاحب جلالین کے علاوہ تقریبا   سبھی مفسرین ومحدثین کے نزدیک یہ آیت کریمہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
(۱۷) وفي الصحيحين في قسم غنائم حنين قريب من هذا السياق،ولكن ليس فيه ذكر نزول هذه الآية وذكْرُ نزولها في المدينة فيه نظر؛لأن السورة مكية،وليس يظهر بين هذه الآية الكريمة وبين السياق مناسبة،والله أعلم
اورتفسیر ابن کثیرمیں ہے کہ ۔ صحیحین میں  تقریبااسی مفہوم کی حدیث  غزوہ حنین کے اموال غنیمت کی   تقسیم میں  وارد ہوئی ۔لیکن اس میں اس آیت کریمہ کے نزول کا ذکر نہیں ہے۔ یعنی  اس آیت کریمہ کا مدینہ طیبہ میں نازل ہوناہی محل نظر ہے ۔کیوں کہ یہ سورۃ ،،الشوری،، مکی ہے(۶)اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس آیت کریمہ اور مذکورہ واقعہ کےسیاق کلام میں   کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے
(۱۸)وقال السدي، عن أبي الديلم قال: لما جيء بعلي بن الحسين أسيرا، فأقيم على درج دمشق، قام رجل من أهل الشام فقال: الحمد لله الذي قتلكم واستأصلكم، وقطع قرني الفتنة. فقال له علي بن الحسين: أقرأت القرآن؟ قال: نعم. قال: أقرأت آل حم؟ قال: قرأت القرآن، ولم أقرأ آل حم. قال: ما قرأت: { قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى } ؟ قال: وإنكم أنتم  هم؟ قال: نعم.۔(ابن کثیر)
سدی نے ابودیلم نے بیان کیاکہ کربلاکے حادثۂ   فاجعہ کے بعد جب سیدنا حضرت علی بن حسین  یعنی امام زین العابدین  رضی اللہ تعالی عنہما ملک شام لے جائے گئے ۔تو وہاں ایک شامی نے کہا کہ ۔خداکاشکر ہے کہ اسنے (معاذاللہ  صد بار معاذاللہ ) فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔ (فتنہ سے اسکی مراد شہداء کربلاتھے ) یہ سن کر سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ،کیا تو کبھی قرآن بھی پڑھتاہے؟ اسنے اثبات میں جواب دیا ۔تب آپنے فرما یا کہ آل حم بھی پڑھی ہے ؟اس نے کہا میں نے قرآن پڑھاہے مگر اس میں آل حم نہیں پڑھی ۔ تب آپ نے فرمایا  کیا تونے یہ نہیں پڑھا { قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى }اس شامی نے کہاہاں  پڑھی ہے تواس آیت سےتمہیں مرادہو؟تب امام رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا  ،ہاں ،
(۱۹)وقال السُّدِّي،عن أبي الديلم قال:قال علي بن الحسين لرجل من أهل الشام:أما قرأت في الأحزاب{ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا }قال: نعم، ولأنتم هم؟ قال: نعم.(ابن کثیر) .سدی نے ابودیلم نے بیان کیاکہ کربلاکے حادثۂ   فاجعہ کے بعد جب سیدنا حضرت علی بن حسین  یعنی امام زین العابدین  رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا ،کیا تو کبھی قرآن بھی پڑھتاہے ۔اسنے اثبات میں جواب دیا ۔تب آپنے فرما یا کہ کیا تونے سورہ احزاب میں یہ نہیں پڑھا {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا}اس شامی نے کہاہاں  پڑھی ہے ۔تواس آیت میں تمہیں مرادہو؟تب حضرت امام  زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا  ،ہاں ،
(الدرالمنثور  فی التفسیر بالماثور ،بیان المعانی،تفسیرابن کثیر،تفسیر طبری،جامع البیان ،روح المعانی)تفاسیر کی ان تمام کتابوں میں یہ روایت موجودہے اور سبھی میں سدی نے ابودیلم سے ہی روایت کیا ہے ۔مگر ابودیلم کی ہی روایت جو ابن کثیر میں ہے اس میں آیت کریمہ بجائے سورہ شوری ،سورہ احزاب کی یہ آیت ہے{ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا }دونوں روایتوں میں وجہ فرق سمجھ میں نہ آیا کہ  ایک ہی واقعہ ایک ہی راوی پھر یہ فرق کیسا۔جبکہ متون احادیث میں تلاش بسیار کے بعد بھی یہ روایت مجھے نہ ملی ۔
(۲۰)وقال ابن أبي حاتم:حدثنا علي بن الحسين،حدثنا رجل سماه،حدثنا حسين الأشقرعن قيس، عن الأعمش، عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال:لما نزلت هذه الآية:{قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} قالوا:يارسول الله،من هؤلاء الذين أمر الله بمودتهم؟قال:فاطمة وولده،عليهم السلام"
صاحب تفسیر  ابن ابی حاتم امام ابو عبدالرحمن ابن ابی حاتم  الرازی متوفی ،۳۲۷،۔ کہتے ہیں کہ۔ ہم سے حدیث بیان کی سیدنا حضرت   علی بن حسین  یعنی امام زین العابدین نے وہ ا یک شخص سے ۔( راوی کہتےہیں کہ اس کا نام مجھ سے بتایا تھا مگر مجھے یاد نہ رہا ،)وہ حسین اشقر سے  وہ قیس وہ اعمش سے وہ سعید ابن جبیر سے اور وہ حضرت عبداللہ ابن عباس سے۔وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى}لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺوہ کون حضرات ہیں جن سے محبت کرنے کا ہمیں حکم دیاگیا ہے۔آپ ﷺنے فرمایا وہ فاطمہ اور ان کی اولاد ہیں رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ۔
(۲۱)فَقَالَ اِبْنُ كَثِيرٍ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ فِيهِ مُتَّهَمٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا عَنْ شَيْخٍ شِيعِيٍّ مُخْتَرِقٍ وَهُوَ حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ وَلَا يُقْبَلُ خَبَرُهُ فِي هَذَا الْمَحَلِّ.وَالْآيَةُ مَكِّيَّةٌ وَلَمْ يَكُنْ إِذْ ذَاكَ لِفَاطِمَةَ أَوْلَادٌ بِالْكُلِّيَّةِ فَإِنَّهَا لَمْ تُزَوَّجْ بِعَلِيٍّ إِلَّا بَعْدَ بَدْرٍ مِنْ السَّنَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ الْهِجْرَةِ ،
صاحب ابن  کثیر کہتے ہیں کہ ۔او راس کی  سندضعیف ہے اس میں ایک ایسے  شیخ سے روایت ہےجو سخت قسم کا شیعہ ہے  ۔اور وہ حسین اشقرہے۔ایسی جگہ اس کی اور  ان جیسوں کی خبر قبول نہیں کی جاسکتی۔اوردوسری بات ۔ مدینہ منوہ میں اس آیت کا نازل ہونا  بھی  محل نظر ہے اس لیئےکہ یہ سوۃ مکی ہے ۔اوریہ قطعا یقینی ہے کہ اس وقت سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے اولاد نہ تھی ۔کیونکہ سیدنا حضرت  علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کی شادی ہی  غزوہ بدر کے بعد ،۲،ہجری میں ہوئی ہے۔ لہذا جب قبل  ہجرت شادی ہی نہ ہوئی تھی  تو یہ کہنا کہ اس سے فاطمہ اور ان کی اولاد مراد ہیں کیسےدرست ہو سکتا ہے۔
(۲۲)وهكذا رواه ابن أبي حاتم، عن علي بن الحسين، عن عبد المؤمن بن علي، عن عبد السلام، عن يزيد بن أبي زياد -وهو ضعيف-بإسناده مثله، أو قريبا منه. (ابن کثیر)
صاحب تفسیر ابن کثیر حافظ اسمعیل بن عمر بن ضوءبن کثیر القرشی الشافعی کہتے ہیں ۔اور ایساہی صاحب تفسیر  ابن ابی حاتم امام ابو عبدالرحمن ابن ابی حاتم  الرازی متوفی ،۳۲۷،نےسیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت  عبد المؤمن بن علی ، عبدالسلام ،یزید بن ابی زیاد کے ذریعہ اپنی تفسیر میں درج کی ہے ۔حالانکہ اس روایت کی سند میں موجود ایک راوی ،یزید ابن ابی زیاد،  ضعیف ہے۔
(۲۳)وفى التأويلات النجمية قل يا محمد لا اسألكم على التبشير أجرا لأن الله ليس يطلب منكم على الفضل عوضا فانا ايضا لا اسألكم على التبشير أجرا فان المؤمن اخذ من الله خلقا حسنا فكما أن الله تعالى بفضله يوفق العبد للايمان ويعطى الثواب لمن آمن به وليس يرضى بان يعطيك فضله مجانا بل يعطيك عليه اجرا كذلك ليس يرضى لرسوله صلى الله تعالى عليه وسلم بان يطلب منك اجرا على التبليغ والتبشير بل يشفع لك ايضا۔
تاویلات نجمیہ میں ہے  کہ۔اے محمد( ﷺ)آپ فرمادیجیئےکہ میں اس (توحید ورسالت کے اقرارپرجنت ونعیم جنت کی)خوشخبری پر میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔کیوں کہ اللہ رب العزت تم پر اپنافضل وکرم فرمانے پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں فرماتا۔ تومیں بھی اس بشارت عظمی پرکوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔کیوں کہ ایک مومن متخلق باخلاق اللہ ہوتاہےتو جس طرح اللہ رب العزت اپنے فضل واحسان سے بندےکو ایمان کی توفیق عطافرماتاہے۔اللہ تعالی کو یہ پسند نہیں ہےکہ تمہیں صرف اپنا فضل ہی مفت میں عطافرمائے ۔بلکہ بندوں کواس پر عمل کرنے پراجربھی عطافرماتاہے۔یونہی وہ یہ بھی پسند نہیں فرماتا کہ اس کے رسول ﷺ تبلیغ نبوت ورسالت اوربشارت عظمی پر تم سے کوئی معاوضہ طلب کریں ۔بلکہ وہ توتمہاری شفاعت بھی کریں گے۔(تفسیر حقی)
(۲۴){ الا المودة فى القربى } المودة مودة الرسول عليه السلام والقربى مصدر كالزلفى بمعنى القرابة التى هى بمعنى الرحم وفى للسببية وبمعنى اللام متعلقة بالمودة ومودته كناية عن ترك اذيته والجرى على موجب قرابته سمى عليه السلام المودة اجرا، واستثناها منه تشبيهاً لها به، (تفسیرحقی)
اور الاالمودۃ فی القربی۔سے رسول اللہ ﷺکی مودت ومحبت مرادہے۔اورلفظ  ،قربی،مصدر ہے جیسے کہ ،زلفی،قرابت کے معنی میں اور قرابت رحم کے معنی میں ۔اور ،فی،سببیت کےلیئے ہے ،لام ،کےمعنی میں جوکہ مودت سےمتعلق ہے۔اوران سے محبت کرنا کنایہ ہے ۔کہ ان کو تکلیف دینابند کردو (کیونکہ فرد واحد پر محبت واذیت جمع نہ ہوگی)اور نبی کریم ﷺنے مودۃ کو اجر سے موسوم  فرمایا ہےاور اس سے مشابہت کی وجہ سے اس کو مستثنی ماناہے ۔
(۲۵)وذلك لأنه لا يجوز من النبى عليه السلام ان يطلب الاجر ايا كان على تبليغ الرسالة لأن الانبياء لم يطلبوه  وهو اولى بذلك لأنه افضل ولأنه صرح بنفيه ه قل ما اسألكم عليه من اجر ولأن التبليغ واجب عليه لقوله تعالى { بلغ ما انزل اليك } وطلب الاجر على اداء الواجب لا يليق ولأن متاع الدنيا اخس الاشياء فكيف يطلب فى مقابلة تبليغ الوحى الالهى الذى هو أعز الاشياء لأن العلم جوهر ثمين والدنيا خزف مهين ولأن طلب الاجر يوهم التهمة وذلك ينافى القطع بصحة النبوة فمعنى الآية لا اسألكم على التبليغ اجرا اصلا الا ان تودونى لاجل قرابتى منكم وبسببها وتكفوا عنى الاذى ولا تعادونى ان كان ذلك اجرا يختص بى لكنه ليس باجر لأنه لم يكن بطن من بطونكم يا قريش الا وبينى وبينها قرابة فاذا كانت قرابتى قرابتكم فصلتى ودفع الاذى عنى لازم لكم فى الشرع والعادة والمروءة سوآء كان منى التبليغ او لا وقد كنتم تتفاخرون بصلة الرحم ودفع الاذى عن الاقارب فما لكم تؤذوننى(تفسیر حقی)
اور یہ تبلیغ نبوت ورسالت پر آقا ﷺکا اجر  طلب کرنا ۔خواہ وہ کتنا بھی قلیل وحقیر ہوا س لیئے بھی صحیح نہیں۔(۱) کہ کسی بھی نبی نے تبلیغ نبوت ورسالت پر اجر  طلب نہیں  کیا ۔تو پھر وہ جو نبیوں کے بھی نبی ،اور سب سے افضل و اعلی ہیں  ۔وہ کیسے اس فریضہ خداوندی کی ادائیگی پر  کسی مخلوق سے معاوضہ کے طلب گار ہوں گے۔
(۲)خصوصا جبکہ طلب اجر کی صراحتا نفی بھی وارد ہے۔ارشاد ربانی ہے۔قُلْ مَاأَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍوَمَاأَنَامِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (86ص)تم فرماؤ میں اس قرآن پر میں تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں میں سے نہیں (کنزالایمان )
(۳)اور اس لیئے بھی اجر طلب کرنا درست نہیں کہ احکام الہیہ کی تبلیغ آپ ﷺپر واجب تھی ۔ارشاد ربانی ہے ۔يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ (67مائدہ)اے رسول( ﷺ )آپ وہ تمام احکام  میرے بندوں تک پہونچا دیجیئے جو آپ کی طرف وحی کیئے گئے ہیں ۔اور ادائے واجب پر طلب اجر لائق نہیں ۔
(۴)اور اس لیئے بھی کہ متاع دنیا   سب سےزیادہ  خسیس چیز ہے۔تو احکام الہیہ کے عوض کیسے طلب کی جاسکتی ہے جبکہ تبلیغ وحی الہی  اور تمام اشیا میں سب سے زیادہ معزز شی ہے۔
(۵)اس لیئے بھی کہ  علم ایک قیمتی جوہر ہے اور متاع دنیا ذلیل ٹھیکری ۔
(۶)اور اس لیئے بھی کہ  اجرطلب کرنے سے تہمت کا وہم ہوتاہےاور یہ  قطعانبوت کی درستگی کےمنافی ہے۔
تو آیت کامعنی یہ ہے کہ ۔تبلیغ احکام الہیہ پرقطعا میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔میں توصرف  یہ چاہتاہوں کہ ہمارے تمہارے درمیان جورشتے داریاں ہیں انہیں کا پاس ولحاظ کرتے ہوئے تم مجھ سے محبت ومودت کرو،اور  مجھے تکلیفیں نہ پہونچاؤ ،اور نہ ہی مجھ سے دشمنی کرو۔اگریہ اجر ہے تو میرے ہی ساتھ خاص ہے۔لیکن حقیقت میں یہ اجر نہیں ہے۔ کیوں کہ قریش میں کوئی قبیلہ ایسانہ تھا جو آقا ﷺکا رشتے دار نہ ہو ۔توجب جو میری رشتے داری ہے وہی تمہاری بھی ہے۔تو مجھ سے صلہ رحمی کرنااور مجھ سے مصائب وتکالیف کو دور کرنا تم پر حتی الامکان  شرعًا،عادتًا،اور مروتًا ،ہر حال میں  لازم ہے۔خواہ میں تبلیغ احکام الہیہ کروں یا نہ کروں ۔جبکہ اس سے پہلے تمھارا حال یہ تھا کہ تمہیں  صلہ رحمی اور رشتے داروں سے مصائب وآلام کو دفع کرنے پر اپنے آپ پرفخر کرتے تھے ۔تو اب کیا وجہ ہے کہ مجھے ستاتے ہو۔
تفسیر قشیری میں ہے
(۲۶){ قُل لاَّ أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبَى } .قُلْ -يا محمد- لا أسألكم عليه أجراً . مَنْ بَشَّرَ أحداً بالخير طَلَبَ عليه أجراً ، ولكنَّ اللَّهَ -وقد بَشَّرَ المؤمنين على لسان نبيِّه بما لهم من الكرامات الأبدية -لم يطلب عليه أجراً؛ فاللَّهُ - سبحانه- لا يطلب عِوَضاً ، وكذلك نبيُّه - صلى الله عليه وسلم - لا يسأل أجراً؛ فإن المؤمنَ قد أخذ من الله خُلُقَاً حَسَناً . . . فمتى يطلب الرسولُ منهم أجراً؟! . وهو - صلوات الله عليه - يشفع لكلِّ مَنْ آمن به ، والله - سبحانه - يعطي الثوابَ لكل مَنْ آمن به .{ إلاَّ الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبَى } : أراد أن تثبت مودتك في القربى؛ فتودّ منْ يتقرَّب إلى الله في طاعته .(قشیری)
اس آیت کے تحت صاحب تفسیر قشیری فرماتے ہیں کہ ۔اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے کہ اے محمد(ﷺ)آپ لوگوں سے کہ دو کہ میں تم سے وحی الہی کی تبلیغ پرکوئی عوض طلب نہیں کرتا۔(اور دنیا والوں کا قاعدہ یہ ہے کہ )جب کسی کو بھلائی کی خوش خبری سناتے ہیں تو اجر طلب کرتےہیں ۔لیکن اللہ عزوجل اپنے پیغمبروں کی زبانی مومنین کو ہمیشہ رہنے والی کرامتوں کی خوش خبری دیتاہے۔ لیکن اس پر کوئی اجر طلب نہیں فرماتا ۔اور یونہی نبی کریم ﷺبھی کسی سے اجر کا مطالبہ نہیں فرماتے ۔اس لیئے بھی کہ سچا مومن  اخلاق الہیہ کا پرتو ہوتاہے۔تو رسول اللہ ﷺکیسے عوض کا مطالبہ فرماسکتے ہیں ۔جبکہ حال یہ ہے کہ آپ ﷺہر اس مومن کی شفاعت بھی فرمائیں گے جو اللہ عزوجل پر ایمان لایا۔اور اللہ تبارک وتعالی انہیں ہر اس شخص کے اعمال صالحہ کا ثواب بھی عطافرمائیگا جوایمان لے آیا ۔تو قرابت داروں میں تمہاری محبت ثابت کرنے کا ارادہ فرمایا۔تو محبت کرو ہر اس شخص سے  جو  اطاعت خداوندی کے ذریعہ  اللہ عزوجل کا قرب حاصل  کرے۔
محاسن التاویل تفسیر القاسمی میں ہے
(۲۷)الوجه الخامس .أنه قال:{ لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى}لم يقل إلا المودة للقربى ولا المودة لذوي القربى.فلو أراد المودة لذوي القربى لقال المودة لذوي القربى كما قال:{ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى}[ الأنفال: 14 ]،وقال:{ مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى}[الحشر: 7 ]، وكذلك قوله:{ وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ} [الإسراء: 26 ]،وقوله:{ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى}[ البقرة: 177 ]،وهكذا في غير موضع . فجميع ما في القرآن من التوصية بحقوق ذوي قربى النبي صلى الله عليه وسلم،وذوي قربى الْإِنْسَاْن إنما قيل فيها:ذوي القربى.لم يقل:في القربى.فلما ذكر هنا المصدر دون الاسم ، دل على أنه لم يرد ذوي القربى (محاسن التاویل تفسیر القاسمی)
اورصاحب  محاسن التاویل سید محمد جمال الدین ابن محمد سعید القاسمی الدمشقی متوفی۱۳۳۲ھ نے۔   اُن آٹھ وجوہات کابیان کرتے ہوئے کہ، الا المودۃ فی القربی ،سے اہل بیت مصطفے ﷺکی محبت مرادنہیں ہے۔پانچویں وجہ میں بیان کرتے ہیں کہ :{ لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} کہا،لیکن ،إلا المودة للقربى۔اور نہ ہی ،المودة لذوي القربى ،کہا۔تو اگر اللہ رب العزت قرابت داروں کی محبت کا ارادہ فرماتا توضرور۔،المودۃ فی القربی ،کی جگہ، المودۃ لذوی القربی، فرماتا۔جیساکہ اللہ عزوجل نے فرمایا { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى}[الأنفال: 14]اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لوتو اسکا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول اور قرابت والوں کاہے(کنزالایمان)۔اور فرمایا{مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى)[الحشر7]جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے وہ اللہ اور رسول کی ہےاور رشتے داروں کے لیئے(کنزالایمان) اور یونہی یہ فرمان باری تعالی{وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ}[الإسراء: 26]اور رشتے داروں کو اُن کا حق دے اور مسکین اور مسافرکو (کنزالایمان )اور فرمایا{وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى[ البقرة :177]اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتے داروں کو(کنزالایمان)اور ایسا ہی قرآن مقدس میں  بہت سی جگہ ارشاد ہوا۔توقرآن میں جہاں کہیں بھی رسول اللہ ﷺیا اوروں کے قرابت داروں کے حقوق کاحکم ہواہے۔وہاں پر،ذوی القربی ،کہا گیا ہے ،فی القربی،نہیں ۔اوریہاں مصدر ذکر کیا گیا ہے اسم نہیں ۔ یہ اس بات پر دلالت ہے کہ یہاں ذوی القربی (یعنی رشتےدار)مراد نہیں ہیں ۔
(۲۸)ولا ريب أن محبة أهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم واجبة.لكن لم يثبت وجوبها بهذه الآية،ولامحبتهم أجرللنبي صلى الله عليه وسلم.بل هومما أمرناالله به كماأمرنابسائرالعبادات(محاسن التاویل  تفسیرالقاسمی) اورصاحب محاسن التاویل  نے ان آٹھ وجوہات کابیان کرتے ہوئے کہ، الا المودۃ فی القربی ،سے اہل بیت مصطفے ﷺکی محبت مراد نہیں ہے۔ ساتویں وجہ میں فرماتے ہیں کہ۔ اس میں  کوئی شک نہیں کہ یقینا رسول اللہ ﷺکے اہل بیت کی محبت مسلمانوں پر واجب ہے۔ لیکن اس کے وجوب کا ثبوت اس آیت سے نہیں ۔اور نہ ہی مصطفے ﷺاور اہل بیت مصطفے ﷺکی محبت ،تبلیغ نبوت ورسالت کا اجر ہوسکتی ہے۔بلکہ ان کی محبت تو ان امور میں سے ہے جنکادیگر عبادات کی طرح   اللہ رب العزت نےمومنین کو حکم فرمایاہے ۔
آگے فرماتےہیں ۔(۲۹)فمن جعل محبة أهل بيته أجراًله يوفيه إياه،فقدأخطأخطأًعظيماً.ولو كان أجراً له[لم] نُثَب عليه نحن؛لأنا أعطيناه أجره الذي يستحقه بالرسالة.فهل يقول مسلم مثل هذا؟(محاسن التاویل تفسیرالقاسمی)
تو جس کےنزدیک تبلیغ  وحی الہی کوئی ایسی  چیز ہےکہ ۔ صرف اہل بیت مصطفے ﷺسےمحبت کر لی جائے تو رسول اللہ ﷺکا امت پر جواحسان عظیم ہے اور امت کی طرف سے جس اجرکے آپ ﷺ مستحق ہیں وہ اداہوجائے گا ۔تو یقینا وہ بہت بڑی غلطی پرہے۔اور اگر بفرض غلط اسے تسلیم کرلیا جائےکہ ۔تب توپھر مسلمانوں کو نبی معظم ﷺاور ان کی آل پاک سے محبت کرنے پر ثواب نہ ملے گا ۔ کیونکہ  اسکا سیدھا سا مطلب یہ ہوگا کہ ۔ جو محنت ومشقت رسول اللہ ﷺنے کار تبلیغ میں برداشت فرمائی  اسکا معاوضہ یہ ہے کہ تمام  مسلمان ان سے اور ان کی آل پاک سے محبت  اوران کی تعظیم کریں۔   تو مسلمان کررہے ہیں ۔لہذا  یہ محبت کرنا آقا ﷺکا حق محنت ہوا  ۔ لہذا مسلمانوں کو اس محبت وتعظیم پر ثواب نہیں ملے گا  ۔کیونکہ قاعدہ ہے کہ اگر ہم کسی سے  محبت یا کوئی  مدد کسی معاوضہ کے تحت کررہے ہیں  توثواب کہاں رہا ۔تو کیا مسلمانوں میں ایسا  کوئی ہے جو ایسا نظریہ رکھتاہو۔
میرا اپنا نظریہ تویہ ہے کہ نماز،روزہ،زکوۃو ،حج،کی اہمیت اپنی جگہ ہے یہ فرائض ہیں ان سے توکسی کو مفرہی نہیں  ان پر ملنے والے ثواب کو بھی اللہ ہی بہتر جانے مگر نبی معظم ﷺاور ان کی آل پاک کی محبت کے بنا بھی ایمان قابل قبول نہیں ۔
ہزاروں رونگٹے ہر رونگٹے میں ہوں اگر پیدا ۔۔ہراک کرتارہے شکرخداجب کہ زندہ ہے
مگر پھر بھی اداہوگا نہ شکر اس ایک نعمت کا ۔۔کہ اس نے اپنے پیارے کی ہمیں امت بنایاہے(محمد اکبر علی )
کیا یہ آیت منسوخ ہے؟
(۳۰)وقال قوم: الآية منسوخة وإنما نزلت بمكة، وكان المشركون يؤذون رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فنزلت هذه الآية، وأمرهم الله بمودة نبيه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وصلة رحمه، فلما هاجر آوته الأنصار ونصروه، وأراد الله أن يلحقه بإخوانه من الأنبياء حيث قالوا:" وَما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلى رَبِّ الْعالَمِينَ[الشعراء: 109] فأنزل الله تعالى:" قُلْ ما سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ" [سبأ: 47] فنسخت بهذه الآية وبقوله:"قُلْ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ" [ص: 86]، وقوله." أَمْ تَسْأَلُهُمْ خَرْجاً فَخَراجُ رَبِّكَ خَيْرٌ" «4» [المؤمنون: 72]، وقوله:" أَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ" «5» [الطور: 40]، قاله الضحاك والحسين بن الفضل. ورواه جويبر عن الضحاك عن ابن عباس. قال الثعلبي: وليس بالقوي، وكفى قبحا بقول من يقول: إن التقرب إلى الله بطاعته ومودة نبيه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ واهل بيته منسوخ، (تفسیر قرطبی(
بعض حضرات کانظریہ ہےکہ یہ آیت منسوخ ہے۔کیونکہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہےاور وہاں مشرکین رسول اللہ ﷺ کو ستاتے تھے توانہیں حکم دیاگیاکہ رسول اللہ کیساتھ محبت اور صلہ رحمی کا برتاؤ کریں ۔اور جب ہجرت ہوگئی اورانصار نے آپ ﷺکی مدد فرمائی۔ تواللہ رب العزت نے ارادہ فرمایاکہ رسول اللہ ﷺبھی دوسرے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی طرح   یہ فرمائیں ۔
وَما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلى رَبِّ الْعالَمِينَ [الشعراء: 109]
کہ میں تبلیغ احکام الہیہ پرتم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔میرا اجر تو اللہ رب العالمین کے ذمہ کرم پرہے۔تواللہ عزوجل نےیہ آیت کریمہ نازل فرمائی :" قُلْ ما سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ" [سبأ 74]
تم فرماؤ میں نے اس پرکچھ اجرمانگاہو تووہ تمہیں کو۔میرااجرتواللہ پرہے۔(کنزلایمان)
تویہ آیت منسوخ ہوگئی۔مزید اسی مفہوم کی یہ آیتیں بھی ہیں ۔
قُلْ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ[ص 86]
تم فرماؤ میں قرآن پر  تم سے کچھ اجرنہیں مانگتااور بناوٹ والوں میں نہیں ،(کنز الایمان )
وقوله.أَمْ تَسْأَلُهُمْ خَرْجاً فَخَراجُ رَبِّكَ خَيْرٌ"[المؤمنون: 72)
کیاتم ان سے کچھ اجرت مانگتے  ؟توتمہارے رب کااجر سب سےبھلا ۔(کنز الایمان)
أَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ" [الطور: 40]
،کیا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو؟تووہ  چٹی (تاوان)کےبوجھ میں دبے ہیں ۔(اس آیت کی تفسیرمیں حضور صدرالافاضل نعیم الدین مرادابادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ۔،،اور تاوان کی زیرباری سے اسلام نہیں لاتے ۔یہ بھی تونہیں ہے۔پھراسلام لانے میں انہیں کیا عذرہے،،) تفسیر حقی کے مطابق  اس آیت کے منسوخ ہونے کا قول ،ضحاک اور حسن ابن فضل نے کیا ہے۔اوراسے  روایت کیا ہے،جویبر ،نے،ضحاک سے ،اورضحاک نے  حضرت عبداللہ ابن عباس سے ۔
اور ثعلبی کہتے ہیں کہ یہ بات قوی نہیں ہے اور اس قول کی قباحت کے لیئے اتناہی کافی ہے کہ یہ کہاجائے کہ اطاعت وبندگی کے ذریعہ اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنا اور رسول اللہﷺاور ان کی اہل بیت سے محبت کرنے کا حکم منسوخ ہے ۔
تفسیر قرطبی کی عبارت مذکورہ کا مفہوم تمام ہوا۔
اس فقیر پرتقصیر (محمداکبرعلی برکاتی)کے نزدیک بھی ضحاک کاقول ماننےکے قابل نہیں ہے۔کیونکہ  مذکورہ تینوں باتوں میں کوئی ایک بھی ایسی نہیں جسے ترک کیا جاسکتاہو۔بلکہ  یہی توحاصل ایمان ہیں ۔اطاعت وعبادت خداوندی کے لیئے تو ارشادہے ۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ(56الذاریات)میں نے جن اانس کو اپنی عبادت کے لیئےپیدا کیا۔
اور نبی معظم ﷺ کی محبت کے لیئے تو اعلی حضرت نے بڑی پیاری بات کہی ہے ۔
شکل بشر میں نور الہی اگر نہ ہو ۔کیا قدر اس خمیرہ ماؤمدر کی ہے
نور الہ کیاہے محبت حبیب کی ۔جس دل میں یہ نہ ہو وہ جگہ خوک وخرکی ہے
تو یہ آیت کریمہ  منسوخ کیسے ہوسکتی ہے۔مگر اس کا معنی وہی ہے جوسیدناحضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما  سے بخاری شریف میں مروی ہے۔یعنی دیگر انبیاءکرام علی نبینا وعلیہم الصلواۃ والتسلیمات کی طرح ہمارے آقا ومولی جوکہ سید الانبیا ء والمرسلین ہیں  احکام خداوندی کی تبلیغ پر کیسے کسی مخلوق سے معاوضہ کا مطالبہ کرسکتے ہیں ۔
اسی مفہوم پر مزید آیات قرآنیہ تلاوت فرمالیجیئے۔
اور یہی آیت سورہ قلم میں بھی ہے اور یہی مفہوم مرادہےأَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ(46القلم)
اور سورہ فرقان میں ہے۔ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَّخِذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا (فرقان57)
تم فرماؤ میں اس (تبلیغ وارشاد)پرتم سےکچھ اجرت نہیں مانگتامگرجوچاہے اپنے رب کی طرف راہ لے۔(کنز الایمان)خزائن العرفان اسی آیت کے تحت حاشیہ نمبر،۱۰۲،میں ہے،،اور اس کاقرب اور اس کی رضا حاصل کرے۔مراد یہ ہے کہ ایمان داروں کاایمان لانااور انکا اطاعت الہی میں مشغول ہونا میرااجرہے۔کیونکہ اللہ تبارک وتعالی اس پر مجھےجزاعطافرمائیگا۔اس لیئے کہ صلحائے امت کے  ایمان اور ان کی نیکیوں کے ثواب انہیں بھی ملتے ہیں اور ان کےانبیاء کو جن کی ہدایت سے وہ اس رتبہ پر پہونچے،،(خزائن العرفان)
قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ (الانعام 90)
تم فرما ؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔وہ تونہیں مگر نصیحت سارے جہان کو ۔کنز الایمان)
تفسیر جلالین میں اسی آیت کے تحت ہے ۔
(۳۱)قُلْ" لِأَهْلِ مَكَّة "لَا أَسْأَلكُمْ عَلَيْهِ" أَيْ الْقُرْآن "أَجْرًا" تُعْطُونِيهِ "إنْ هُوَ" مَا الْقُرْآن "إلَّا ذِكْرَى" عِظَة "لِلْعَالَمِينَ" الْإِنْس وَالْجِنّ(جلالین شریف)
اے محبوب اہل مکہ سے کہہ دیجیئے کہ تبلیغ قرآن پرتم سے کوئی اجرنہیں مانگتا ۔اور یہ قرآن تو نصیحت ہے تمام عالم کے لیئے۔
(۳۲)وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَى قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ (20یس)
"وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَة رَجُل" هُوَ حَبِيب النَّجَّار كَانَ قَدْ آمَنَ بِالرُّسُلِ وَمَنْزِله بِأَقْصَى الْبَلَد "يَسْعَى" يَشْتَدّ عَدْوًا لَمَّا سَمِعَ بِتَكْذِيبِ الْقَوْم الرُّسُل۔اتَّبِعُوا مَنْ لَا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُمْ مُهْتَدُونَ (21یس)
"اتَّبِعُوا" تَأْكِيد لِلْأَوَّلِ "مَنْ لَا يَسْأَلكُمْ أَجْرًا" عَلَى رِسَالَته "وَهُمْ مُهْتَدُونَ"(جلالین)
حضرت عبداللہ ابن عباس ،کعب احبار ،اور وہب ابن منبہ ،رضی اللہ تعالی عنہم کےمطابق  ۔تین رسولوں کو اللہ رب العزت نے شہر ،انطاکیہ ،بھیجا ان کے نام ،صادق،صدوق ،اورشلوم،تھے۔تو ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا ۔تب ایک مومن  جن کے صاحب ایمان ہونے کا علم کافروں کونہ تھا ۔ انکا نام ،حبیب نجارتھا۔اور انکا گھر شہرکے کنارےپر تھا ۔دوڑتے ہوئے آئے ۔اور  کافروں سے کہا ۔ اے لوگو اللہ عزوجل کے رسولوں کی تصدیق کرو   اور ان پر ایمان لاکر ان کی پیروی کرو۔ کیا تم ایسے لوگوں (اللہ کےرسولوں ) کو جھٹلاتے ہو جواحکام الہیہ تم تک پہونچانے پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے ۔اوروہ یقینا اللہ رب العزت کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں ۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ  قرآن مقدس میں اگر ایک مقام پر ،فی القربی، ہے تو سات مقامات پر فرمایا کہ میں کچھ بھی نہیں مانگتا ۔جبکہ دوسرے تمام انبیاء کرام جن کی تبلیغ کا ذکر قرآن مقدس میں ہے۔ سبھی نے یہی فرمایا کہ ہم کچھ نہیں مانگتے (جلالین ،ابن کثیر وغیرہ)
اس مفہوم کی آیات کریمہ قرآن مقدس کی جن جن سورتوں میں ہےمثلا ۔سورہ انعام ،مومنون ،فرقان، شعراء،سبا، یس،ص،شوری، طور،قلم ،یہ تمام سورتیں مکی ہیں مدنی نہیں ۔اور تمام مفسرین کے نزدیک اس کا معنی بھی وہی ہے کہ میں تبلیغ وارشاد پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا  میرا اجر تو اللہ رب العزت کے ذمہ کرم پرہے۔اور صرف سورہ شوری میں ،الاالمودۃ فی القربی ،ہےاس میں بھی  تمام مفسرین  ومحدثین کے نزدیک راجح قول یہی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۔ اے قریشیو ہمارے اور تمہارےدرمیان جو رشتے داریاں ہیں ان کاپاس و لحاظ کرتے ہوئے مجھے نہ ستاؤ۔ااور باقی آٹھ جگہوں پر اس کا بھی مطالبہ نہیں ہے بلکہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کی طرح ارشاد ہوتاہے  کہ میں تم سے کچھ بھی نہیں مانگتا بلکہ میں اپنے رب کریم سے ہی اجر کا طلبگارہوں۔
(نتیجہ)
(۳۳) وَتَفْسِيرُ الْآيَةِ بِمَا فَسَّرَ بِهِ حَبْرُ الْأُمَّةِ وَتُرْجُمَانُ الْقُرْآنِ اِبْنُ عَبَّاسٍ أَحَقُّ وَأَوْلَى وَلَا نُنْكِرُ الْوَصَاةَ بِأَهْلِ الْبَيْتِ وَاحْتِرَامَهُمْ وَإِكْرَامَهُمْ إِذْ هُمْ مِنْ الذُّرِّيَّةِ الطَّاهِرَةِ الَّتِي هِيَ أَشْرَفُ بَيْتٍ وُجِدَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَخْرًا وَحَسَبًا وَنَسَبًا وَلَا سِيَّمَا إِذَا كَانُوا مُتَّبِعِينَ لِلسُّنَّةِ الصَّحِيحَةِ كَمَا كَانَ عَلَيْهِ سَلَفُهُمْ كَالْعَبَّاسِ وَبَنِيهِ وَعَلِيٍّ وَآلِ بَيْتِهِ وَذُرِّيَّتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَنَفَعَنَا بِمَحَبَّتِهِمْ ،
صاحب تفسیر ابن کثیر حافظ اسمعیل بن عمر بن ضوءبن کثیر القرشی الشافعی فرماتےہیں  کہ ۔سچی بات وہی ہے کہ جو ،الامام حبرالامۃ، ترجمان القرآن ،سیدنا حضرت  عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمائی ۔اور سیدنا امام بخاری  رضی اللہ تعالی عنہ روایت فرمائی  ہے۔
(یعنی اس آیت کریمہ سے یہی مراد ہے کہ  تبلیغ احکام الہیہ پر میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا مگر اے مشرکین قریش تم اسی خونی ورحمی نسبت قرابت کا خیال کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے ۔اور مجھے نہ ستاؤ )
اورہم  ائمہ اہل بیت رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین  کی عظمت وبزرگی ،اور فضل وشرف کا انکار نہیں کرتے۔اور  ان کے ساتھ احسان و بھلائی ، ان کی تعظیم ،او ر اکرام کا حکم تو  ہم اس وجہ سے  بھی کرتے ہیں کہ۔ وہ پاک نسل سے ہیں  ۔روئےزمین پر تمام گھروں میں حسب ونسب شرف وفضل کے اعتبار سےسب سےا علی ہیں ۔خصوصاً اگر وہ متبع سنت صحیحہ واضحہ ہوں ۔جیسےحضرت عباس اور ان کی اولاد اور حضرت علی اور ان کی اولاداور تمام اہل بیت رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ۔اللہ رب العزت ہمیں ان کی محبت سے نفع بخشے ۔
اور الحمد للہ۔نبی معظم ﷺکے صدقہ وطفیل  ۔ اللہ رب العزت کے فضل واحسان  سےیہی نظریہ اس فقیر قادری برکاتی  محمد اکبرعلی کاہے۔ اور دعاہے کہ اللہ عزوجل  اپنی اور اپنےمحبوبین کی محبت میں ہی جِلائے اور اسی میں موت  عطافرمائے ،اوراسی میں اٹھائے۔اور اپنے پیاروں کےساتھ ہی حشر فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین علیہ وعلی آلہ وازواجہ واصحابہ افضل الصلواۃ والتسلیم ۔برحمتک یاارحم الراحمین ۔


mohammadakbaralibarkati@gmail.com