پیر، 17 دسمبر، 2018

Qayamat Qareeb Aagai Hae



 اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ
تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی
khalidinfo22@gmail.com

پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبان اعجاز رقم سے نکلے کلمات بھی کیسی لوہے کی لکیر ہوتے ہیں، جو کہہ دیا، جیسا کہہ دیا، دیر سویر ہو سکتی ہے لیکن ہوتا ٹھیک اسی کے مطابق ہے۔ یہ وہ یقین ہے جو ہر مومن کے ایمان کا حصہ ہے لیکن اس موقع پر خاص قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ان فرمودات پر ایمان رکھنے والے بھی جب ان مراحل سے گزرتے ہیں جن کی نشان دہی پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کی ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ سب کچھ جانتے  ہوئے بھی انجان بن جاتے ہیں، یا پھر اپنے آپ کو آزمائشوں میں مبتلا ہونے سے بچا نہیں پاتے ۔ ممکن ہے ایک وجہ یہ بھی ہو کہ اللہ تعالی اپنے محبوب  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبان حق نشان سے جاری کلمات کو زمینی حقیقت میں بدلنے کے لیے ایسے تیرہ نصیبوں سے توفیق خیر چھین لیتا ہو۔
 فی الوقت جماعت اہل سنت کے فارغ لوگ جس طرح کی لا یعنی بحثوں سے بازار گرم کیے ہوئے ہیں، وہ اس پہلو کی تازہ مثال ہیں جیسے: سب جانتے ہیں کہ صحابیت وہ مرتبہ ہے جہاں کسبی مراتب کی انتہا ہو جاتی ہے اور انتہا بھی ایسی کہ اب کوئی بڑے سے بڑا غوث و قطب ہزاروں سال کے مجاہدات کے بعد بھی وہ شان نہیں پا سکتا جو اس خوش قسمت انسان کو رخ زیبائے آں جناب ﷺ کی ایک جھلک دیکھنے سے مل چکی ہے۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
اگر کسی محروم القسمت  کے دل میں ان عظمت ماٰب ہستیوں کی محبت اپنی جگہ نہ بنا سکے تواپنی رو سیاہی پر ماتم کرے، لیکن یہ حق بہر حال اسے حاصل نہیں کہ ان سے اپنے بغض کا اظہار کرے کیوں کہ کسی بھی شخصیت کے صحابی ہو جانے کے بعداب یہ حق رسول اللہ ﷺ سے وابستہ ہو جاتا ہے اور بات غیرت نبوت تک جا پہنچتی ہے،جب کوئی دنیوی معظم انسان اپنے دوستوں کی ہتک برداشت نہیں کر سکتا تو رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی تحقیر کیسے گوارہ فرما سکتے ہیں۔ 
 اس لیے رحمۃ للعالمین ﷺ نے ایسے سیاہ بختوں کے لیے پہلے ہی ایک حد بندی کر دی تاکہ وہ اپنی ذہنی پراگندگی کا علانیہ اظہار نہ کر سکیں، فرمایا: مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ الله وَالمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔ (الجامع الصغیر) جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتا ہے ، اس پر اللہ تعالی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے لعنت ہو۔ 
اور  خدا نخواستہ کوئی بد بخت اپنی تیرہ نصیبی کا اظہار کر بیٹھے تو اس کے لیے اصول شریعت یہ طے فرمایا کہ اسے دنیا میں بھی سزا ملے گی اور آخرت میں۔ دنیوی سزا کے طور پر حکم فرمایا: من سب الانبياء قتل ومن سب أصحابي جلد۔ (مجمع الزوائد)  نبیوں کو برا بھلا کہنے والے کو قتل کیا جائے گا اور صحابہ کی شان میں گستاخیاں کرنے والے کو کوڑے لگائے جائیں گے۔ 
آخرت میں ایسے بد قسمت کے لیے اپنی شفاعت کو نا روا قرار دیتے ہوئے فرمایا: شفاعتي مباحة إلا لمن سب أصحابي۔ (کنز العمال) میری شفاعت اس شخص کے علاوہ سب کے لیے جائز ہے، جو صحابہ کو برا بھلا کہتا ہے۔ 
 در اصل یہ تمام سختیاں رشتہ رسالت اورغیرت صحابیت کا تقاضا ہیں، ورنہ رحمۃ للعالمین جلدی کسی پر برہم نہیں ہوتے اور برہم ہوں بھی تو اتنے نہیں کہ اس پر لعنت بھیجیں لیکن یہاں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اجتماعی لعنت کے ساتھ دنیوی اور اخروی سزا کی بھی بات کر رہے ہیں۔اور ایسا کیوں نہ ہو ؟ جبکہ دنیا کا کوئی معزز اور شریف انسان اپنے ساتھیوں کی رفاقت تو نبھا سکتا ہے، ان کے دلوں کا تزکیہ نہیں کر پاتا، رسول اللہ ﷺ اپنے ان صحابہ کی برائیاں کیسے سن سکتے ہیں جن کے تزکیہ نفس کے لیے آپ مبعوث ہوئے اور ان کا مثالی تزکیہ خود آپ نے فرمایا۔ 
شاید اسی غیرت کاتقاضا تھا جو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کی محبت و عداوت کو اپنی محبت و عداوت کا معیار قرار دیا اور اپنے آپ کو بیچ میں لا کر  گویا اس بات کی ضمانت فراہم کر دی  کہ صحابہ کی عظمتوں کے ساتھ کوئی کھلواڑ برداشت نہیں کیا جا سکتا ، ارشاد ہے: من احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضہم فببغضی ابغضھم۔(جامع الترمذی،  ابواب المناقب، سبّ اصحاب النبی ﷺ) جس نے میرے صحابہ سے محبت کی، اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اورجس نے ان سے بغض رکھا، اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔ 
 اگر کوئی ازلی بد بخت ان تمام حوالوں کو نظر انداز کر کے بھی شان صحابہ میں بے باکیاں کرنے کی جسارت کرتا ہے تو نبی ﷺ نے اب ان علما پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے جن کے زمانے میں ایسے گستاخ پائے جاتے ہوں، انھیں حکم ہے کہ ایسے زمانے میں اپنی علمی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کریں، ان تیرہ بختوں کی سر کوبی کریں اور ان کو اپنے انجام تک پہنچائیں، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان پر بھی لعنتوں کا نزول ہوگا، ارشاد ہے:إذا ظهرت البدعُ فى أمتى وشُتِمَ أصحابى فليُظْهِر العالمُ علمَه فإنْ لم يفعلْ فعليه لعنةُ اللهِ۔ (جامع الاحادیث للسیوطی) جب میری امت میں بدعتوں کا ظہور ہونے لگےاور میرے صحابہ کو گالیاں دی جائیں تو عالم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنا علم ظاہر کرے، اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس پر اللہ تعالی کی لعنت۔
ذرا! ایک لمحے کے لیے ٹھہر کر اس تسلسل پر غور کیجیے اور سوچیے کیسا قیامت خیز دور آیا ہے کہ آج چند جیسے تیسے متکلم فیہ تاریخی حوالوں کو بنیاد کر ان قدسی صفات اور مسلم المراتب ہستیوں کے لیے  زبانیں دراز ہیں اور نہ صرف دراز ہیں بلکہ اس طنطنے کے ساتھ دراز ہیں جیسے کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خیمے کے صحابہ گویا صحابہ رسول نہیں، گلی کے پنج پٹیل رہے ہوں۔ ایسے ہوش ربا ماحول میں جب اس حدیث رسول پر نظر جاتی ہے، ایک لمحے کے لیے سارے وجود پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے، دیدہ عبرت کے ساتھ پڑھیے:
 امیر المومنین مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابن عساکر کی حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تکون لاصحابی زلّۃ یغفرھا ﷲ لھم لسابقتھم معی ثم یأتی قوم بعد ھم یکبھم ﷲ علی مناخرھم فی النار۔ ( المعجم الاوسط،حدیث نمبر ۳۲۴۳ ۔ و۔مجمع الزوائد ۷/ ۲۳۴) میرے صحابہ سے لغزشیں ہوں گی لیکن اﷲ تعالی انھیں اس لیے معاف فرمادے گا کہ ان کا مجھ سے دیرینہ تعلق ہے، ہاں! پھر ان کے بعد کچھ ایسے لوگ آئیں گے جنھیں اﷲ تعالیٰ اوندھے منہ جہنم میں گرائے گا۔ یہ ہیں وہ کہ صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے۔(فتاوی رضویہ، کتاب الشتی، جلد 29) 
اس اس حدیث غیب  پر دوبارہ نظر ڈالیں اور بتائیں! کیا ایسا نہیں لگتا جیسے زبان رسالت ہمارے اس پر فتن عہد کا نقشہ کھینچ رہی ہے؟ اہل جہنم کی صاف نشان دہی کر رہی ہے؟  اور کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ  ایک طبقہ دیدہ شنیدہ اس حدیث کے عین مطابق اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بنا رہا ہے؟ نعوذ باللہ تعالی۔
بات صرف اسی ایک پہلو کی نہیں، جس طرف نظر اٹھا کر دیکھیے، ہر سمت سے دنیا سمٹ رہی ہے اور قیامت کی بو محسوس ہو رہی ہے۔ وقت جس سبک رفتاری کے ساتھ گزر رہا ہے، اخلاقی قدریں جس تیزی کے ساتھ پامال ہو رہی ہیں، بیماریاں جتنی ترقی کر رہی ہیں، دلوں میں بے اطمینانی کا جو ہیجان بپا ہے، مروت جس طرح دم توڑ رہی ہے، انسانیت جس طرح سسک رہی ہے، ایمان جتنا ارزاں ہو چکا ہے، نت نئے فتنے جس تیزی کے ساتھ معاشرے میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں اور نتیجتاً سیاست سے لے کر مذہب تک ہر طبقے کے یہاں اضطراب جس طرح لازمہ حیات بنتا جا رہا ہے،کیا یہ سب قیامت سے پہلے کی قیامتیں نہیں؟
 جن سے وفا لازم تھی، ان سے بے وفائیوں کا گراف  ریکارڈ توڑ رہا ہے اور جنھیں ایک نظر دیکھنا بھی حرام تھا، ان سے وفاداریوں کی  قسمیں کھائی جا رہی ہیں،کیا گلی گلی میں رسوا ہو رہے یہ رشتے کسی قیامت کی دستک نہیں؟؟؟ بے شک ہیں، ضرور ہیں، ہمارا یمان و یقین ہے کہ یہ دور، دور ِ قیامت ہے اور  یہ تمام حالات در اصل پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمودات کے عین مطابق رو بہ عمل ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ آگے بھی یوں ہی چلتا رہے گا تو پھر بتائیں! اب آپ کے پاس ان تمام فتنہ سامانیوں سے بچنے کی تدبیر کیا ہے؟ آپ کے پلے نیکیاں کتنی ہیں؟  کس دھن میں مگن ہیں؟ اور کس نشے میں مست ہو کر جی رہے ہیں؟؟؟ 
 ان بدلتے ہوئے حالات پر ایک دیانت دارانہ اور فراست مومنانہ والی نظر ڈالیں، ٹھنڈے دل سے ان پر مزید غور کریں اور پھر انصاف کے تمام لازمی تقاضوں کے ساتھ اپنے یومیہ معمولات کا محاسبہ کرتے ہوئے قرآن کریم کی اس نصیحت پر کان دھریں، کیا ایسا نہیں لگتا جیسے قرآن ہمیں مخاطب کر کے کچھ سرگوشی کر رہا ہے، کتنی دل لگتی بات کہی گئی ہے: اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱)مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ(۲)لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ۔ (سورہ انبیا، ١-٢)لوگوں کے حساب کا وقت قریب ہو چکا ہے اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔  جب ان کے رب کے پاس سے انھیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں، ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

..:: FOLLOW US ON ::..



http://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg
http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpg

ٹیوٹر اپڈیٹس دیکھیں اور فالو کریں