جمعہ، 5 اپریل، 2019

Chamak Raha Hae Chamakta Ashraf

چمک رہا ہے چمکتا اشرف 

 یہ بات ہم برکاتیوں کے لیے یقیناً مسرت و شادمانی کا سبب ہے کہ چشم و چراغ خاندانِ برکات  ہمارے شفیق و مہربان اور ہر دل عزیز مخدوم و محترم مشہور فکشن رائٹر جناب سید محمد اشرف میاں قادری برکاتی مارہروی ( آئی آر ایس) کو’’ انکم ٹیکس سیٹلمینٹ کمیشن آف انڈیا‘‘ کا وائس چیئرمن منتخب کیاگیا ہے ۔ ہم اس اہم عہدے پر حضرت والا کے پروموشن پر خوشیوں سے سرشار ہیں ۔ 

 سید محمد اشرف بھارت کے ممتاز افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ ان کی تصانیف میں’’ نمبردار کا نیلا ‘‘کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی اور اس کتاب کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے۔ حال ہی میں ان کا ناول’’ آخری سواریاں‘‘ شائع ہوا ہے۔ سید محمد اشرف 1957ء كو سیتاپور میں پیدا ہوئے۔اتر پردیش کے ضلع ایٹہ کا قصبہ مارہرہ شریف ان کا آبائی وطن ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اوران دنوں انکم ٹیکس کے شعبے میں کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ الحمد للہ اب انھیں حکومت ہند نے ’’ انکم ٹیکس سیٹلمینٹ کمیشن آف انڈیا‘‘ کا وائس چیئرمن منتخب کیا ہے ۔

 بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اردو میں یکے بعد دیگرے کئی ناول لکھے گئے۔ ان میں کچھ مقبول ہوئے توکچھ کو قبولیت کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ کچھ ناولوں پر دیر تک گفتگو ہوئی مثلاً جوگندرپال کا ناول’’ خوب رو‘‘، مظہر الزماں خاں کا ناول’’ آخری داستان گو‘‘، حسین الحق کا ناول’’ فُرات‘‘، غضنفر کا ناول’’ پانی‘‘، علی امام نقوی کا ناول’’ تین بتّی کے راما‘‘ اور سید محمد اشرف کا ناول ’’نمبر دار کا نیلا‘‘ وغیرہ۔ یوں تو مذکورہ بالا تمام ناول اہمیت کے حامل ہیں تاہم سید محمد اشرف کا ناول ’’نمبردار کا نیلا‘‘ اپنے موضوع، ٹریٹمنٹ، کردار نگاری اور زبان و بیان کے حوالے سے خصوصاً جانور کو بطور کردار پیش کرنے کے لحاظ سے زیادہ توجہ اور گفتگو کا تقاضا کرتا ہے۔

 فکشن میں سیدمحمد اشرف کی ابتدائی پہچان جانوروں کے پیرایۂ اظہار سے قائم ہوئی لیکن ان کا طرز نگارش محض جانوروں تک محدود نہیں ہے۔ ان کے یہاں ایسے کئی کامیاب افسانے ہیں جن میں جانور نہیں ہیں۔ مثلاً کعبے کا ہرن، دوسرا کنارہ اور چمک وغیرہ۔سید محمد اشرف کوکچھ ان کے خاندانی پس منظر اور کچھ ان کے فکشن میں موجود مخصوص تہذیب و معاشرہ کی وجہ سے مذہبی تمدن کا فکشن نگار بھی قرار دینے کی کوشش کی گئیبعض ناقدین انھیں اکیسویں صدی میں نئے افسانے اور فکشن کے باب میں خواجہ خضر کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ آخر سیدمحمد اشرف کے فن کا بنیادی رویہ کیا ہے؟ ان کے مجموعوں ’’ڈار سے بچھڑے‘‘، ’’بادِ صبا کا انتظار‘‘،’’ نمبر دار کا نیلا‘‘ اور’’ ناول آخری سواریاں‘‘ کے مطالعہ کے بعد ان کے فن کے تعلق سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ بنیادی طور پر وہ اپنے عہد کے فرد اور معاشرے کی زوال پذیری کے نباض اور ناقد ہیں۔ اشرف کے فن کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ جس موضوع کا انتخاب کرتے ہیں اسی کی مناسبت سے کردار، زبان اور ماحول بھی برتتے ہیں۔ انھوں نے فکشن میں عصری سچائیوں کے لیے علامت اور استعاروں کے درمیان سے راہ نکالی ہے۔ ان کے فکشن میں معاشرہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے منفرد تکنیکی و اسلوبیاتی انداز کی وجہ سے وہ اپنے دیگر معاصرین سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ 

 ’’بادِ صبا کا انتظار‘‘ پر ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ آپ کو تفویض کیا گیا ۔’’آخری سواریاں‘‘ پر اقبال سمّان سے نوازا گیا۔۔ کئی یونیورسٹیز کے نصاب میں آپ کے ناول شامل ہیں ۔یوپی پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں اردو کے سبجیکٹ میں آپ کی کہانیاں نصاب کا حصہ ہیں۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ ’’صلوا علیہ وآلہ‘‘ اپنی فکر و نظر کا اچھوتا اظہاریہ ہے۔ 

 ہم خواجہ تاشانِ خاندانِ برکات حضرت سید محمد اشرف میاں مارہروی کو ’’ انکم ٹیکس سیٹلمینٹ کمیشن آف انڈیا‘‘کا وائس چیئرمن منتخب ہونے پر ہم صمیم قلب سے انھیں ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کرتے ہوئے مسرتوں سے سرشار ہیں ۔

---محمد حسین مشاہدرضوی و جملہ اہل خانہ ، مالیگاؤں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ٹیوٹر اپڈیٹس دیکھیں اور فالو کریں