Instagram

Tuesday, 30 October 2012

مختارؔ یوسفی کی تشطیرات کا مجموعہ ’’دو کے چار‘‘ پراک نظر



مختارؔ یوسفی کی تشطیرات کا مجموعہ ’’دو کے چار‘‘ پراک نظر
٭ ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی

       مختارؔ یوسفی شہر مالیگاؤں کے وہ زندہ دل اور کہنہ مشق شاعر ہیں جن کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ موصوف مشاعروں کی دنیا ہر دل عزیز اور مقبول شاعر ہیں۔ جنھیں طنزیہ و مزاحیہ شعری ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ موصوف کی رسائی آل انڈیا مشاعروں تک محدود نہیں ہے بل کہ آں جناب کو بین الاقوامی مشاعروں میں بھی بڑے ذوق و شوق سے سنا اور سراہا جاتا ہے۔ موصوف اپنے عمیق مشاہدے اور وسیع تجربات کی روشنی میں معاشرتی و سیاسی اتھل پتھل کو بڑی کامیابی سے اپنے اشعار میں سمونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔کہاجاتا ہے کہ مزاح کا تعلق براہ راست زندگی سے ہے ، اسی طرح طنز کا بھی معاملہ ہے۔ طنز و مزاح دونوں کی ہماری زندگی میں کافی اہمیت ہے ۔ لیکن یہ عمل اگر کسی کی دل شکنی کرتے ہوئے ہلکے پھلے مزاح سے نکل کر قہقہوں کی بارش میں بدل جائے تو اسے ناپسندیدہ کہا جائے گا کیوں کہ ادب چاہے وہ سنجیدہ ہو یا طنزیہ و مزاحیہ اُس کا مقصد تعمیر حیات اور تفریح طبع ہے نہ کہ دل شکنی۔ اگر طنز و مزاح کے ذریعہ محض تفنن طبع نہ کرتے ہوئے لوگوں کی اصلاح کا کام بھی لیا جائے تواسے قابل تحسین قرار دینا غیر مناسب نہ ہوگا ۔
       مختارؔ یوسفی کی شاعری میں مزاح کے جِلو میں طنز و نشتریت کے جو کاٹ دار وار ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں ان میں کہیں بھی کسی کی بے جا دل شکنی کا شائبہ نظر نہیں آتا ۔ انھوں نے اپنی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے وسیلے سے لوگوں کو ہنسنے ہنسانے کے ساتھ اصلاحِ مفاسدکا کام بھی لیا ہے۔ جس کا نظارا موصوف کے اولین مجموعے ’’دکھتی رگ‘‘ میںکیاجاسکتا ہے۔
       آج کا عالمی شعری منظر نامہ سہل پسندی سے عبارت ہوتا جارہا ہے۔ جہاں پابند نظمیہ شاعری کی بجاے آزاد غزل اور آزاد نظم کو محبوب و مرغوب تصور کیا جارہا ہے۔ ایسے عالم میں پابند اورہیئت و تیکنک کے لحاظ سے فنّی ضابطوں میں محصور کسی متروک صنف یا صنعت میں طبع آزمائی کرنا یقینا ایک نمایاں کام ہے۔ ۲۰۰۵ء میں ناچیز کا ایک رسالہ ’’اردو کی دل چسپ اور غیر معروف صنعتیں ‘‘ شائع ہوا تھا جس میں اردو کی صنعتی شاعری سے ۴۰؍ دل چسپ اور غیر معروف بل کہ متروک صنعتوں کو مع مثالوں کے پیش کیاگیاہے۔ اُن صنعتوں میں سے ایک ’’تشطیر‘‘ پر مجھے مثالیں نہ مل سکیں تو مَیں نے خود ایک شعر پر تشطیر لگائی، جو اس طرح ہے     ؎
                     شعر ازامام احمدرضا بریلوی:
اے رضاؔ ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھی آرام ہوہی جائے گا
                     تشطیرِ مشاہدؔ :
’’اے رضاؔ ہر کام کا اک وقت ہے‘‘
دور دامن فکر کا ازدست ہے
کام تیرا عام ہوہی جائے گا
’’دل کو بھی آرام ہوہی جائے گا‘‘
       بعد ازاں میرے ذوقِ شعری نے مجھے مہمیز لگائی تو صنعت تشطیر پر مشتمل تقدیسی شاعری کا ایک مجموعہ ’’تشطیرات بخشش‘‘ منظر عام پر آگیا ۔ جسے مذکورہ صنعت پر محیط شہر ادب مالیگاؤں کا اولین شعری مجموعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
       آج ہم ’’دو کے چار‘ ‘ نامی مختارؔ یوسفی صاحب کے جس شعری مجموعے کی تقریبِ رونمائی میںشریک ہیں ۔ یہ اسی صنعتِ تشطیر پر مبنی ہے۔ موصوف اس سے قبل تضمینات کے میدان میں اپنے قلم کا جادو جگا چکے ہیں ۔ مشہور و معروف مصرعوں پر اِن کی تضمینیں قدر کی نگاہوں سے دیکھی جاتی ہیں۔ پیش نظر کتاب ’’دو کے چار‘‘ تشطیرات ‘‘ کا مجموعہ ہے ۔ تشطیر کے لغوی معنی چیرنا ہے اصطلاحِ ادب میں ’’جب شاعر کسی شعر کے دومصرعوں کے بیچ میں موضوع سے ہم آہنگ مزید دو تضمینی مصرعوں کا اضافہ کرتا ہے تو اُس صنعت کو ’’صنعتِ تشطیٖر‘‘ کہتے ہیں۔‘‘
       تشطیر کا عمل تضمین سے خاصا مشکل ہے۔ تضمین میں کسی مصرعے سے پہلے تین مصرعے یا کسی مصرعے پر اپنا ایک مصرع لگانا ہوتا ہے ، جب کہ تشطیر میںدومصرعوں کے بیچ مزید دومصرعے نظم کرنا ہوتے ہیں ۔
       عام طور پر اس کے دو طریقے رائج ہیں ۔ پہلا طریقہ یوں ہے کہ کسی شعر کے پہلے مصرع پر ایسا مصرع لگادیا جائے جو اصل شعر کے دوسرے مصرع کے ہم قافیہ و ردیف ہو۔ اور دوسرے مصرعے پرردیف و قافیے کا لحاظ رکھے بغیر مصرع لگادیا جائے ۔ بالکل اس طرح کہ ایک جیسے ردیف و قافیے کے دو اشعار وجود میں آجائیں ۔ مثال کے طور پر مختارؔ یوسفی کی یہ تشطیر   ؎
                           شعرازامیر الاسلام ہاشمی:
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہے
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
                           تشطیرِ مختارؔ:
’’جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہے‘‘
اس کو بھی بصد شوق سے نگل جاتا ہے مومن
دو نمبری دھندوں سے بھی مل جائے تو مختارؔ
ــ’’وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومنـ‘‘
       جناب مختارؔ یوسفی کی جملہ تشطیرات اسی فارم میں لکھی گئی ہیں۔ زیادہ تروہ شعرا جنھوں نے تشطیر قلم بند کی ہے اِسی طریقے پر عمل کرتے رہے ہیں ۔ جب کہ اِس کا دوسرا طریقہ بھی ہے جو بہ نسبت پہلے طریقے کے خاصا مشکل ہے وہ یہ کہ کسی شعر کے پہلے مصرعے پر دوسرامصرع لگا کر اُسے ایک مطلع کی شکل دے دی جائے اوردوسرے مصرعے پر پہلا مصرع بھی اس طرح لگایا جائے کہ وہ بھی مطلع بن جائے اس طرح کسی شعر کے دومصرعوں کے بیچ اس طرح دومصرعے رکھے جائیں کہ دو مطلعے وجود میں آجائیں۔ مثال کے طورپر ناچیز کی ایک تشطیر    ؎
                           شعر از امام احمدرضا بریلوی:
غور سے سن تو رضاؔ کعبے سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے مرے پیارے کا روضہ دیکھو
                           تشطیرِ مشاہدؔ:
’’غور سے سن تو رضاؔ کعبے سے آتی ہے صدا‘‘
حجِّ مبرور کا اب ہوگیا ارماں پورا
جاؤ تسکیں دہِ دل گنبدِ خضرا دیکھو
’’میری آنکھوں سے مرے پیارے کا روضہ دیکھو‘‘
       اس قسم کی تشطیرات شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہیں ۔ ناچیز کا مجموعہ ’’تشطیراتِ بخشش‘‘ اسی ہیئت پر لکھی ہوئی تشطیرات پر محیط ہے۔ جو کہ تقدیسی شاعری نعت و منقبت کے حوالے سے ہے۔
       مختارؔ یوسفی نے اپنی تضمین نگاری کی طرح تشطیر نگاری میں بھی ذوقِ مزاح کو ہی مطمحِ نظر بنایا ہے جو ان کا خاص مزاج ہے۔ ’’دو کے چار‘‘ میں آپ نے معروف و غیر معروف اشعار پر کافی اچھی اور بہترین تشطیر قلم بند کی ہے ۔ اس مجموعۂ تشطیرات میں شامل بعض تشطیرات مزاحیہ انداز کے ساتھ ساتھ سنجیدگی و متانت کا حُسن بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جب کہ بعض تشطیرات کی زیریں لہروں میں اصلاحِ معاشرہ کی مدھم مدھم لَے بھی پنہاں دکھائی دیتی ہے۔ مزید یہ کہ اس مجموعہ میں نعت جیسی بابرکت و باعظمت صنف میں بھی ۱۶؍ خوب صورت اور دل کش تشطیرات جگمگارہی ہیں ۔ جو کہ خالدؔعرفان خالد کے اشعار پر ہیں ۔مختارؔ صاحب کی نعتیہ تشطیرات میں سے دو نشانِ خاطر فرمائیں     ؎
                           شعراز خالدؔ عرفان خالد:
یہ سوچ کر مرے آقا نے کھائے تھے پتھر
وہ جانتے تھے کہ جذبات پتھروں کے بھی ہیں
                           تشطیرِ مختارؔ:
’’یہ سوچ کر مرے آقا نے کھائے تھے پتھر‘‘
زمانہ جان لے محسن وہ کافروں کے بھی ہیں
بتاؤں راز تمہیں ان کے زخم کھانے کا
’’وہ جانتے تھے کہ جذبات پتھروں کے بھی ہیں‘‘
                           شعراز خالدؔ عرفان خالد:
اُن کو آدم سے بھی پہلے کیا رب نے تخلیق
ایک لمحے میں وہ پوشیدہ صدی رکھتے تھے
                           تشطیرِ مختارؔ:
’’اُن کو آدم سے بھی پہلے کیا رب نے تخلیق‘‘
خود میں پوشیدہ وہ دنیائیں کئی رکھتے تھے
لوگ حیران ہیں معراج کو پانے کے لیے
’’ایک لمحے میں وہ پوشیدہ صدی رکھتے تھے‘‘
       مختارؔ یوسفی صاحب کا شناخت نامہ چوں کہ طنز و مزاح سے ہے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تشطیرات کے جوہر بھی طنزیہ و مزاحیہ انداز میں بکھیرے ہیں جیسا کہ میں نے اوپر یہ لکھا ہے کہ موصوف کے یہاں طنز ومزاح کے جلو میں اصلاحِ مفاسدکاانداز بھی پایا جاتا ہے ۔ موصوف کایہ کمالِ شعری ہے کہ وہ ہنستے ہنساتے ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ قہقہہ زار محفل ایک پل میں سنجیدہ بن جاتی ہے اور لوگ اشعار کے اندرون میں جو معنویت پوشیدہ ہے اس میںگُم جاتے ہیں۔ ذیل میں مختلف رنگوں کی چند تشطیرات ملاحظہ کریں     ؎
                     شعر از منور رانا:
بڑی بے چارگی سے لوٹتی بارات تکتے ہیں
بہادر ہوکے بھی مجبور ہوتے ہیں دلہن والے
                     تشطیرِ مختارؔ:
’’بڑی بے چارگی سے لوٹتی بارات تکتے ہیں‘‘
نہ جانے کب سدھر پائیں گے یہ اپنے وطن والے
ہزاروں عیب دولہے میں مگر خاموش ہے سمدھی
’’بہادر ہوکے بھی مجبور ہوتے ہیں دلہن والے‘‘
                     شعر از امیرالاسلام ہاشمی:
گم جس میں ہوا کرتا تھا آفاق وہ مومن
مینڈک کی طرح اب کسی تالاب میں گُم ہے
                     تشطیرِ مختارؔ:
’’گم جس میں ہوا کرتا تھا آفاق وہ مومن‘‘
اب اونچی اڑانوں کے کسی خواب میں گُم ہے
خود اس کے عمل ہی نے بلندی سے گرایا
’’مینڈک کی طرح اب کسی تالاب میں گُم ہے‘‘
                     شعر ازمرزا شکور بیگ:
میرے بیٹے کو حقارت سے نہ دیکھو صاحب
کیا عجب کل کو یہی آپ کا داماد بنے
                     تشطیرِ مختارؔ:
’’میرے بیٹے کو حقارت سے نہ دیکھو صاحب‘‘
عین ممکن ہے منسٹر کا وہ استاد بنے
نوجواں آپ کی نظروں میں بہت سے ہوں گے
’’کیا عجب کل کو یہی آپ کا داماد بنے‘‘
                     شعرنامعلوم:
فٹ پاتھ کے فقیر نے مانگی ہے یہ دعا
ان بھارتی وزیروں کے بنگلے سپاٹ کر
                     تشطیرِ مختارؔ:
’’فٹ پاتھ کے فقیر نے مانگی ہے یہ دعا‘‘
مولا! مجھے بھی اچھا سا بنگلہ الاٹ کر
جو آج اڑ رہے ہیں ہوائی جہاز میں
’’ان بھارتی وزیروں کے بنگلے سپاٹ کر‘‘
       مختصر یہ کہ مختارؔ صاحب کی تشطیرات کا مجموعہ’’ دو کے چار‘‘ اسی طرح مختلف رنگوں کی تشطیرات سے مزین ہے ۔اس سہل انگاری کے دور میں صنعتِ تشطیرجیسی مشکل اور متروک صنف پر کامیاب طبع آزمائی کرتے ہوئے ایک مکمل مجموعے کا اضافہ کرنے پر میں جناب مختارؔ یوسفی صاحب کو مبارک باد پیش کرتا
ہوں۔مزید دوہری مبارک باد اس بات کی کہ اس کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم جناب پیامؔ انصاری اور جناب بدالدین بادلؔکی اردو خدمات کے اعتراف میں بہ طور نذرانہ پیش کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے جو قابلِ تعریف ہے۔
ڈاکٹر محمدحسین مُشاہدؔ رضوی
Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi
Writer, Poet, Research Scholar, Author.