Instagram

Tuesday, 30 October 2012

مُشاہدؔ رضوی کی نعت گوئی



مُشاہدؔ رضوی کی نعت گوئی
علیم صباؔ نویدی، چینائی

       جناب محمد حسین مُشاہدؔ رضوی ، مالیگاؤں کے ایک تازہ کار شاعرہیں ۔ ان کی نعتوں سے پتا چلتا ہے کہ موصوف غزل گو ہیں اور انھیں اظہار واسلوب پر پورا قابو ہے۔ ان کی لفظیات بڑی ہی نکھری ہوئی ہیں۔ ان کے ایک مطبوعہ دیوانِ نعت ’’لمعاتِ بخشش‘‘ میں شائع شدہ نعتوں میں سے ہم چند نعتوں پر نظر ڈالتے ہیں ۔ یہ نعتیں غزل کے فارم میں ہیں اور ان کے ہاں بھرپور احترامِ حضورپُرنور صلی اللہ علیہ وسلم دکھائی دیتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ضمیر اختیار کرتے ہیں۔  اس میں بے حد احتیاط برتتے ہیں اور موضوعات میں عقیدت و احترام کے علاوہ حضور (ﷺ) سے نسبتِ عالی کا اظہار والہانہ ہے۔ استدعائی انداز بھی ملتا ہے۔ بعض جگہ موصوف نے چند شخصیات سے بھی اپنا ربط بتایا ہے جن کی تفصیل سے قاری نابلد ہی رہتا ہے ۔ان کے اس دیوان کے پیش لفظ میںغالباً اس طرف اشارا ہوا ہوگا مگر راقم کے آگے ایسی کوئی تحریر نہیں ہے۔ صرف اس دیوان کی چند نعتیں ہی ہیں۔ ان شخصیات میں آپ نے یہ نام اشعار میں لیے ہیں غوثِ اعظم ، رضا، عشق ، عینی ، نوری، مفتیِ اعظم ، حَسن، نظمی وغیرہم۔ ان سے شاعر نے حُسنِ عقیدت جتائی ہے۔ یہ اشعار ان کی نعتوں میں آئے ہیں   ؎
طفیلِ غوث و رضا ، عشقی ، عینی و نوری
دکھادے خواب میں یارب مجھے بھی کوے نبی
رضا و مفتیِ اعظم کی سنت پہ رہوں قائم
بنوں خدمت گزارِ اہل سنت یارسول اللہ
رضا سے عشق مل جائے حَسن سے حُسنِ گویائی
مُشاہدؔ سیکھ لے آدابِ مدحت یارسول اللہ
نظمی کی عنایت ہے یہ نعت مُشاہدؔ
اشعار کی صورت میں دل دار کا چرچا
جب رضا کا اور حَسن کا سامنے ہوگا کلام
اے مُشاہدؔ نعت ہوگی تب رقَم بالکل صحیح
رضا کا حُسنِ تخیل ہے رہِ نُما میرا
کہ نعت گو نہیں کوئی مرے رضا کی طرح
رضا کے کرم سے بنی نعتِ اول
جو اول رقَم کی ثناے محمد
       ان اشعاراور مُشاہدؔ رضوی کے نعتیہ دیوان ’’لمعاتِ بخشش‘‘  کے نام سے یہ پتا چلتا ہے کہ غالباً حضرت رضاؔ بریلوی (مصنف حدائقِ بخشش) موصوف کے مربی ہیں جن کا نام لینا شاعر نے بہت ضروری سمجھا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے ان کوبھی نعتوں میں یاد کرنااسی بات کی طرف اشارا ہے کہ موصوف ان سے گہرا عشق رکھتے ہیں ۔ دیگر شخصیات بھی موصوف کے لیے عظیم اور اہم ہیں۔ خیر یہ ایک خیال تھا جو بیان کردیا گیا کیوں کہ عموماًشعرا یہ رویہ اختیار نہیں کرتے۔ یہاں نعت گوئی کے فن میں یہ شخصیات مُشاہدؔ رضوی کے معاون رہے ہیں اسی لیے ان کی طرف خاص توجہ دی گئی ہے۔
       مُشاہدؔ رضوی چھوٹی بحریں پسند کرتے ہیں اور موضوعات میں بھی احتیاط برتتے ہیں۔ عقیدت ہی ان کی نعتوں کا وصف ہے ۔ ذیل کے اشعار میں ان کے موضوعات کا تنوع دکھائی دیتا ہے    ؎
خدایا! دے تو مجھے دے بس آرزوے رسول
کریں یہ قلب و نظر میرے جستجوے رسول
شفا ملے نہ جسے قیمتی دواوں سے
مَلے وہ جسم پہ اپنے غبارِ کوے رسول
چمن چمن ہے مُشاہدؔ اسی سے مہکا ہوا
زمانے بھر جو پھیلی ہوئی ہے بوے رسول
جہاں آتے ہیں یوں قدسی کہ آہٹ تک نہیں ہوتی
وہی ہے اک مقدس بارگہ محبوبِ داور کی
آپ ہیں مالکِ ملکِ ربّ العلا
یہ فلک یہ زمیں باخدا آپ کی
نعلینِ مصطفی جو پاؤں تو سر پہ رکھ لوں
کردے عطا خدایا! اعزازِ خسروانہ
اپنے عصیاں کی نہ بُوباس بھی رہ پائے گی
جب شفاعت کی وہ پھیلائیں گے پیاری خوشبو
       عقیدت کے علاوہ شاعر کے موضوعات میں استدعا کو بڑا دخل ہے۔ بغیر استدعا کے نعت گوئی ہوتو یہ رویّہ خدا کو بھی گوارا نہ ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذاتِ طیبہ ہے جو ہماری شفاعت کرسکتی ہے۔ ان کے بغیر ہم خالقِ کائنات کے غیظ و غضب سے نجات پاہی نہیں سکتے۔ شاعر کے استدعائی ڈھنگ کو بھی ملاحظہ کرتے چلیں   ؎
یقیں ہے آپ ہم عصیاں شعاروں کو بچائیں گے
ہے زیبا آپ کو تاجِ شفاعت یارسول اللہ
دم قدم سے آپ ہی کے
ہے بھلا میرا شہ دیں
آپ ہیں آسرا بے بسوں کے شہا
ڈالیں نظرِ کرم سید الانبیا
       حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کرنے کے لیے ہم خداے تعالیٰ کا جتنا بھی شکریہ ادا کریں کم ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے کے لیے خالقِ کائنات و نورِ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی استدعا شعرا کا ایک خاص وطیرہ ہوتا ہے۔ مُشاہدؔ رضوی کا یہ رویّہ بھی دیکھتے چلیں    ؎
مٹا کے دل سے خیالِ ہستی ، خدایا! عشقِ حبیب دے دے
کٹے یہ سر نامِ مصطفی پر ، تُو ہم کو ایسا نصیب دے دے
رہے روز افزوں عشقِ نبی
نہ ہو دل سے یہ کم یارب
دنیا کی محبت سے مری جان چھڑادے
یارب! یہ مُشاہدؔ رہے سرشار نبی کا
ہے مُشاہدؔ کی دعا از پَے حسنین خدا!
’’حشر میں ہو مرے نامہ کا معطر کاغذ‘‘
       اس آخری شعر میں واوین میں جو مصرعۂ ثانی ہے غالباً وہ طرحی نعت گوئی میں گرہ لگایا ہوا ہے۔ بہ ہر حال! مُشاہدؔ رضوی اپنے مربی یا استاد سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے بہت ہی صاف اور ستھرے انداز میں نعتیں کہی ہیں اور خوب کہی ہیں ۔
(ماخوذ: جہانِ نورِ محمدی(ﷺ)، مصنف : علیم صبا نویدی، مطبوعہ: ٹمل ناڈو اردو پبلی کیشنز، چینائی ، ۲۰۱۱ء ص ۱۱۷/۱۱۸)