Instagram

Thursday, 26 July 2018

Hazrat Mufti Abdul Wajid Qadri Hayat Wo Khidmat

امین شریعت حضرت مولانا مفتی الشاہ عبدالواجد نیرقادری مدظلہ  کی حیات وخدمات

پیدائش:
حضرت امین شریعت کی پیدائش ۱۹؍فروری ۱۹۳۴؁ء میں ان کے نانی ہالی گاؤں دوگھرا جالے ضلع دربھنگہ بہار میں ہوئی۔اور یہی ان کی اصل تاریخ پیدائش ہے مگر جب مڈل اسکول کمتول ضلع دربھنگہ کے پانچویں درجہ میں داخل ہوا تو ہیڈماسٹر نے اسکول کے رجسٹر میں بجائے ۱۹۳۴؁ء کے ۱۹/فروری ۱۹۳۷؁ء درج کردیا پھر وہی تاریخ دربھنگہ میونسپل کارپوریشن میں در ج ہوگئی اس کے بعد جتنی بھی سند یں بنیں یا دیگر کاغذات بنے سبھی میں مؤخرالذکر تاریخ درج ہوتی رہی۔

اسم گرامی:
حضرت امین شریعت کا اسم گرامی مختلف مراحل سے گذرکر عبدالواجد ہوا۔ نانا جان نے واجد علی رکھا اور والد گرامی نے واجد حسین رکھا اور پھر حضرت نے خود سے اپنا نام عبدالواجد رکھا۔ ایک مرتبہ میں نے (کاتب الحروف)ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنا نام عبدالواجد کیوں رکھا؟ جب کہ آپ کے والد ماجد اور جدامجد نے دوسرا نام منتخب فرمایاتھا۔توحضرت    نے جو اب عنایت فرمایا کہ عبدالواجد نام میں تواضع وانکساری کے ساتھ ساتھ رب حقیقی کی بندگی کی بھی اضافت ہے جومجھے نہایت پسندہے۔

نسب:
آپ کانسب مبارک فرنگی محل لکھنؤ سے جا ملتاہے۔ آپ اپنی کتاب وصایا واجدیہ میں خود رقم طراز ہیں’’ میں بندۂ ناچیز عبدالواجد قادری ابن الحاج الحافظ عبدالاحد رضوی قادری ابن حافظ السیرمولانا الحافظ محمدمیاں جان اشرفی خلیفہ حجۃ الاسلام ابن مُلاّشُبراتی ابن بندۂ ایزد عرف ایزدی میاں ابن عبداللہ ابن عبدل عرف ملاجی ابن نورالدین جوفرنگی محل لکھنؤ سے ترک وطن کرکے سہسرام آئے اور سہسرام میں انہوں نے مستقل طرح سکونت ڈالی پھر ان کے پوتے عبداللہ میاں سہسرام سے ترک وطن کے بعد (علیم آباد) اھیاری میں آکر بودوباش اختیار کیا اوراھیاری سے متصل آبادیوں میں اپنی رشتہ داریاں پھیلائیں۔ اور اب بندۂ ناچیز اھیاری کو خیرآباد کہہ کر دربھنگہ آگیاہے۔‘‘

متوطناً:
علیم آباد اھیاری نزد کمتول من مضافات دربھنگہ،بہار

دیناً:
مسلمان اہل سنت وجماعت ۔

مذھباً:
حنفی۔

مشربا:
قادری، برکاتی، رضوی۔

مسلکاً:
بریلوی (مسلک اعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی)

الاقامۃ حالاً:
قادری منزل ،قلعہ گھاٹ کالونی،دربھنگہ،بہار (الہند)

بسم اللہ خوانی:
حضرت امین شریعت کی بسم اللہ خوانی خاندانی رسم کے اعتبار سے چار سال چار مہینے اور چار دن پر کروائی گئی۔ اور تقریب بسم اللہ خوانی میں علاقہ کے مشہور عوام وخواص کے علاوہ اس وقت کے بہت بڑے بزرگ حضرت حاجی نعمت شاہ عرف خاکی بابا بھی موجودتھے۔ اور ان سبھوں کی موجودگی میں حضرت کے والد ماجد حضرت الحاج حافظ عبدالاحد قادری نوراللہ مرقدہ نے بسم اللہ خوانی کرائی اور آپ کی تعلیم کا آغاز ہوگیا۔ یہاں پر حضرت خاکی بابا علیہ الرحمہ والرضوان کے بارے میںیہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتاہے کہ حضرت امین شریعت کے والد بزرگوار سے حضرت خاکی باباعلیہ الرحمہ بہت محبت فرمایا کرتے تھے اور اکثرہا حضرت خاکی بابا علیہ الرحمہ حضرت امین شریعت کے گاؤں میں تشریف لے جایا کرتے اور عوام وخواص پرفیضان الٰہی کی بارش برساتے۔ حضرت خاکی بابا کامزارشریف ویشالی ضلع میں مہنار بستی کے ایک تالاب کے کنارے ہے جو مرجع خلائق ہے اور وہاں فیض رسانی کا دریا رواں دواں ہے ۔حضرت کا عرسِ مبارک ہرسال ۱۳؍شعبان المعظم کو منعقد ہوتاہے۔

ابتدائی تعلیم:
حضرت امین شریعت کے ابتدائی اساتذہ میں حضرت کے والد ماجدکے علاوہ مولوی محمد ادریس دوگھروی، مولوی عزیز ا لرحمن نمرولی، ماسٹر عبدالمجید چہونٹا ہیں ۔ جن سے قاعدہ بغدادی سے ختم قرآن تک اور اردو کے قاعدہ سے اردو کی چوتھی تک پھر فارسی کی پہلی، آمدنامہ ، قصدالصیغہ اور ابتدائی تاریخ وجغرافیہ اور حساب وغیرہ مذکورہ اساتذہ سے پڑھا۔ پرائمری مکتب چہونٹا کے بعد ۸؍سال کی عمرمیں مڈل اسکول کمتول میں داخلہ لیا جہاں پانچویں درجہ تک پڑھنے کے بعد دینی تعلیم حاصل کرنے کے غرض سے دوسرے صوبوں کا سفرشروع فرمایا۔
کمتول مڈل اسکول کے دورانِ تعلم حضور حجۃ الاسلام سیدی مولانا الشاہ حامد رضا ابن اعلیحضرت امام اہلسنت رضی اللہ تعلی عنہماکی قدم بوسی کا شرف بھی حاصل ہوا جبکہ حضرت والا اپنے شاگرد مولانا عبد الحفیظ صاحب منظری کے آبائی وطن رتھوس کی واپسی میں کمتول بازار میں قیام پزیر ہوئے پھر جمعہ کی نماز ادا فرمانے کے لئے چہونٹا مسجد میں تشریف لائے۔

جنگِ آزادی میں آپ کی شمولیت:
جب آپ کمتول کے مڈل اسکول میں درجۂ پنجم کے طالب علم تھے۔اس وقت ملک گیر پیمانہ پر انگریزوں کے خلاف جنگی مہم میں سارے ہندوستانی مصروف تھے۔ ان مین سے ایک آپ کی بھی ذات گرامی ہے اگر چہ اس وقت آپ کی عمر بہت کم تھی لیکن حوصلہ کسی بڑے سے کم نہیں تھا۔پھر انہی ایام میں انگریز بھگائو آندولن میں بھی آپ نے اسٹوڈنٹ  یونین کا ساتھ دیا اور جنگِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

تعلیمی اسفار:
حضرت امین شریعت نے سب سے پہلا سفر اپنے عزیز ساتھی حافظ محمد عباس نجمی مرحوم کے ہمراہ الہٰ آباد ہوتے ہوئے فتح پور تک کاکیا۔ وہاں مدرسہ اسلامیہ میں داخلہ لیا۔ جس کے تمام مدرسین سوائے درجۂ حفظ کے دیوبندی تھے۔ حافظ عباس صاحب چونکہ شعبۂ حفظ میں تھے۔چنانچہ انہوں نے حضرت کا نام بھی درجۂ حفظ میں لکھوادیا۔ وہاں ایک سال چند مہینے میں ۹/سپارے یادکئے اور وہاں کے ناگزیر حالات کو دیکھتے ہوئے حضرت نے مدرسہ اسلامیہ فتح پور سے الہٰ آباد روانہ ہونے کا عزم کیا اور وہاں مدرسہ سبحانیہ میں درجۂ حفظ میں داخلہ لیا۔ جس کے مدرس حافظ محمد شفیع صاحب تھے۔درجۂ قرأت کے مدرس نامور قاری حضرت مولانا قاری محب الدین صاحب تھے  جن کے درجہ میں مشاقی کے لئے جاتے رہے۔حافظ محمدشفیع صاحب کی پیرانہ سالی کی وجہ سے درجۂ حفظ کا نظام درہم برہم ہو گیا۔حضرت مجاہدِملت مولانا شاہ حبیب الرحمن صاحب اڑیسہ  نے بھی مدرسہ کو خیرباد کہ دیا۔اور مسجد اعظم دریاباد کو آباد کیا۔جہان جامعہ حبیبیہ کے نام سے درسگاہ کی بھی ابتداء ہو گئی ۔بہت سارے طلبہ مدرسہ سبحانیہ سے جامعہ حبیبیہ میں منتقل ہو گئے۔مگر آپ نے مدرسہ سبحانیہ میں درجۂ حفظ کو چھوڑ کر درجۂ نظامیہ میں داخلہ لے لیا جہاں حضرت علامہ حکیم نظام الدین صاحب حبیبی ،مولانا نعیم الدین صاحب بہاری مولانا عبد الرب صاحب حبیبی اور علامہ مشتاق احمد نظامی و غیر ھم تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔آپ نے میزان منشعب سے لے کر کافیہ علم الصیغہ اور قدوری  تک انہی اساتذہ کے زیرِشفقت رہ کر پڑھا۔پھر آپ مدرسہ فاروقیہ بنارس آ گئے۔ جہاں مولانا عبدالرشید چھپراوی اور مولانا باقر علی گیاوی علیہ الرحمہ کے زیرسایہ اچھی تعلیم وتربیت حاصل کرتے رہے۔منشی ،کامل کے امتحانات الہ بادبورڈ سے دیا پھرمدرسہ اسلامیہ میں داخلہ لیا جودیوبندی مکتبہ فکرکا مدرسہ تھا۔ وہاں حضرت کی تعلیم دورۂ حدیث تک ہوتی رہی تاآنکہ دستاربندی کا موقع آگیا۔ دستاربندی کے موقع پر مدرسہ کی جانب سے دیوبندیوں کے کھدرپوش حسین احمدمدنی قاری طیب  ۔ مولوی ابو الفا مولوی محمد قاسم شاہ جہاں پوری مولوی نجم الدین اصلاحی کو بھی مدعوکیاگیااور پہلے ہی دن کے جلسہ میں اس کھدرپوش کی تعریف میں مولوی نجم الدین اصلاحی سرائے میری نے زمین وآسمان کے قلابے ملادیے۔ جس کے سبب حضرت اور ان کے ایک ساتھی ( جن کی بھی فراغت حضرت کے ساتھ ہی ہونی تھی) کو قلبی اذیت پہونچی ان دونوں نے راتوں میں ایک اشتہاربعنوان ’’علماء دیوبند کی نیر نگیاں ‘‘ ترتیب دیا اور اس میں مطالبہ کیا کہ جن کی زبانیں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیوں میں ہروقت ملّوِث رہتی ہیں وہ آج کل کے مولویوں کی تعریف کرتے کرتے تھکتی نہیں، آخریہ کیامعاملہ ہے۔ اور اسی طرح کے چند سوالوں کو لکھ کر اشتہار کی شکل میں پورے شہر بنارس کی گلیوں میں چسپا ںکر دیا گیا۔ اس کا اثریہ ہواکہ آخری دن کا جلسہ جو صبح تک ہونا تھا وہ گیارہ بارہ بجے تک ختم ہوگیا عوام ان کے عقیدوں سے آگاہ ہونے پر متنفر ہوگئی اور اس سے جلسہ پر بہت برا اثرپڑا۔ حضرت کو اس کارروائی کا نتیجہ معلوم تھا۔ دونوں حضرات کو مدرسہ کے صدر مولوی عبد المجید کے گھر کی آفس میں طلب کیاگیا۔ حسین احمد مدنی ودیگر اکابر علمائے دیوبندوہاں بیٹھے ہوئے تھے حضرت اور ان کے ساتھی کو غصہ سے گھور رہے تھے گویا کھاجائیں گے۔ حسین احمد مدنی نے حضرت سے پوچھا کہ تمہیں دستار چاہیے یانہیں؟ حضرت نے جواب دیا کل تک تو چاہئے تھالیکن آج نہیں۔ پوچھاگیاکیوں؟ حضرت نے جواب دیاکہ جوکچھ اشتہار میں لکھاگیا ہے یاتو اسے غلط ثابت کیاجائے یا اس کا جواب دیا جائے۔عدم جواب کی صورت میں مجھے پانچ گز کے کپڑے سے محبت نہیں بلکہ اپنے ایمان سے محبت ہے اپنے آقائے نعمت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو پامال کرنے والوں سے پانچ گز چادر لے کر اپنے ایمان کا سودا نہیں کرسکتا۔ اور’’ والسلام علی من اتبع الہدی‘‘  کہتے ہوئے حضرت مدرسہ سے مع سازوسامان کے نکل گئے اور شہر بنارس ہی میں کرایہ کے کمرہ میں رہنے لگے۔
اتفاقاً ان ہی ایام میں منظراسلام بریلی شریف کے شیخ الحدیث اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قدس سرہٗ کے صاحب سجادہ اور نبیرۂ اکبرحضور مفسراعظم ہند اورحضورسیدنا ابوالمحامد سیدمحمدکچھوچھوی محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کا بنارس آنا ہوا۔ جب ان بزرگوں کو حضرت کے اس جرأت مندانہ کام کی خبرملی تو انہوں نے حضرت کو بلایا اور دعائیں دیں ۔حضور محدث اعظم ہند نے فرمایا’’ واللہ میں آپ کی مثال آسمان والوں سے نیچے نہیں پاتا۔ جنہوں نے عظمت نبی کی خاطر عزازیل کو ٹھکرادیا اور آپ نے عظمت مصطفیٰ کی خاطر اپنی دستار کو قربان کردیا اور انہیں ٹھوکر ماردی۔‘‘ پھرحضور مفسراعظم ہند نے اپنے جیب خاص سے بیس روپیہ نکالا اور فرمایا اسے لیجئے اور پہلی فرصت میں آپ بریلی شریف پہنچ جایئے۔ اس طرح آپ کی قسمت کا ستارہ اس مقام پر پہنچ گیا جہاں قسمت کی بلندی آپ کی منتظر تھی۔

دستارفضیلت:
حضرت امین شریعت بنارس کے بعد حضورمفسراعظم ہند کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بریلی شریف پہونچے اور منظراسلام میں دورہ کی جماعت میں داخلہ لیا اور قیام کا انتظام مزارشریف اعلیٰ حضرت کے بالائی حصہ میں کتب خانہ حامدی کے اندر کیاگیا۔ ایک سال تین مہینہ رہ کر دورہ حدیث پاک سے شرفیاب ہوتے رہے۔ اس وقت آپ کے درجہ میں  چارپانچ طلبہ ہواکرتے تھے جن میں مولانا حکیم نعیم الدین گورکھپوری ، مولانا عبدالصمد مظفرپوری، مولانا محمد مبین صاحب پٹنوی، مولانا حسیب الرحمن صاحب دربھنگوی وغیرہ قابلِ ذِکر ہیں۔ سن ۱۳۷۶؁ھ مطابق مارچ ۱۹۵۷؁ء بموقع عرس حضور حجۃ الاسلام حضور مفسر اعظم  شیخ الحدیث ،حضور محدث اعظم ہند ، امام النحہ حضرت علامہ سید غلام جیلانی میر ٹھی اور حضرت علامہ مفتی اجمل حسین سمبھلی وغیر ھم کے ہاتھوں آپ کو دستارفضیلت سے مشرف کیاگیاکیونکہ انہی حضرات نے آپ کے دورۂ حدیث پاک کا امتحان لیا تھا ۔ دورانِ فضیلت:  آپ  کو بریلی شریف کے قیام کے دوران دوبار عرس اعلیٰ حضرت اور عرس حجۃ الاسلام میں شرکت کا موقع ملا۔ اس دورمیں عوام سے زیادہ اکابرعلماء اور مشائخ عظام کی تشریف آوری اس عرس میں ہواکرتی تھی ۔ عرس کے ایا م میں محلہ سوداگران کی گلی کوچوں میں کہیں بھی مسلمہ عورتیں نظرنہیں آتی تھی، بالائی حصہ پرعرس شریف کے پروگرام انجام پاتے تھے۔ دو ڈھائی سوزائرین کا مجمع ہوتاتھا۔ اس عرس کے موقع سے صرف اکابرعلماء ومشائخ کی مدلل تقریر یں ہوا کرتی تھیں۔شیرِ بیشہ اہل سنت علامہ شاہ حشمت علی خاں اعلیٰ حضرت کے نعتیہ کلا م کو جھوم جھوم کر پڑھتے اور اسی کلام امام کی تشریح وتوضیح پر اپنی تقریر کا اختتام فرماتے۔ حضرت مولانا مفتی اجمل شاہ صاحب سنبھلی نہایت مدلل تقریر فرماتے۔ حضور سیدنا محدث اعظم ہند دلوں میں پیوست ہونے والی تقریر پر تنویر سے عوام اور علماء کو نوازتے۔ حضورسیدنا مفسراعظم ہند کی قرآنی و عرفانی تقریر کو عوام سے زیادہ علماء ومشائخ پسند فرماتے۔
  امام النحو علامہ غلام جیلانی میرٹھی یا حضور محدث اعظم ہند صدارت فرماتے۔ ۱۹۵۷؁ء کے عرس رضوی میں دارالعلوم منظراسلام (جامعہ رضویہ) اور دارالعلوم مظہراسلام مسجد بی بی جی کے درمیان یہ طے پایا کہ اکابر علمائے کرام کے علاوہ دونوں مدرسوں کے منتہی طلبہ کو بھی تقریر کا موقع دیاجائے تاکہ عوام پر یہ آشکار ہوسکے کہ دونوں مدارس بھی طلبہ کی ذہنی تربیت میں لگے ہوئے ہیں، چنانچہ پندرہ پندرہ منٹ کے لئے دونوں جگہوں کے ایک ایک منتہی طلبہ کو بھی تقریر کا موقع دیاگیا جب طلبہ کے انتخاب کی باری آئی تو منظراسلام سے آپ کا انتخاب ہوا اور دارالعلوم مظہراسلام سے شیرِبہار حضرت مفتی اسلم صاحب رضوی بانی وسربراہ الجامعۃ القادریہ مقصودپور ،بہار، کالیکن حضور مفتی اسلم رضوی صرف پندرہ منٹ بولنے سے انکار فرمادیا اور اپنا وقت بھی امین شریعت کو دیدیا ۔ اس طرح پہلی بار حضرت امین ِشریعت کو بریلی شریف کے اسٹیج پر بولنے کا موقع ملا۔آپ کی تقریر کا انداز اور مدلل و محقق بیانات کو سن کر  دورانِ تقریر ہی  آپ  سے اکابرعلمائے اہل سنت نے اٹھ اٹھ کر معانقہ فرمایا۔ اورحضور مفسراعظم ہند نے ان القاب سے نوازاکہ ’’ مجھے تم پرفخر ہے تم نے جامعہ رضویہ کی عظمتوںمیں چار چاندلگادیا۔‘‘
حضرت امین شریعت کے امتحانِ فضیلت کے ممتحنین جو قابل ذکر ہیں۔ ان میںحضور محدث اعظم ہند  حضرت علامہ مفتی اجمل شاہ صاحب سنبھلی، مولانا قاری مصلح ا لدین صاحب کراچی، حضرت مولانامحمد حسین صاحب سنبھلی اور نگرانِ خصوصی حضرت علامہ الشاہ غلام جیلانی میرٹھی علیہم الرحمۃ والرضوان تھے۔

تربیت افتاء:
حضرت امین شریعت جب بریلی شریف تشریف لے گئے تو سب سے پہلے  آپ  کی ملاقات حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ شاہ مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ سے ہوئی تھی۔ اور پہلی ہی ملاقات میں حضور مفتی اعظم ہندنے حضرت کو اپنے تپائی سے متصل بٹھاکر تاکید فرمائی کہ آپ جب تک بریلی میں رہیں میرے پاس تشریف لایا کیجئے۔ چنانچہ حضرت جب تک بریلی شریف میں مقیم رہے حضور مفتی اعظم ہند سے تربیت افتاء وفتویٰ نویسی کے گڑحاصل کرتے رہے۔ اور تربیت کے دوران بھی فتویٰ نویسی کا کام انجام دیتے ۔ حضور مفسر اعظم ہندعلیہ الرحمہ نے آپ سے تاکید اً ارشادفرمایا کہ ہمیشہ مفتی اعظم ہند کی خدمت میں بیٹھاکرو ان سے فتویٰ نویسی کے گڑسیکھاکرو اور اپنے لکھے ہوئے فتاویٰ کی اصلاح لیتے رہو۔ چنانچہ مسلسل گیارہ مہینے تک حضور مفتی اعظم ہند کی صحبت بابرکت میں رہنے کی سعادت حاصل فرمائی اور اپنے تحریری جوابات پر اصلاحیں لیتے رہے۔ اس درمیان حضور مفتی اعظم ہندعلیہ ا لرحمہ کی شفقت و مہربانی کی موسلادھار بارش  آپ پر ہوتی رہی۔

درس وتدریس و خدمت افتاء:
دستار فضیلت کے بعد حضور مفسراعظم ہند علیہ الرحمہ کے ایماء پر پچاس روپیہ ماہوار کے ساتھ  آپ  منظراسلام میں بحیثیت نائب مدرس مقرر ہوئے۔ شرح وقایہ ،شرح جامی اور نورالانوار کے طلبہ کی تکرار فرماتے اور نحومیر، صرف میر اور گلستاں کے طلبہ کو پڑھاتے بھی تھے۔
  فتویٰ نویسی کا ذوق دور طالب علمی سے تھاہی لیکن اس کا باضابطہ آغاز ۱۳۷۶؁ھ میں حضور سیدنا مفتی اعظم ہند اور حضور مفسر اعظم ہند رحمہمااللہ تعالیٰ کی اجازتوں سے ہوا۔ آپ کے نام کی پہلی مہرافتاء ۱۳۷۶؁ھ میں بریلی شریف کے اندر تیار ہوئی۔ جس کو حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے ملاحظہ فرماکر آپ کے حوالہ کیا پھر حضورمفسراعظم ہند علیہ الرحمہ نے مہرمذکور کو دیکھ کر اپنی خوشی کا اظہار فرمایا اور چندہدایات بھی دیے۔ اسی سال بریلی شریف میں ایسا فساد ہواکہ لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا دشوار ہوگیا۔ اشیاء خورد ونوش کا ملنا مشکل ہوگیا۔ چونکہ حضرت کا قیام خانقاہِ رضویہ کے بالائی حصہ (کتب خانہ حامدی) میں تھا۔ اکثروبیشتر سرکار مفتیٔ اعظم ہند علیہ الرحمہ بنفس نفیس خود کھانا، ناشتہ لے جاکر حضرت کو کھلایاکرتے اور فسادات کے درمیان ہمت کے ساتھ ثابت قدم رہنے کی تلقین فرماتے۔ فسادات کے درمیان (تقریباً ایک ہفتہ تک) مسجد رضا میں صرف تین افراد (حضور مفتی اعظم ہند، حضرت ساجد میاں اور حضرت امین شریعت) پر مشتمل پنجوقتی جماعتیں ہوتی رہیں۔ اس بیچ  آپ  کو مفتی اعظم ہند سے بہت کچھ استفادہ کا موقع ہاتھ آیا۔
منظراسلام میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد حضور مفسراعظم کے ایماء و رضامندی اورحضرت مولانا حافظ حمید الرحمٰن صاحب سجادہ حضرت محبیّٰی ولی علیھماالرحمہ ناظم اعلی مدرسہ رحمانیہ حامدیہ کے اصرار پیہم پر شوال المکرم ۱۳۷۶؁ھ مطابق ۱۹۵۷؁ء میں مدرسہ رحمانیہ حامدیہ پوکھریرا ،ضلع سیتامڑھی (سابق مظفرپور) میں صدرالمدرسین کے منصب علیا پر فائز ہوئے اور پھروہاںسے اپنے علم و عرفان کی روشنی پورے بہارمیں پھیلاتے رہے۔ اس دورمیں سینکڑوں تشنگانِ علوم دینیہ کو سیراب فرمایا۔ جواب خود مصدرومنبعِ علوم وحکمت بن کر دنیا کو سیراب کررہے ہیں۔ مدرسہ رحمانیہ حامدیہ میں صدارت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مفتی بھی رہے اور کارافتاء کو بخوبی انجام دیتے رہے۔ لیکن افسوس کہ حضرت کے وہاں سے چلے جانے کے بعد ان نقول فتاویٰ کو ذمہ دارانِ مدرسہ محفوظ نہ رکھ سکے۔
مدرسہ رحمانیہ حامدیہ میں ایک عرصہ پڑھانے اور افتاء نویسی کے بعد مختلف مدارس میں آپ نے خدمات انجام دیں۔ لیکن جہاں بھی گئے افتاء کی ذمہ داریوں کو بھی سنبھالا۔ آپ نے بعض مساجد میں بھی امامت و تدریسی خدمات انجام دی مثلاً جامع مسجد بالوترا باڑھ میر راجستھان، جامع مسجد کشمیری کاٹھمنڈونیپال وغیرہ تو وہاں بھی امور افتاء کو انجام دیتے رہے۔ لیکن افسوس کہ ان فتاؤوں کی نقلیں محفوظ نہیں رکھی جاسکیں۔ حالانکہ ان میں سے بعض فتاوؤں پر حضور مفتی اعظم ہند اور ملک العلماء حضرت مولانا ظفرالدین صاحب فاضل بہاری صاحب جامع الرضوی المعروف بہ صحیح البہاری کے تائیدی و توثیقی دستخط بھی ثبت تھے۔علم المیراث کے بعض جوابات کی تائید و توثیق اس علم کے عظیم ماہراستاذ حضرت مولانا شاہ عظیم الدین صاحب مکنپوری ثم پوکھریروی نے فرمائی یہ وہ وقت تھا کہ پورے علاقہ میں گورنمنٹ کی طرف سے سروے ہورہا تھا اور آپ اپنے علمی لیاقت اور سوجھ بوجھ سے تیرہ تیرہ چودہ چودہ بطنوں کا مناسخہ نکالا کرتے تھے۔
آپ نے جامعہ معینیہ (معین العلوم) اجمیر شریف میں بھی تدریسی خدمات انجام دی۔ اور وہاں کے افتاء کی ذمہ داری کو بھی سنبھالا۔ وہاں سے ایک ماہنامہ بھی شائع ہواکرتاتھا سلطان الہند جس کی عملی ادارت بھی آپ ہی کے مضبوط کندھوں پر رکھی گئی کئی برسوں تک اس رسالہ کے ذریعہ مذہب حق کی تبلیغ واشاعت کرتے رہے۔

مدرسہ ضیاء العلوم میں تدریسی خدمات:
اجمیرشریف سے واپس ہوکر اپنے آبائی وطن علیم آبا اہیاری نزد کمتول ضلع دربھنگہ،بہار میں ایک مدرسہ قائم کیا جس کا نام ’’ضیاء العلوم‘‘ ہے اور پھروہاں سے اپنے علم وعرفان کا دریا بہانا شروع کیا۔ اس وقت اس مدرسہ میں چند بیرونی طلبہ جاگیر میں بھی رہاکرتے تھے جن کے خوردونوش کا انتظام محلہ والوں کے ذریعہ ہوتا تھا۔ اور دور دراز سے طلبہ کثیر تعداد میں آکر حضرت سے اکتساب فیض کرتے۔مولانا نذیر احمد ادھیانپوری،مولانا فضل الرحمن پورنوی ،مولانا سلطان رضا رضانگر چہونٹا،مولانا حافظ عید محمد اور مولانا دلدار حسین خاں وغیرہم اسی دور کے تربیت یافتہ ہیں۔
حضرت کا گھرانہ اگرچہ علمی اعتبار سے ایک مضبوط قلعہ رہا ہے لیکن معاشی اعتبار سے حضرت نے کافی پریشانیوں کا سامنا فرمایا۔ آپ نے تدریسی و تبلیغی خدمات کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ امام اعظم و دیگر اکابر ائمہ مجتہدین وعلمائے کاملین کی روش اور طریقے کو اختیار کرتے ہوئے تجارت بھی کرنا شروع کیااور بحمداللہ! معاشی الجھنوں سے بھی آزاد ہوتے گئے۔
پھرآشاپور،دربھنگہ کی خانقاہ کے سجادہ نشین جناب صابر بابو کے ایماء اور پیہم اصرارپر آپ نے اپنے سامانِ تجارت کو اونے پونے کے دام ہٹاکر  ۱۳۹۲؁ھ میں دارالعلوم مشرقیہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ بہار تشریف لے آئے اور نائب صدر کے منصب پر فائز ہوئے۔وہاں اس وقت بچوں کی تعداد اچھی خاصی رہتی تھی اور متوسطات تک کی پڑھائی بھی ہوتی تھی جوخود حضرت پڑھایا کرتے تھے اور دارالافتاء مستقل طور پر آپ کے زیرنگرانی آگیا ۔ وہاں آپ کے اکثرفتاؤوں کی نقلیں بھی رکھی جانے لگیں۔ اور الحمدللہ کہ وہ نقلیں اب بھی محفوظ ہیں جو طباعت کی منزل سے گذرکر عنقریب قارئین کی تشنگی کو بجھائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ!
ادارۂ شرعیہ بہار کی ’’انسداد فسادات کانفرنس‘‘ کی شرکت کے بعد جب حضور مجاہد ملت مولانا شاہ حبیب الرحمن رئیس التارکین اڑیسہ اوررئیس المناظرین حضرت علامہ مفتی الشاہ رفاقت حسین صاحب مفتی اعظم کانپور امین شریعت اول مرکزی ادارۂ شرعیہ بہار، دارالعلوم مشرقیہ حمیدیہ کے صدر ومہتمم حضرت مولانا مقبول احمد خان کے اصرار پر حضرت مولانا صوفی سیدالزماں صاحب حمدوی  اور مولانا مفتی عبد الحفیظ صاحب کے ہمراہ دربھنگہ مدرسہ حمیدیہ میں تشریف لائے۔ اصرار کی وجہ یہ بنی کہ اس وقت دارالعلوم مشرقیہ حمیدیہ کی تنزلی کا دور شروع ہوچکاتھا جس کا اندازہ حضرت مولانا مقبول احمد خان صاحب کو ہوچکاتھا۔ اور ان کو یہ لگاکہ اگر اس دارالعلوم کے باگ ڈور کو قائدین اھل سنت کے ہاتھوں میں نہیں دیاگیا ۔تونہ جانے اس کا کیا حال ہوگا؟ بہرحال اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں دونوں حضرات کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ دورانِ قیام حضرت رئیس المناظرین اور حضرت رئیس التارکین نے حضرت کے فتاؤوں کے نقول کو ملاحظہ فرمایا پھر دونوں حضرات بہت خوش ہوئے خاص کر مفتی اعظم کانپور نے قضاء وافتاء سے متعلق ضروری اور مفید ہدایتیں دیںاور دربھنگہ کمشنری کا باضابطہ قاضیٔ شرع بھی مقرر فرمایا اور تاکید فرمائی کہ مرکزی دارالقضاء ادارۂ شرعیہ بہار سے مسلسل رابطہ قائم رکھیں۔
  سن ۱۳۹۵؁ھ مطابق ۱۹۷۶؁ء میں ادارۂ شرعیہ کے عظیم محرک و بانی حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ (رئیس القلم) اور ادارۂ شرعیہ کے مہتمم علامہ سید رکن الدین صاحب اصدق جب دربھنگہ کے بعض پروگرام میں تشریف لائے تو دارالعلوم المشرقیہ حمیدیہ میں بھی رونق افروز ہوئے اور آپ کے کارِ افتاء کا جائزہ لیا۔ پھر ان دونوں حضرات نے حالات کا واسطہ دیتے ہوئے حضرت کو مرکزی ادارۂ شرعیہ بہار سلطان گنج پٹنہ آنے کی دعوت دی۔
حضرت ان دنوں دارالعلوم مشرقیہ کے انتظامیہ سے کافی پریشان بھی ہوچکے تھے۔ آپ نے انتظامیہ کی توجہ کو اس طرف مبذول بھی کرایا لیکن انتظامیہ کے افراد علوم شرعیہ سے خود ہی دورتھے تو اس کی اصلاح کیوں کر ممکن ہوتی۔ لہٰذا وہاں کے انتظامیہ کے سبب تدریسی و تعلیمی امور پر کافی برا اثر پڑا۔ اسی کو غنیمت  موقع سمجھا اورآپ نے وہاں کے ناظم/سکریٹری کو ایک تحریر پیش کیا کہ برائے کرم یہاں کے انتظام و انصرام کو بہتر بنائیں تاکہ تعلیم وتربیت ٹھیک سے ہوسکے ورنہ اس تحریر کو استعفانامہ تصور کیاجائے۔ سکریٹری نے انتظام کو ٹھیک نہ کرنے کی گویا قسم کھالی تھی چنانچہ حضرت کی اس تحریر کو استعفانامہ تصور کیاگیا۔ حضرت خوش ہوکر وہاں سے رخصت ہوگئے حالانکہ منتظمہ پر سال بھر کا مشاہرہ بھی بقایاتھا پھربھی حضرت نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے مرکزی دارالافتاء ادارۂ شرعیہ پٹنہ تشریف لائے۔
جہاں ادارۂ شرعیہ بہارکے ارباب حل وعقد نے علامہ الحاج مفتی ارشدالقادری صاحب جمشیدپوری رئیس القلم اور حضورامین شریعت اول علامہ الحاج الشاہ مفتی رفاقت حسین صاحب علیہما الرحمۃ والرضوان کی رہنمائی وسربراہی میں آپ کو مرکزی ادارۂ شرعیہ بہار کے مرکزی دارالافتاء کے صدرالصدور کے منصب پر فائز کیاگیا ۔
ادارۂ شرعیہ میں آپ جہدپیہم اور یکسوئی کے ساتھ ۱۹۷۹؁ء سے ۱۹۸۴؁ء کے اخیرتک مسلسل پانچ سال صدرمفتی کی حیثیت سے افتاء کی خدمت انجام دیتے رہے ۔ یہاں آپ کی نیابت حضرت علامہ قاضی ومفتی عبدالحافظ رضوی علیہ الرحمہ فرماتے تھے ۔ایک مرتبہ میں نے (راقم الحروف) ان سے دریافت کیاکہ حضرت آپ تو میرے پیرومرشد حضرت امینِ شریعت کے نائب صدر مفتی ہوا کرتے تھے کچھ ان کے حالات پر روشنی ڈالیں۔ تو حضرت مفتی عبدالحافظ رضوی صاحب علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ وہ تو بزرگوں کی نشانی ہیں ان سے دنیا والے جتنا فیض اٹھانا چاہیںاٹھالیں۔ پتہ نہیں ان کے اندر تحریری اور تقریری صلاحیت و سلاست کہاں سے آئی کہ وہ روزانہ درجنون فتاویٰ لکھاکرتے، اوراگر کہیں پروگرام میں چلے جاتے اور چندروز کے بعد بھی آنا ہوتا تو وہ سب سے پہلی فرصت میں سارے جوابات لکھتے اور پھر اسے بھیج دیتے اگرچہ ان سوالات کی تعداد پچاس تک پہنچ جاتی۔‘‘
سبحان اللہ! اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے اوپر بزرگوں کا کتنا فیضان واکرام تھاکہ دین کا کام چاہے پہاڑ جتنا ہو خندہ پیشانی کے ساتھ اسے انجام دیتے۔
ادارۂ شرعیہ سے آپ کے صادر شدہ فتاوے نہ صرف مسلم عوام وخواص میں مقبول ہوئے بلکہ ان فتاؤوں کو اس وقت کے کلکٹر اور ججوں کو بھی تسلیم کرنا پڑتا اور کورٹ و کچہری میں بھی آپ کے فتاوے پرمسلم نزاعات کے فیصلے ہوئے۔
ادارۂ شرعیہ میں آپ کے لکھئے گئے فتاؤوں کی تعداد تو معین نہ ہوسکیں البتہ جہازی سائز کے بڑے بڑے پانچ رجسٹروں میں آپ کے فتاؤوں کے نقول موجود ہیں۔ جوبحمدللہ حضرت نے خود سے نقل کیا ہے اور دارالافتاء مرکزی ادارۂ شرعیہ کی الماری میں محفوظ ہیں۔

امینِ شریعت کا منصبِ جلیلہ:
آپ  کی علمی لیاقت اور افتا و قضاء کی مہارت پورے ہندوستان مین مسلم مانی جاتی رہی۔چنانچہ جب امینِ شریعت ثانی حضرت مولانا انیس عالم سیوانی صاحب  علیہ الرحمہ کا انتقالِ پر ملال ہوا  تو ادارۂ شرعیہ میں اس منصبِ جلیلہ پر کسی عبقری شخصیت کی تلاش شروع ہوئی ۔چونکہ یہ منصب ادارہ کا سب سے بڑا اور ذمہ دار منصب ہے لہٰذا اس منصب پر کوئی ایسی ہی شخصیت جلوہ بار ہو سکتی تھی جو ادارہ کا رازدار بھی ہو اور وفا شعار بھی ہو۔تلاشِ بسیار کے بعد تمامی علمائے اہلسنت کی نگاہ آپ پر مرکوز ہو گئی۔لیکن آپ نے اپنی مصروفیت کو سامنے رکھ کر  اس منصبِ جلیلہ سے معذرت چاہی لیکن اصرار بسیار  پر آپ مجبور ہوئے اور اس منصبِ علیا کی ذمہداریوں کو قبول فرما لی۔
ادارۂ شرعیہ کے بعد ۱۹۸۵؁ء کے شروع میں مفکرملت ریحان رضویت حضرت علامہ الحاج ریحان رضاخان صاحب عرف رحمانی میاں قبلہ علیہ الرحمہ کے اصرار پر آپ پھرجامعہ رضویہ منظراسلام بریلی شریف کے دارالافتاء میں صدرمفتی کی حیثیت سے جنوری ۱۹۸۵؁ء تا اکتوبر ۱۹۸۵؁ء خدمت افتاء انجام دیتے رہے۔

ہالینڈ کا سفر:
اسی درمیان ہانگ کانگ اور ہالینڈ سے ایک عالم دین کا شدید مطالبہ ہوا۔ چونکہ ریحان ملت نے ان دنوں امریکہ، یورپ اور جنوبی امریکہ کا تبلیغی واشاعتی دورہ فرمایاتھا تو انہوں نے حضرت کو مشورہ دیاکہ اگرآپ چاہیں تو کچھ دنوں کے لئے ہالینڈ تشریف لے جائیں۔ چنانچہ اکتوبر ۱۹۸۵؁ء میں آپ’’ نیدرلینڈ اسلامک سوسائٹی‘‘ کے ذریعہ ہالینڈ آگئے۔ یہاں تبلیغ واشاعت اور امامت وخطابت کے علاوہ افتاء کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

ہالینڈ میں آپ کو قاضی القضاۃ  اور مفتیٔ اعظم کا لقب و دستار:
۱۹۸۷؁ء مطابق ۱۴۰۸؁ھ میں قائداھل سنت حضرت علامہ ارشدالقادری صاحب علیہ الرحمہ کی تحریک پر جانشین مفتی اعظم تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر ضاخان عرف ازہری میاں قاضی القضاۃ فی الہند کی قیادت اور عراق وترکی نیز مغرب کے سفراء اور کانسلرز کی نمائندگی و موجودگی میں عمائد ملک وملت نے آپ کے سردستارِ افتاء و قضا باندھ کر ملک بھر کے کارافتاء و قضاء کی ذمہ داری و جوابدہی آپ کے سپرد کی اور آپ کا دارالافتاء جامعہ مدینۃ الاسلام دی ہیگ قرار دیاگیا۔ چونکہ آپ کا مستقل قیام آمسٹرڈم میں تھا جہاں سے روزانہ جامعہ آناجانا متعذر تھا ۔لہٰذا علامہ موصوف علیہ الرحمہ نے یہ ذمہ داری الحاج عبدالسبحان مرحوم عرف حاجی جھام کے سپرد کی کہ ہفتہ میں دو دنوں مفتی صاحب کو جامعہ میں لائیں اور پہونچائیں۔ جو سلسلہ بہت دنوں تک چلتارہاپھر یہ بات طئے پائی کہ تحریری سوالات آمسٹرڈم ہی بھیج دیئے جائیں۔ چنانچہ اب تک یہی طریقہ جاری ہے۔
پھر ۱۹۹۹؁ء میں اسلامک فاؤنڈیشن نیدرلینڈ (تنظیم القرآن) اور مجلس رضا نیدر لینڈ کے قیام و رجسٹریشن کے بعد ان دونوں تنظیموں کے دارالافتاء اور دارالقضاء کی ذمہ داری بھی آپ کے سرآگئی۔اور جب مجلس علماء کے دارالقضاء نیدرلینڈکا قیام عمل میں آیاتو اسکے بھی افتا و قضاء کی ذمہ داری آپ کے سر آ گئی۔
  اس طرح سے تقریباً ساٹھ سالہ خدمات افتاء کا سہرا آپ کے سر بندھتاہے۔ موجودہ دورمیں ایسے ماہر ومشاق خادم افتاء شاید باید ہی نظرآتے ہیں۔

اسفارعالم:
ہالینڈ کے سفرسے پہلے آپ ’’سیروافی الارض‘‘ کے تحت سفر وسیاحت برائے تبلیغ و اشاعت بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ اور اسی وجہ سے آبائی وطن کو جب سے چھوڑا ہے تب سے سفرہی سفرمیں رہے کبھی تعلیم حاصل کرنے کے غرض سے توکبھی تعلیم دینے کے غرض سے۔ کبھی تقریر کی غرض سے تو کبھی تبلیغ کی غرض سے گویا اب تک سفرمیں ہی ہیں اور وہ بھی تبلیغ واشاعتِ دین کے لئے سے۔ آپ اپنی ایک تصنیف کائنات آرزو المعروف بہ زیارات مقدسہ میں رقمطراز ہیں کہ سفرکرنے کا مجھے بچپن ہی سے شوق تھا۔ جب میرے اس شوق کو حضورمفسراعظم ہند علیہ الرحمہ نے محسوس فرمایا ۔تو بریلی سے کہیں بھیباہر سفر پر جاتے تو آپ مجھے اپنے ہمراہ ضرو ر لے جاتے اور اس طرح آپ کو اکستاب فیض کا اچھا موقع ہاتھ آتا۔جب آپ بریلی شریف سے پوگھریرا آگئے تو حضور مفسراعظم ہندعلیہ الرحمہ جب کبھی بہار یا اس کے مضافات میں آتے تو آپ کو ضرور بلوایا جاتا۔
اسی شوق کو اللہ نے قبولیت کا شرف بخشا اور آپ ہالینڈ جاپہونچے۔ پھر تو سفرکا ایک سلسلہ جاری ہوگیا۔ جرمنی، فرانس، پیرس، لندن، سوئٹزرلینڈ، فین لینڈ،برلن،پولینڈ، اسپین، پرتگال، روم، ترکی، مراکش، عراق، لیبا، سعودیہ، دبئی، بحرین، اندؤنیشیا، ملیشیا اور نہ جانے کتنے ایسے ممالک ہیں جن کا سفرآپ نے فرمایا اور نصیحت آموز واقعات کو آپ نے ’’ کائنات آرزو‘‘ میں تحریر فرمایاہے۔

زیارت حرمین شریفین:
سب سے پہلا حج آپ نے  ۱۹۸۲؁ء  میں کیا۔ اس وقت لوگ ہوائی جہاز سے حج کے سفر پر کم جاتے تھے نسبتاً پانی جہاز سے اکثرجایا کرتے تھے۔ پندرہ بیس دنوں کے سمندری سفر کو طے کرنے کے بعد آپ جدہ پہونچے۔ اثنائے سفر آپ نے ایک کتاب بھی تحریر فرمائی ’’حیات مفسراعظم‘‘ جو حضور مفسراعظم ہند علیہ الرحمہ کی حیات وخدمات پر سب سے پہلی تصنیف لطیف ہے۔ جو مقبول خواص و عوام ہوئی اورجو ابتک خراج تحسین حاصل کررہی ہے۔
اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ بار حج بیت اللہ وزیارت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور متعدد عمروں سے نوازا۔ ایک حج میں راقم الحروف بھی آپ کے ساتھ تھا۔ بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا۔ایک مرتبہ جب ہم دونوں مدینہ شریف میں مسجد نبوی میں داخل ہورہے تھے تو آپ نے فرمایا حج تو ایک بار فرض ہے جسے میں نے۱۹۸۲؁ء میں اداکرلیا ہے۔ اب تو حج کے بہانے سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنا مقصود ہوتاہے ۔پھراعلیٰ حضرت کے اس شعرکو پڑھنے لگے ۔

ان  کے  طفیل   حج  بھی خدانےکرادیا
صل مراد حاضری اس پاک در  کی  ہے

تصنیفی وتالیفی خدمات:
آپ تحریری میدان میں بھی یکتا ئے روزگار نظرآتے ہیں آپ کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپنے ہی سے تھا۔ دورطالب عالمی میں جب بھی کبھی تحریری مقابلہ ہوتا تو آپ اس میں ضرور شرکت فرماتے اور اکثر انعاموں کے مستحق ہوتے۔ چنانچہ دور طالب علمی میں آپ نے ایک کتاب تحریر فرمائی جس کا نام رکھا شبستان دیوبند جواب محفوظ نہیں ہے۔ آپ کو نعت گوئی میں بھی کافی دلچسپی ہے او اس فن میں آپ کو استاذ الشعراء کا لقب بھی حاصل ہے۔جب کہ آپ نے فنِ شاعری میں شرفِ تلمذ کسی سے حاصل نہیں فرمائی۔
چنانچہ جب آپ دارالعلوم مشرقیہ حمیدیہ  دربھنگہ میں مقیم تھے تو ایک کمبخت دیوبندی سرپھرے شاعر(رند رجیمی) نے ایک کتاب بنام بریلویت اپنی کتابوں کے آئینے میں لکھی جو پوری نظم پر مشتمل تھی اس شاعر نے توہین رسالت میں اور بزرگانِ دین کی بے عزتی کرنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی تھی۔ ساتھ میں اس شاعر نے یہ بھی دعویٰ اور چیلینج کیا کہ ہے کوئی سنی عالم جو اس کتاب کاجواب لکھ سکے ۔ تو آپ نے اس بدزبان کے منہ میں لگا م دینے کیلئے اتنے بہترین اسلوب میں نظم کی ایک جوابی  کتاب تحریر فرمائی کہ دشمنانِ رسول انگشت بدنداں ہوگئے۔ اور آج تک اس کتاب ’’تازیانہ‘‘ کا جواب نہ دے سکے۔ اس کتاب پر حضورتاج الشریعہ علامہ مفتی اختررضاخان ازہری میاںصاحب قبلہ نے دعائیہ کلمات کی مہر بھی ثبت فرمائی ہے۔
نیپال کے دوران ِ قیام راجہ برندر بیر بکرم شاہ دیب کی تاجپوشی کے موقع پر مختلف نظموں پر مشتمل ایک کتاب بنام پھلواری آپ نے ترتیب دی جس کا نیپالی زبان میں تربھون یونیورسیٹی کے زبان و ادب کے پروفیسر نے ترجمہ کیااور جس کتاب پر اردو ادب کے مشہور شاعر فراق گورکھپوری نے تقریظ لکھی۔ نیپال کے سابق راجہ مہندر بیر بکرم شاہ دیب نے ذوق و شوق کے ساتھ اس کا مطالعہ کیااور ایک مخصوص خط میں اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور انعام کی خوشخبری دی۔
آپ نے بہت سارے ماہنامے کی بھی ادارت سنبھالی مثلاً اجمیرشریف سے شائع ہونے والا’’سلطان الہند‘‘ کلیر شریف سے شائع ہونے والاماہنامہ’’کاشانۂ صابری‘‘ ادارۂ شرعیہ پٹنہ سے شائع ہونے والا ’’رفاقت‘‘ پندرہ روزہ وغیرہ۔
ویسے تو آپ نے جتنی کتابیں لکھی ہیں ان میں سے اکثر چھپ چکی ہیں یا چھپنے کے لئے تیار ہیں لیکن جو ابھی تک مسودہ کی شکل میں ہین ان کی بھی تعداد درجنوں تک ہے۔ آپ کی تحریر کو لوگوں نے اتنا پسند کیاکہ وہ مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔ اور کتنوں پر ترجمہ کا کام ہنوز جاری ہے۔ مناسب معلوم ہوتاہے کہ آپ کی تصانیف لطیفہ کی ایک فہرست ناظرین کرام کے استفادہ کے لئے پیش کروں۔

نثرمیں بزبان اردو:
(۱) قرآنی تعلیم حصہ اول
(۲) قرآنی تعلیم حصہ دوم
(۳) قرآنی علوم
(۴) ضیائے تصوف
(۵) فتویٰ نویسی کے رہنما اصول
(۶) مکالمۂ حق وباطل
(۷) مسائل حج وزیارت
(۸) کائناتِ آرزو المعروبہ زیارات مقدسہ
(۹)  قادیانی دھرم
(۱۰)  کتاب الدعوات المعروف بہ قرآنی عملیات
(۱۱)  حج وزیارت کی دعائیں
(۱۲)  حج کے مسائل مع زیارات حرمین شریفین (مع تحقیق وتخریج وتصاویر)
(۱۳)  غوث بنگالہ
(۱۴)  سوانح غوث بنگالہ (جدید ترتیب اور مزید حذف واضافہ کے ساتھ)
(۱۵)  حیات مفسراعظم ہند (مختصر)
(۱۶)  حیات مفسراعظم (تفصیلی حیات و خدمات)
(۱۷)  تعویذات سیفی
(۱۸)  نقوش قادریہ (جدید ترتیب اور بیاض حامدی کے اضافہ کے ساتھ)
(۱۹)  جبین ِ امامت کا آخری سجدہ (امام عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت طیبہ)
(۲۰)  فتاویٰ یورپ
(۲۱)  فتاویٰ شرعیہ (سات جلدوں میں)
(۲۲)  نیت نامہ (کلاں)
(۲۳)  فتاویٰ واجدیہ (زیرطباعت )
(۲۴)  تمہید ایمان
(۲۵) قرآنی ترجموں کا تقابلی جائزہ

نثرمیں بزبان انگریزی:
(۱)  قادیانی دھرم
(۲)  فتاویٰ یورپ (زیرطباعت)
نثرمیں بزبان ہندی
(۱)  قادیانی دھرم (زیرطبات)
(۲)  فتاویٰ یورپ (زیرطباعت)(۳)  حیات مفسراعظم (زیرطباعت)
(۴)  کائنات آرزو (زیرطباعت)

نثرمیں بزبان ڈچ:
(۱) قادیانی دھرم
(۲) مسائل حج وزیارت
(۳) حج وزیارت کی دعائیں
(۴)  کتاب الدعوات (زیرطباعت)
(۵) تین طلاقیں
(۶)  امام احمدرضا
(۷)  حضور غوث اعظم عبدالقادر جیلانی
(۸) نیت نامہ (کلاں)
(۹) تمہیدایمان۔

نظم میں بزبان اردو:
(۱) تنویر نیر
(۲) نقش دوام
(۳) تازیانہ
(۴)  پھلواری(ترجمہ بزبان نیپالی)

نظم میں بزبان ڈچ:
(۱)  تنویرنیر
آپ کی ان تحریری کاوشوں کا بھی ذکر قارئین کے لئے مفید ثابت ہوگاکہ ۔ آپ نے اپنے پیر ومرشد حضور مفسراعظم ہند علیہ الرحمہ کی چندکتابوں کی تسہیل فرمائی ہے جو اس دورکا اہم تقاضہ ہے تاکہ عوام الناس آسان اردو کے ذریعہ بزرگوں کی کتابوں کو سمجھ سکے۔ ویسے توآپ نے یہ عزم فرمایا ہے کہ جہاں تک ہوسکے گا رضویات سے متعلق (یعنی اعلیٰ حضرت ودیگر خانوادۂ رضویہ کے بزرگوں کی کتابیں) جتنی بھی کتابوں کی تسہیل ممکن ہو گی ان کی تسہیل کرکے عوام الناس کے درمیان عام کی جائے۔
البتہ تسہیل شدہ مطبوعہ کتابیں مندرجہ ذیل ہیں:
(۱)  فضائل درودشریف ازحضور مفسراعظم
(۲) نعمت اللہ از حضور مفسراعظم

آپ کے  مبیضے کی تفصیل درج ذیل ہیں:
(۱) لاؤڈ اسپیکر پر آذان واقامت اور نماز کی شرعی حیثیت۔
(۲)  ڈاڑھی کی شرعی حیثیت۔
(۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج جسمانی یا روحانی۔
(۴) علم غیب کی حقیقت
(۵) آذان ثانی کی شرعی حیثیت اور اس کا مقام
(۶) مروجہ میلاد کی شرعی حیثیت
(۷) بیاضِ حامدی مع اضافہ
(۸) سودکا مسئلہ

آپ کے مسودہ کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
(۱)   رویتِ ہلال سے متعلق علمائے احناف کا مذہب
(۲)  شفق احمر اورشفق ابیض کی تحقیق
(۳)  عقائد بدمذہباں
(۴)  وصایا واجدیہ

تنظیمی وملی خدمات:
آپ کا ذہن ہمیشہ تنظیمی و ملی خدمات کی طرف مائل رہا۔ چنانچہ آپ نے درجنوں مکاتب ،مدارس، مساجد اور تنظیموں کی بنیاد رکھی اور درجنوں اداروں کی سرپرستی فرمارہے ہیں۔

قائم کردہ ادارے:
(۱)   مدرسہ واجدیہ عید گاہ ، سن ریلے آسنسول، بنگال
(۲)  مدرسہ ضیاء العلوم ،علیم آباد اہیاری دربھنگہ،بہار
(۳)  الجامعۃ الواجدیۃ ،موسیٰ پور ترونی، دربھنگہ،بہار
(۴)  واجد ویلفیئر ٹرسٹ (رجسٹرڈ) دربھنگہ ،بہار
(۵)  واجد جونیئر اسکول (انگلش میڈیم) دربھنگہ ،بہار
(۶)  واجد کمپیوٹر سینٹر، دربھنگہ ،بہار
(۷)  المؤسسۃ الواجدیۃ ،برائے نشرواشاعت کتب دہلی،انڈیا
(۸)  القرآن اسلامک فاؤنڈیشن نیدرلینڈ
(۹)  مجلس رضا، نیدرلینڈ۔
(۱۰)  مسجد ، علیم ا باداھیاری، دربھنگہ
جن اداروں کو آپ کی سرپرستی حاصل ہے ان کی تعداد تو بہت ہیں لیکن عدم معلومات کی بنیاد پر میں جن اداروں کو جانتاہوں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(۱)  مرکزی ادارۂ شرعیہ پٹنہ بہار (آپ ادارہ کی سرپرستی فرمانے کے ساتھ ساتھ وہاں کے امین شریعت ثالث کے منصب علیا پر بھی فائز ہیں)
(۲)  دینی تعلیمی مرکز، کولکاتا ،بنگال
(۳)  مدرسہ اسلامیہ، غنی پورترونی، دربھنگہ
(۴)  نوری مسجد،آمسٹرڈم، ہالینڈ
(۵)  ادارۂ کنزالایمان، سرینام، ساؤتھ امریکہ 
(۶)  مسجد شاہی  جامع مسجد، دربھنگہ،بہار

خلافت واجازت:
آپ کو مختلف سلاسل کے بزرگوں سے اجازت وخلافت حاصل ہے۔ ان میں جن کے اسمائے گرامی مشہورومعروف ہوئے ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں:
(۱)   حضورمفسراعظم ہند حضرت علامہ شاہ ابراہیم رضاخان عرف جیلانی میاں علیہ الرحمۃ والرضوان۔ حضورمفسراعظم ہند کے حکم پر جب آپ بریلی شریف تشریف لائے تو فراغتِ علمیہ کے بعد ہی یعنی ۱۹۵۷؁ء میں آپ کو حلقۂ ارادت میں حضور مفسراعظم ہند نے داخل کرلیا اور نہ صرف یہ کہ مریدبنالیا بلکہ مرید بنانے کے ساتھ ساتھ خلافت واجازت رضویہ سے بھی تحریری طور پر نوازا اور اپنے دستار مبارک اور جبّہ کو آپ کے سپرد فرمایا۔
(۲)   حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی الشاہ مصطفیٰ رضاخان علیہ الرحمۃ والرضوان۔ ایک مرتبہ آپ آرام فرمارہے تھے تو آپ نے خواب میں دیکھاکہ آپ مسجد رضا میں ہیں اور اپنے اوراد ووظائف میں مشغول ہیں تبھی حضور مفتی اعظم ہندعلیہ الرحمۃ رضا مسجد میں داخل ہوئے اور آپ سے معانقہ فرمایا اور ایک خوبصورت لُنگی عنایت فرماتے ہوئے دعائیں دیں۔ بعدہٗ آپ خواب سے بیدار ہوئے۔ توفوراً تیار ہوکر اپنے مرشدومربی حضورمفسراعظم ہندعلیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور خواب کی تعبیردریافت فرمائی۔حضور مفسراعظم علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ عبدالواجد آپ کی قسمت بہت بلند ہے خود حضورمفتی اعظم ہند آپ کو خلافت سے نوازنا چاہتے ہیں۔
لہٰذا آپ بارگاہِ  مفتیٔ اعظم ہندمیں تشریف لے گئے ۔حضور مفتی اعظم ہند اپنے الطافِ کریمانہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کو اپنی تپائی کے ایک دم قریب بٹھایا اور اپنے عمامہ شریف اور جبہ شریف کو آپ کے حوالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کو میں ان تمام سلاسل واوراد و وظائف کی اجازت و خلافت عطا کرتا ہوں جو مجھے میرے مرشد برحق سے ملے۔حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے دوسری بار اجمیر شریف میں حضرت مولانا حافظ حاجی حمید الرحمن صاحب پوکھریروی کے ہمراہ آپ کو اپنی اجازت و خلافت سے نوازا۔
(۳)   شہزادۂ قطب مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن علیہ الرحمۃ والرضوان۔جب آپ نے باب مجیدی سے انتقال مکانی فرمایا تو تیسری ملاقات میں انہوں نے خلافت ضیا ئیہ رضویہ تحریری طور پر عطا فرمائی
(۴)   مخدوم زماں حضرت الشاہ الصوفی سیدنا احمدشاذلی عورفی علیہ الرحمۃ والرضوان ان سبھی بزرگوں کے علاوہ اور بھی بہت ایسے مشائخ عظام ہیں جنہوں نے اپنے سلاسل و اوراد وظائف کی اجازت وخلافت مرحمت فرماکر آپ کو سرفراز فرمایاہے ۔  آپ اپنے وصایا واجدیہ میں تحریرفرماتے ہیں جوکہ تواضع و انکساری کی انمٹ مثال ہے۔ فرماتے ہیں: بعض صاحب سلسلہ بزرگوں نے محض الطاف کریمانہ کی وجہ سے عامۃ المسلمین کو داخل سلسلہ کرنے کی اجازتیں دیں لیکن میں اپنی عدم اہلیت کی وجہ سے سلسلۂ ارشاد وتبلیغ کو فروغ نہیں دے سکا۔ پھربھی چند لوگ وابستہ ہوگئے، مولیٰ تبارک وتعالیٰ ان سب کو کامیاب فرمائے اور میرے لئے ذخیرہ آخرت بنائے ۔آمین
  مجھے جن اوراد وسلاسل کی اجازتیں اپنے مشائخ عظام وپیران کرام (حضور سیدنا مفسراعظم ہند، حضور سیدنا سرکار مفتی اعظم ہند، شہزادہ قطب مدینہ مولانا فضل الرحمن، مخدوم محترم سیدنا احمدشاذلی …… وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ) سے حاصل ہوئیں ان سب کا عزیزم مولوی فیضان الرحمن سبحانی کو ماذون و مجاز بناتا ہوں اور بشرطِ علم وعمل ان کو اپنا جانشین مقرر کرتا ہوں تاکہ وہ اسلاف کے فیوضِ روحانی کے ذریعہ عامۃ المسلمین کو مستفیض کریں اور خیرالناس من ینفع الناس پر عمل کرتے ہوئے عامۃ مسلمین کی نفع رسانی پر اپنا وقت صرف کریں اور کبھی کبھی مجھے بھی دعواتِ صالحہ میں یاد کرلیاکریں۔

مسلک اعلیٰ حضرت کی تبلیغ واشاعت:
آپ اپنی کم عمری سے اب تک مسلک حق مسلک اعلیٰ حضرت کی تبلیغ و اشاعت میں لگے رہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کا شمار اکابر علماء اہل سنت میں ہوتا ہے۔ جب کبھی بھی مسلک اعلیٰ حضرت کو کسی بدمذہب سے نقصان پہونچتاہے توآپ شمشیربے نیام نظرآتے ہیں جیساکہ آپ کی تصانیف وتالیفات سے واضح ہوتا ہے اور نیچے کی تحریر سے قارئین پر واضح ہوگاکہ آپ مسلک اعلیٰ حضرت کے کتنے سچے اور پکے وفادار سپاہی ہیں۔
چنانچہ آپ وصایا واجدیہ میں فرماتے ہیں:
’’ میں اپنی اولاد،اولاد در اولاد، مریدوں، شاگردوں اور مذہبی رابطہ رکھنے والوں کو تاکید شدید کرتاہوں کہ وہ مذہب حق اہل سنت وجماعت پرتاحین حیات مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں۔ اور مسلک امام احمدرضا بریلوی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ دنیاوی و دینی تمام مسائل میں علماء اہل سنت وجماعت یعنی مسلک اعلیٰ حضرت کی طرف رجوع کیا کریں۔
   وماتوفیقی الاباللہ
مرتب فتاویٰ شرعیہ
فیضان الرحمن سبحانی
صدرمفتی ومہتمم الجامعۃ الواجدیۃ موسیٰ پور ترونی، دربھنگہ،بہار
پیش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔