بدھ، 19 دسمبر، 2018

Khanwada E Barkaatiya Awr Mashaikh E Chisht




خانوادۂ برکاتیہ اور فیضان چشت
یہ مضمون علامہ اسید الحق قادری بدایونی علیہ الرحمہ کی کتاب تحقیق و تفہیم سے پیش کیا گیا ہے
پیش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم

پورب کا قصبہ بلگرام بڑا مردم خیز واقع ہوا ہے- جلیل القدر علما عظیم المرتبت اہل تصوف و سلوک، بلند پایہ مصنفین و مؤلفین اور ادبا و شعرا کا مولد و مسکن رہا ہے- یہاں کے ارباب فضل و کمال کی شہرت ہندستان کی سرحدوں سے نکل کر پورے عالم اسلام میں پھیلی اور ایک عالم نے اس کے دریائے علوم ظاہر و باطن سے فیض حاصل کیا-
بلگرام میں سادات زیدیہ کا خانوادہ اپنی شرافت و نجابت، فضل و کمال، علم حقائق و معارف، خدمت دین و مذہب اور مخلوق خدا کی ظاہری و باطنی اصلاح کے میدانوں میں اپنی ایک نمایاں شان اور خصوصی امتیاز رکھتا ہے- اسی خانوادہ کی عظیم و جلیل شخصیات حضرت میر عبدالواحد بلگرامی اور میر غلام علی آزاد بلگرامی علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں-
حضرت میر عبدالواحد بلگرامی عہد اکبری کے امام تصوف اور نامور شیخ طریقت ہیں، علم تصوف و سلوک میں آپ کی مشہور زمانہ کتاب سبع سنابل کے بارے میں اہل کشف و حال نے فرمایا کہ یہ کتاب بارگاہ رسالت میں درجۂ قبولیت رکھتی ہے- آپ کے فرزند حضرت میر عبدالجلیل بلگرامی نے بلگرام کی سکونت ترک فرما کر مارہرہ (ضلع ایٹہ، یوپی) کو اپنی اصلاحی اور تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنایا-
آپ کے پوتے صاحب البرکات سیدنا شاہ برکت اللہ مارہروی نے باقاعدہ مارہرہ میں سکونت اختیار کی اور رشد و ہدایت کے لیے خانقاہ کی بنیاد ڈالی، یہی خانقاہ آج پورے عالم میں قانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کے نام سے جانی جاتی ہے- یوپی کا یہ گمنام قصبہ صاحب البرکات کی نسبت اور ان کے فیض سے آج طریقت و معرفت اور رشد و ہدایت کی علامت بن گیا ہے- مارہرہ کے تعلق سے بدایوں کے ایک شاعر نے بڑی سچی بات کہی ہے ؎
بجستجوئے مرشد چوں دویدیم
بجز مارہرہ مارہرہ ندیدیم
صاحب البرکات کے سلسلۂ اخلاف و خلفا میں ہر زمانے میں عظیم المرتبت ہستیاں جلوہ گر ہوتی رہیں، جنھوں نے اپنے اپنے عہد میں میدانِ ظاہر و باطن میں ملت کی قیادت و رہنمائی کی- اس سلسلۃ الذہب میں قطب الوقت شمس الدین ابوالفضل آل احمد اچھے میاں مارہروی قدس سرہٗ کی ذات گرامی وہ نمایاں امتیاز و خصوصیت رکھتی ہے جن کو بجا طور پر ’’شمس مارہرہ‘‘ اور ’’فخر خاندان برکات‘‘ کہا جاتا ہے-
خانوادہ برکات کا ایک خصوصی امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں ہر دور میں شریعت و طریقت کی جامع شخصیات ظاہر ہوئیں، آخری دور میں تاجدار مارہرہ سیدنا شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کی ذات گرامی فخر اسلاف بن کر سامنے آئی، جس کے ذریعے سے فیضان برکاتیت دور دور تک پہنچا-
اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اصلاح احوال کے سلسلے میں خانقاہوں اور صوفیاے کرام کی جلیل القدر خدمات ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے تاریخ کے واقف کار کو انکار کی گنجائش نہیں ہے، بالخصوص برصغیر ہند و پاک میں جو آج کلمۂ توحید کی صدائیں گونج رہی ہیں، ان میں خانقاہوں کی تبلیغی مساعی اور صوفیاکی بے لوث دعوتی کوششوں کا ایک بڑا حصہ ہے- ہند و پاک میں تبلیغ اسلام کی کوششوں کا منصفانہ جائزہ لیا جائے تواس حقیقت کے اعتراف میں کسی منصف مزاج کو باک نہیں ہونا چاہیے کہ اس میں سلسلۂ چشت اہل بہشت کے صوفیا اور چشتی خانقاہوں کی عظیم الشان اور مخلصانہ خدمات کو بڑا دخل ہے، یوں تو تمام سلاسل کے بزرگوں نے اپنے اپنے انداز میں تبلیغ اسلام، دعوت و ارشاد اور اصلاح احوال کے لیے مخلصانہ جد و جہد کی ہے مگر یہ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ برصغیر ہند و پاک میں چشتی خانقاہوں کو ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے- سلسلۂ چشتیہ کی ہندوستان آمد اور اس کی نشر و اشاعت کے سلسلہ میں علامہ شمس بریلوی لکھتے ہیں:
’’چشتی سلسلہ کی برصغیر پاک و ہند میں ابتدا خواجۂ خواجگاں معین الدین سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے پاک انفاس سے ہوئی اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت قدوۃ الاولیا حضرت بابا مسعود فرید الدین گنج شکر اور آپ کے عظیم جانشین خواجہ نظام الدین اولیا قدس اللہ اسرارہم نے چشتی سلسلہ کی ترویج میں جو کوششیں فرمائیں وہ تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں- حضرت نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت سید محمود المعروف بہ چراغ دہلوی نے بذاتِ خود جس پامردی سے حکومت وقت کی ایذا رسانیوں کا مقابلہ کیا وہ تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں- آپ کے خلیفۂ نامور حضرت سید محمود گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ نے دکن کی سرزمین میں پہنچ کر اپنی روحانی عظمتوں کا لوہا منوا لیا اور آپ کے انفاسِ قدسیہ سے چشتی سلسلہ کو دکن میں بڑا فروغ حاصل ہوا اور آج تک اس سلسلہ کی برکات وہاں جاری و ساری ہیں- آگرہ اور اودھ میں رُدولی شریف کے بزرگوں اور صابری سلسلہ نے جو چشتیہ سلسلہ کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں، ہر طرف ظلمت کو مٹاکر نور پھیلایا- فتح پور سیکری کے عظیم چشتی بزرگ حضرت سلیم چشتی مغلیہ سلاطین اعظم کے سروں کا تاج تھے‘‘- (مقدمہ فوائد الفواد، ص: ۷،۸)
سلسلہ خواہ قادری ہو یا چشتی، سہروردی ہو یا نقشبندی ان تمام سلام کی انتہا بارگاہ رسالت مآب ﷺ تک ہوتی ہے- وہی تمام سلاسل کے امام ہیں اور سب اہل سلاسل انھیں کے نائبین و وارثین ہیں-
محترم حامد بخش بدایونی مرحوم نے بڑے پتے کی بات کہی ہے :
یہ سب گل ہیں گلزار طیبہ کے حامد
کوئی قادری ہے، کوئی سنجری ہے
صاحب البرکات سیدنا شاہ برکت اللہ مارہروی قدس سرہٗ اپنے والد محترم سیدنا شاہ اویس بلگرامی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور والد گرامی نے آپ کو سلاسل خمسہ یعنی قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ اور مداریہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی- اگرچہ حضرت سیدنا اویس بلگرامی نے حضرت صاحب البرکات کو ان تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی، مگر صاحب البرکات نے اپنے والد گرامی سے سلسلۂ چشتیہ نظامیہ میں ہی بیعت کی تھی (مدائح حضور نور، ص:۲۷، غلام شبر قادری)- یہ اس لیے کہ خاندان بلگرام گو کہ تمام سلاسل موجود تھے لیکن بلگرامی مشائخ پر نسبت چشتیت غالب تھی اور ان حضرات نے سلسلۂ چشتیہ ہی کا اجرا کیا اور عموماً اسی میں بیعت لیا کرتے تھے- حضرت میر عبدالواحد بلگرامی مشہور چشتی بزرگ عارف باللہ حضرت مخدوم صفی سائی پوری سے شرف بیعت رکھتے تھے، جو ظاہر ہے کہ سلسلۂ چشتیہ ہی میں تھی- حضرت میر صاحب کو خلافت اپنے پیر بھائی سید شاہ حسین سکندر پوری سے تھی- لہٰذا بلگرام سے اسی سلسلۂ مخدوم صفی کا اجرا کیا گیا اور حضور صاحب البرکات کو اپنے والد گرامی کے واسطے سے ابتدائے سلوک میں اسی سلسلۂ چشتیہ کا فیض پہنچا- گویا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ’’خانقاہ برکات‘‘ کی اولین بنیادیں اسی نسبت چشت اہل بہشت پر قائم ہیں اور اس نسبت چشتیت کا فیض آج بھی سلسلۂ برکاتیہ میں جاری و ساری ہے- والد محترم سے اجازت و خلافت حاصل کرنے کے بعد صاحب البرکات مجاہدات اور ریاضت کی طرف مائل ہوئے، یہ وہ دور تھا جب نورالعارفین سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی قدس سرہٗ مسند رشد و ہدایت پر جلوہ گر تھے، صاحب البرکات نے آپ کا شہرہ سنا اور شوق زیارت میں کالپی شریف کی طرف رخت سفر باندھا، جب آپ کالپی شریف حاضر ہوئے اور سیدنا شاہ فض اللہ کی نگاہ آپ پر پڑی تو انھوں نے صاحب البرکات کو سینے سے لگایا اور فرمایا :
’’دریا بدریا پیوست‘‘ - (ایک دریا دوسرے دریا میں سما گیا)
یہ جملہ آپ نے تین بار فرمایا :
سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی کی فیض صحبت کے نتیجہ میں آپ نے مقامات سلوک طے کیے، آپ خود فرماتے ہیں :
’’روز ازل نصیبۂ عشقی ز راہ عشق
باشاہ کالپی ہمہ پیماں نوشتہ اند‘‘
سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضور صاحب البرکات کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی، مشائخ کالپی پر نسبت قادریت غالب تھی، اس لیے صاحب البرکات نے کالپی سے واپس آ کر سلسلۂ قادریہ کا اجرا فرمایا اور آج بھی خانوادۂ برکات اور اس کی فیض یافتہ خانقاہوں سے اسی سلسلۂ قادریہ کالپویہ میں بیعت لی جاتی ہے-
صاحب البرکات کو اپنے والد سیدنا شاہ اویس بلگرامی سے جس آبائی سلسلہ کی جازت و خلافت حاصل تھی اس کو سلسلۂ قدیمہ کہا جاتا ہے اور کالپی شریف سے جن سلاسل کی اجازت عطا فرمائی گئی ان کو سلاسل جدیدہ کہا جاتا ہے-
خانوادہ برکات کا سلسلۂ قدیمہ ہو یا سلسلۂ جدیدہ دونوں میں خواجۂ خواجگاں سلطان الہند غریب نواز کے واسطے سے فیضان چشت موجود ہے-
خانوادۂ برکات میں فیضان چشت جس آبائی سلسلہ سے آیا ہے وہ اس طرح ہے :
(۱) سیدنا شاہ برکت اللہ مارہروی
(۲) سیدنا شاہ اویس بلگرامی
(۳) سیدنا شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی
(۴) سیدنا شاہ میر عبدالواحد بلگرامی
(۵) سیدنا شاہ حسین سکندر آبادی
(۶) حضرت مخدوم صفی
(۷) حضرت شیخ سعد الدین خیرآبادی
(۸) حضرت شاہ مینا لکھنوی
(۹) حضرت شیخ سارنگ مجھگواں شریف
(۱۰) حضرت سید صدر الدین عرف راجو قتال
(۱۱) حضرت سید جلال الدین مخدوم جہانیاں
(۱۲) حضرت خواجہ نصیر الدین عرف چراغ دہلی
(۱۳) سلطان المشائخ محبوب الٰہی نظام الدین اولیا بدایونی
(۱۴) سیدنا شاہ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ
(۱۵) قطب الاقطاب خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ
(۱۶) خواجۂ خواجگاں سلطان الہند غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ
یہ سلسلہ چشتیہ قدیمہ کہلا تا ہے- صاحب البرکات کا سلسلۂ چشتیہ جدیدہ کالپویہ اس طرح ہے:
(۱) صاحب البرکات سیدنا شاہ برکت اللہ مارہروی
(۲) سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی
(۳) سیدنا شاہ سید احمد کالپوی
(۴) سیدنا شاہ سید محمد کالپوی
(۵) سیدنا شاہ جمال اولیا
(۶) حضرت سیدجلال بخاری
(۷) حضرت شیخ بہاء الدین
(۸) حضرت شیخ سالار
(۹) حضرت شیخ بہاء الدین جونپوری
(۱۰) حضرت شیخ فتح اللہ بدایونی
(۱۱) حضرت شیخ صدر الدین
(۱۲) حضرت خواجہ نصیر الدین عرف چراغ دہلی
(۱۳) سلطان المشائخ محبوبِ الٰہی نظام الدین اولیا بدایونی
(۱۴) سیدنا شاہ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ
(۱۵) قطب الاقطاب خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ
(۱۶) خواجۂ خواجگاں سلطان الہند غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ
خانوادۂ برکاتیہ کے صوفیا و مشائخ ہمیشہ اپنی اس قدیم نسبت چشتیت پر فخر کرتے رہے ہیں اور خانوادے سے جاری ہونے والی اجازتوں اور خلافتوں کے ذریعہ فیضان چشت کو عام کرتے رہے ہیں اور آج بھی یہ سلسلۂ خیر و برکت جاری ہے- رب قدیر و مقتدر اس سلسلۂ خیر و برکت کو تا قیامت جاری و ساری رکھے اور سلسلۂ برکاتیہ کے توسط سے قادری اور چشتی فیضان عام ہوتا رہے-
(اہل سنت کی آواز، مارہرہ شریف ۲۰۰۸ئ)

-------------

..:: FOLLOW US ON ::..


http://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg
http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpg


ٹیوٹر اپڈیٹس دیکھیں اور فالو کریں