بدھ، 19 دسمبر، 2018

Sabr Wo Istiqamat Ka Dars



صبر و استقامت کا درس

محمد بن یحییٰ تاذفی اپنی تصنیف ’’غوث جیلانی‘‘ میں یوں رقمطراز ہیں:ـ

’’جب بھوک مجھ پر بہت زیادہ گزرنے لگتی تو میں زمین پر لیٹ جاتا اور یہ آیہ کریمہ فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا پڑھتا یعنی بے شک ہر ایک سختی کے بعد آسانی ہے بے شک ہر ایک سختی کے بعد آسانی ہے پھر میں سر اٹھاتا تو میری ساری تکلیفیں دور ہوجاتیں‘‘

(تاذفی، علامہ محمد بن یحییٰ تاذفی غوث جیلانی، مطبوعۃ اشتیاق اے مشتاق پرنٹرز لاہور، ص 44)

انسان تکلیف پر صبر نہ کرتے ہوئے شکوہ و شکایت پر اتر آتا ہے۔ اس بارے میں ’’فتوح الغیب‘‘ میں یوں رقمطراز ہیں:
حضرت سیدنا غوث الاعظم بیان فرماتے ہیں کہ تمہیں کوئی بھی گزند اور تکلیف پہنچے تو کسی دوست اور دشمن سے شکایت نہ کرو اور تمہارے پروردگار نے جو کہا ہے اور جو بلا اتاری ہے اس میں اسے مبہم نہ کر بلکہ خیرو شر کا اظہار کرو کیونکہ تمہارے گمان کے مطابق بغیر نعمت کے شکر کرنے کا جھوٹ تمہارے سچ اور حال کی شکایت کرنے سے بہتر ہے کوئی شخص بھی، کوئی لمحہ بھی نعمت خداوندی سے خالی نہیں۔ ارشاد خداوندی ہے: اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو شمار نہیں کرسکو گے کتنی نعمتیں ایسی ہیں جن کا تمہیں علم نہیں ہے۔
(ص217-216)

جب ہم پر کوئی مصیبت یا پریشانی آتی ہے تو اس کو رب کی رضا سمجھ کر صبر کرنے کی بجائے ہم شکوہ و شکایت شروع کردیتے ہیں کہ ساری تکلیفیں ہمارے لیے ہی رہ گئی ہیں (کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ کفریہ جملہ ہے) یا پھر یہ کہتے ہیں کہ پتہ نہیں ہم سے کون سی غلطی ہوگئی ہے کہ اللہ کی طرف سے یہ پریشانی اور تکلیف آئی ہے لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اللہ رب العزت جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے تکلیف میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ بندہ توبہ تائب کرے اور وہ اسے معاف کردے انسان کو ایک کانٹا بھی لگتا ہے تو اس پر صبر کرنے سے اللہ رب العزت اسے گناہوں کا کفارہ بنادیتا ہے اور جب کسی سے حد درجہ ناراض ہوتا ہے تو اس کو کھلی چھٹی دے دیتا ہے جبکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ دیکھو وہ کس طرح گناہ کرکے دندناتا پھرتا ہے اور اس کی گرفت نہیں ہوتی حالانکہ اللہ رب العزت نے انبیاء کرام جو نہایت معصوم تھے اور خطاؤں سے مبراء تھے کو کس کس طرح آزمایا؟

جیسے حضرت ایوب علیہ السلام برس ہا برس تکلیف میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی رب کی حمدو ثناء میں ہمہ وقت مصروف رہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کتنے برس تک مچھلی کے پیٹ میں ذکرو اذکار کرتے رہے۔ خود ہمارے آقا علیہ السلام جو کہ محبوب رب للعالمین ہیں کس قدر مصائب میں گرفتار رہے۔ حالانکہ یہ لوگ جان و مال کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کی بھی خیرات کرچکے تھے۔ 

پھر ان پر مصائب و آلام کیوں آئے اس لیے کہ رب العزت انہیں صبر کی منزل طے کراکے درجات میں بلندی عطا کرتا ہے حالانکہ ہم تو اپنے اعمال کے باعث مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں پھر بھی وہ رب العالمین جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے مصائب پر صبر سے ہمارے نہ صرف گناہ معاف کرتا ہے بلکہ درجات بھی بلند کرتاہے۔

-------------

..:: FOLLOW US ON ::..


http://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg
http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpg

ٹیوٹر اپڈیٹس دیکھیں اور فالو کریں