اتوار، 13 جنوری، 2019

Rasool E Kareem Ki Mohabbat Awr Tazeem

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور تعظیم 

حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے محبت او ران کی تعظیم  کے بارے میں مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ اپنی مثنوی میں ایک بے حد خوبصورت واقعہ درج کرتے ہیں۔
مولانا رومی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ انجیل میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نامِ مبارک کئی مقامات پر تھا کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پیغمبروں کے سردار اور صفا کے سمندر ہیں۔ انجیل میں آپ نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حلیہ اور چہرہ مبارک کا ذکر تھا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا احوال، جہاد، روزے اور کھانے کا ذکر تھا۔ 

اس وقت عیسائیوں میں جماعتیں تھی، ایک عیسائیوں کی جماعت ثواب کےلئے جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور آپ کے ذکر پر پہنچتے تو اس متبرک نام کو بوسہ دیتے، آپ کے نامِ نامی، اسم گرامی پر اپنے چہرے رکھ دیتے، یہ گروہ  اس وقت کے ظالم بادشاہ کے خوف و خطر سے بے خوف تھا، سرداروں اور وزیروں کے شر سے مطمئن اور حضور نبی اکرم احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی پناہ میں پناہ گزیں تھا۔ان کی نسل بھی زیادہ ہو گئی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نور ان کا ساتھی اور مددگار بن گیا۔

عیسائیوں کی دوسری جماعت جب حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نام گرامی پر پہنچتی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر پر پہنچتی تو اپنے چہرے بگاڑ لیتی اور حضور نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی بے حرمتی کرتی۔ عیسائیوں کا یہ گروہ فتنوں کی وجہ سے ذلیل و خوار ہو گیا۔ ظالم بادشاہ اور بدکار وزیروں نے ملکر عیسائیوں کے اس گروہ کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔

مولانا رومی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی جب اس طرح قوموں کی مدد کرتا ہے تو حضور نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نور کس قدر مدد کر سکتا ہے؟ 
حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نام جب اس قدر مضبوط قلعہ بنا کہ عیسائیوں کے ادب کرنے والے گروہ کا ظالم بادشاہ اور اس کے فاسق وزیر اور ان کی فوجیں کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں، تو حضور نبی رحمت ، نور مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کس درجہ مدد اور رحم کرنے والی ہوگی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نے اپنا ناطہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات سے کبھی جوڑا ہی نہیں، ہم نے کبھی خود کو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں ڈالا ہی نہیں۔ ہمیں جعلی پیروں فقیروں سے فرصت ملے تو ہم حضور نبی اکرم ْصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کریں۔ 

اگر حضور حضرت داتا علی ہجویری، پیر مہر علی شاہ ، حضرت سلطان باہو، اعلیٰحضرت امام احمد رضا اور دیگر تمام اولیا اللہ اور بزرگان دین کی زندگیوں اور تعلیمات کا مطالعہ کریں تو ان کی ساری کی ساری زندگیاں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے اور محبت کا درس دینے میں گزری مگر آج آپ کسی بھی دربار پر چلے جائیں وہاں صرف اور صرف پیر صاحب کی جھوٹی اور من گھڑت کرامات بیان کی جاتی ہیں۔

 آج کچھ مخصوص نام نہاد  پیروں فقیروں نے ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے دور کر دیا یہی وجہ ہے کہ آج ہم دین و دنیا دونوں میں رسوا اور ذلیل ہو کر رہ گئے، اگر آج بھی ہم نے اپنا مرکز حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات کو نہ بنایا تو جلد ہمیں بربادی اور تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔
(منتخباتِ مشاہد سے چند اوراق)

......................

..:: FOLLOW US ON ::..



http://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg
http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpg

ٹیوٹر اپڈیٹس دیکھیں اور فالو کریں